
Zaki Tariq Barabankavi
Zaki Tariq Barabankavi
Zaki Tariq Barabankavi
Ghazalغزل
دے کے شہکار خد و خال اسے کر دیا رب نے بے مثال اسے زیب دیتا ہے یہ جلال اسے ہے ملا ایسا ہی جمال اسے وہ کسی اور کا ہوا نکلا اب تو پانا لگے محال اسے پھول کھل اٹھتے ہیں قدم بہ قدم کیا حسیں تر ملی ہے چال اسے منفرد ہو گئی ہے ذات اس کی رب نے بخشے ہیں وہ کمال اسے جیسے میں سوچتا ہوں اس کو بہت کیا مرا بھی ہے یوں خیال اسے ہر گھڑی مضمحل سا ہے رہتا جانے ہے کون سا ملال اسے
de ke shahkaar khadd-o-khaal use
جان حسن اور کائنات رنگ و بو کیا چیز ہے تیری قربت کہہ گئی اے یار تو کیا چیز ہے وصل کی بے انتہا سرمستیوں سے پوچھ لو کہ سرور آرا حصول جستجو کیا چیز ہے جان جاؤ گے تمہارا بھی کبھی ٹوٹا جو دل کہ غم و درد شکست آرزو کیا چیز ہے جتنی دلبر کی مرے شکل و شمائل ہے حسیں اتنی دل کش اور اتنی خوبرو کیا چیز ہے کیف سے لبریز اس کی چشم گیں کے سامنے ساقیا تیرا یہ مے پرور سبو کیا چیز ہے چاند ہے سورج ہے پھول و خوشبو ہے یا ہے دھنک بولو میری جاناں جیسی ہو بہ ہو کیا چیز ہے مجھ سے مت پوچھو کسی سے دل لگا کر دوستو جان لو آوارگیٔ کو بہ کو کیا چیز ہے میں خموشی کو ہی بہتر جانتا تھا اے ذکیؔ ان سے باتیں کرکے سمجھا گفتگو کیا چیز ہے
jaan-e-husn aur kaaenaat-e-rang-o-bu kyaa chiiz hai
جو سکھانا ہے تو پھر اس ڈھنگ کی باتیں سکھا کر لوں سب کے دل میں گھر ایسی مناجاتیں سکھا مجھ کو تنہا کرنے سے پہلے اے میرے ہم نفس کیسے کاٹوں گا میں تیرے ہجر کی راتیں سکھا دور سے دیدار کی بس پوری ہوں گی حسرتیں جو بنا دیں آشنا ایسی ملاقاتیں سکھا اپنے شوق گریہ سے موسم زدہ بادل کو تو کیسے بے موسم ہوا کرتی ہیں برساتیں سکھا رات کو دن کرنے والے اے مرے شاطر عزیز جیسے تو چلتا ہے یوں چلنا مجھے گھاتیں سکھا ورد نے جن کے تجھے خوشیاں ہی خوشیاں بخشی ہیں مجھ کو بھی پڑھنا محبت کی وہ آیاتیں سکھا درد دل آنکھوں میں آنسو اور تبسم پیار میں کیسے دی جاتی ہیں یہ انمول سوغاتیں سکھا میں بھی معراج محبت چاہتا ہوں جان من مجھ کو انداز محبت کی ہدایاتیں سکھا عشق سے ناآشنا ہوں تیرے جلوؤں کی قسم آ کے اپنے حسن دل کش کی مداراتیں سکھا
jo sikhaanaa hai to phir is Dhang ki baatein sikhaa
اجالوں سے تعلق جوڑ کر آہستہ آہستہ کمندیں ڈالوں گا میں چاند پر آہستہ آہستہ بنوگے تم مرے اک دن مگر آہستہ آہستہ دعاؤں میں مری ہوگا اثر آہستہ آہستہ محبت کا مرے رشک قمر آہستہ آہستہ ترے اس دل پہ بھی ہوگا اثر آہستہ آہستہ انہیں دیکھا تھا ہم نے بس اچٹتی سی نگاہوں سے مگر وہ کر رہے ہیں دل میں گھر آہستہ آہستہ میسر اک معطر پھول کی مجھ کو رفاقت ہے مرا جاری ہے خوشبو کا سفر آہستہ آہستہ نکھر آیا ہے دھیرے دھیرے تیرا حسن دل کش اب محبت سے بھی اے جاناں سنور آہستہ آہستہ ترا بدمست پریوں سا سراپا آج دیکھا تو ہوئی نبض نفس زیر و زبر آہستہ آہستہ وہ کتنے پہروں میں اور بندشوں میں ہو مگر اس تک پہنچ جائے گا میرا نامہ بر آہستہ آہستہ
ujaalon se taalluq joD kar aahista aahista
قرب کے تصور سے دوستی بنا ڈالیں رات سا سرور افزا دن کو بھی بنا ڈالیں ساتھ ساتھ جینے اور مرنے کی قسم کھا کر پہلی پہلی چاہت کو آخری بنا ڈالیں یادوں کے دیے رکھ کر عشق کے شبستاں میں آؤ اس اندھیرے کو روشنی بنا ڈالیں آشنائی کو رنگ عاشقی عطا کرکے چلئے اس تکلف کو دلبری بنا ڈالیں اور پاس آ جاناں پلکوں کو اٹھا جاناں آنکھوں کی زیارت کو مے کشی بنا ڈالیں اس کی بے وفائی کا سوگ آخرش کب تک کیوں نہ اب ہر اک غم کو ہم خوشی بنا ڈالیں اتنے دھوکے کھائے ہیں اب یہ دل میں آتا ہے ہر شناسا چہرے کو اجنبی بنا ڈالیں بازوؤں میں ہم اپنے قوت عمل رکھ کر موت کے تھپیڑے کو زندگی بنا ڈالیں
qurb ke tasavvur se dosti banaa Daalein
تری شکست کا حربہ تلاش کرتے ہیں تجھے نہیں ترے جیسا تلاش کرتے ہیں چراغ پھول شگوفہ دھنک ستارہ چاند ہم اہل ذوق بھی کیا کیا تلاش کرتے ہیں سنا ہے جب سے کہ خوشیوں کا اعتبار نہیں غموں کو لمحہ بہ لمحہ تلاش کرتے ہیں ہیں رمز عظمت تشنہ لبی سے ہم واقف ہو پہرہ جس پہ وہ دریا تلاش کرتے ہیں وہ جس کو دیکھ کے حس لطیف جاگ اٹھے وہی بدن وہی چہرہ تلاش کرتے ہیں سکوت ذات کا سناٹا اب شباب پہ ہے ہم ایک چاہنے والا تلاش کرتے ہیں وہی کہ سایہ تھا جس کا نہ کوئی ثانی تھا وہ نور نور سراپا تلاش کرتے ہیں انہیں ملی ہے وراثت میں صبر کی تہذیب جو درد میں ہی مداوا تلاش کرتے ہیں
tiri shikast kaa harba talaash karte hain





