SHAWORDS
Bismil Sabri

Bismil Sabri

Bismil Sabri

Bismil Sabri

poet
4Shayari
7Ghazal

Popular Shayari

4 total

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

اپنے غموں کی بات نہیں ہے ہنسی کی بات اس رنگ میں بھی کرتے ہیں ہم زندگی کی بات دانشوروں کی بزم میں لوگو کہاں چلے لو میری وحشتوں سے سنو آگہی کی بات اہل خرد پہ فرض ہوا سجدۂ جنوں محفل میں جب چھڑی مری دیوانگی کی بات برباد ہیں بگولے پریشاں شمیم گل پہنچی کہاں کہاں تری آوارگی کی بات کیا کیا زمانہ مجھ پہ لگائے نہ تہمتیں لہجہ بدل کے کہہ دوں اگر آپ ہی کی بات ہے اپنی اپنی سب کو ہی بسملؔ پڑی ہوئی سنتا نہیں ہے غور سے کوئی کسی کی بات

apne ghamon ki baat nahin hai hansi ki baat

غزل · Ghazal

وہ عکس بن کے مری چشم تر میں رہتا ہے عجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے وہی ستارہ شب غم کا اک ستارہ ہے وہ اک ستارہ جو چشم سحر میں رہتا ہے کھلی فضا کا پیامی ہوا کا باسی ہے کہاں وہ حلقۂ دیوار و در میں رہتا ہے جو میرے ہونٹوں پہ آئے تو گنگناؤں اسے وہ شعر بن کے بیاض نظر میں رہتا ہے گزرتا وقت مرا غم گسار کیا ہوگا یہ خود تعاقب شام و سحر میں رہتا ہے مرا ہی روپ ہے تو غور سے اگر دیکھے بگولہ سا جو تری رہ گزر میں رہتا ہے نہ جانے کون ہے جس کی تلاش میں بسملؔ ہر ایک سانس مرا اب سفر میں رہتا ہے

vo aks ban ke miri chashm-e-tar mein rahtaa hai

غزل · Ghazal

وہی ستارہ شب غم کا اک ستارہ ہے وہ اک ستارہ جو چشم سحر میں رہتا ہے کھلی فضا کا پیامی ہوا کا باسی ہے کہاں وہ حلقۂ دیوار و در میں رہتا ہے جو میرے ہونٹوں پہ آئے تو گنگناؤں اسے وہ شعر بن کے بیاض نظر میں رہتا ہے گزرتا وقت مرا غم گسار کیا ہوگا یہ خود تعاقب شام و سحر میں رہتا ہے مرا ہی روپ ہے تو غور سے اگر دیکھے بگولہ سا جو تری رہ گزر میں رہتا ہے نہ جانے کون ہے جس کی تلاش میں بسملؔ ہر ایک سانس مرا اب سفر میں رہتا ہے

vahi sitaara shab-e-gham kaa ik sitaara hai

غزل · Ghazal

وفا کو جگمگانا چاہتے ہیں ہم اپنا دل جلانا چاہتے ہیں ہمیں تم اپنے دامن میں چھپا لو مسافر ہیں ٹھکانہ چاہتے ہیں پرانے زخم بھر جانے سے پہلے نئی اک چوٹ کھانا چاہتے ہیں تمہاری یاد کے سیال موتی میری پلکوں تک آنا چاہتے ہیں در دل پر کھڑے ہیں غم ہزاروں یہ پنچھی آشیانہ چاہتے ہیں یہ آنکھیں اور بھر آتی ہیں بسملؔ اگر ہم مسکرانا چاہتے ہیں

vafaa ko jagmagaanaa chaahte hain

غزل · Ghazal

تیری صورت نہ جب دکھائی دے کوئی رستہ نہیں سجھائی دے آپ ترک تعلقات کرے آپ الزام بے وفائی دے قرب جس کا ہے زندگی میری وہ مجھے رنج نارسائی دے میں سماعت پہ بھی یقیں کر لوں تیری آواز تو سنائی دے ہجر سی لگ رہی ہے قربت بھی کون غم سے مجھے رہائی دے جانتا ہی نہیں جو نام وفا مجھ کو الزام بے وفائی دے کہاں خود کو چھپائیں اے بسملؔ وہ جو امید رو نمائی دے

teri surat na jab dikhaai de

غزل · Ghazal

سحر ہوئی تو خیالوں نے مجھ کو گھیر لیا جب آئی شب ترے خوابوں نے مجھ کو گھیر لیا مرے لبوں پہ ابھی نام تھا بہاروں کا ہجوم شوق میں خاروں نے مجھ کو گھیر لیا کبھی جنوں کے زمانے کبھی فراق رتیں کہاں کہاں تری یادوں نے مجھ کو گھیر لیا نکل کے آ تو گیا گہرے پانیوں سے مگر کئی طرح کے سرابوں نے مجھ کو گھیر لیا یہ جی میں تھا کہ نکل جاؤں تجھ سے دور کہیں کہ تیرے دھیان کی بانہوں نے مجھ کو گھیر لیا جب آیا عید کا دن گھر میں بے بسی کی طرح تو میرے پھول سے بچوں نے مجھ کو گھیر لیا ہجوم رنج سے کیسے نکل سکے بسملؔ تری تلاش کے رشتوں نے مجھ کو گھیر لیا

sahar hui to khayaalon ne mujh ko gher liyaa

Similar Poets