shaam aae aur ghar ke liye dil machal uThe
shaam aae aur dil ke liye koi ghar na ho

Akhtar Usman
Akhtar Usman
Akhtar Usman
Popular Shayari
4 totalshahr khaali hai kise eid mubaarak kahiye
chal diye chhoD ke makka bhi madina vaale
ye kaaenaat mire saamne hai misl-e-bisaat
kahin junun mein ulaT duun na is jahaan ko main
vaqt ab dastaras mein hai 'akhtar'
ab to main jis jahaan tak ho aauun
Ghazalغزل
جہاں کو خط تناسب پہ لا بنایا ہے کسی نے خاک سے دیکھو تو کیا بنایا ہے اس اہتمام سے پیکر ترا تراشتا ہوں گمان گزرے کہ جیسے بنا بنایا ہے مرے چراغ کی لو کا سفر ہوا کے خلاف مرے جنوں نے نیا راستہ بنایا ہے کسی کے مرقد خستہ سے آ رہی ہے صدا ہمارے بعد کی نسلوں نے کیا بنایا ہے
jahaan ko khatt-e-tanaasub pe laa banaayaa hai
40 views
اک سحر تحیر تھا کہ احساس کی رو تھی دن کو بھی نگاہوں میں شبیہ مہ نو تھی ہم لوگ تو وابستۂ یک تار نظر تھے معلوم نہیں اس کے سوا بھی کوئی لو تھی تب ذہن پہ ظلمات کا پرتو نہ پڑا تھا جھلمل تھے کمالات خیالات میں ضو تھی پھر خواب خرد خوار سے بیدار ہوئے تو ہر ذہن پہ زنگار تھا ہر چشم گرو تھی خس خانۂ افکار میں کچھ بھی تو نہیں تھا چند ایک شرارے تھے اور ان کی تگ و دو تھی
ik sehr-e-tahayyur thaa ki ehsaas ki rau thi
40 views
جب دور ہیں تجھ سے تو یہ افتاد بھی آئے طوفان شب دشت میں تو یاد بھی آئے حیران ہے اس بات پہ انبوہ اسیراں پر کھلنے کی تقریب میں صیاد بھی آئے ہارے ہوئے لشکر کا علم گر بھی چکا ہے اب کیا جو کسی سمت سے امداد بھی آئے اک عمر ہوئی نذر خرابات ہماری صد شکر سر قریۂ آباد بھی آئے اک بو کہ بغل گیر ہوئی دشت میں ہم سے جیسے یہاں پہلے کبھی اجداد بھی آئے
jab duur hain tujh se to ye uftaad bhi aae
وہ بھی نہ کھلا بستۂ پندار تھے ہم بھی خاموش تھا وہ صورت دیوار تھے ہم بھی حد بندیٔ احساس رہی عمر معین اور دائرۂ کار میں پرکار تھے ہم بھی اے نرگس وا چشم ترے اوج کے دن ہیں تیری ہی طرح دیدۂ بے دار تھے ہم بھی ہم بھی تھے انہی میں جو زباں سے نہ پھرے تھے پھر خلق نے دیکھا کہ سر دار تھے ہم بھی آجر سے جو اجرت ہمیں پہنچی یہی پہنچی جب قصر گرا تھا تہہ دیوار تھے ہم بھی
vo bhi na khulaa basta-e-pindaar the ham bhi
میں دیکھ ہی رہا تھا کہ یک دم بھنور پھرا گھوما صدف نگاہ میں اس میں گہر پھرا سیدھے سبھاؤ زیست سمجھنا محال ہے اس کام کو بھی چاہئے مجھ سا ہی سر پھرا ہم تو سدا سے بستۂ یک تار چشم ہیں خدشہ سا تیری سمت سے ہے تو اگر پھرا یک دم کسی کی یاد میں آنکھیں بھر آئی تھیں اک دن یوں ہی خیال سوئے چشم تر پھرا اخترؔ زر سخن کی کسی کو طلب نہیں میں تو اسے اٹھائے ہوئے در بدر پھرا
main dekh hi rahaa thaa ki yak-dam bhanvar phiraa
کس اور لے چلی ہے ہوائے نمو مجھے ملتا ہے گام گام اک آشفتہ رو مجھے کہنا تو اور کچھ تھا دم گفتگو مجھے اک اور سمت ڈال گئے رنگ و بو مجھے دونوں ہی درد کیش تھے دونوں ہی بیش تھے میں تجھ کو کم سمجھتا رہا اور تو مجھے بزم نمود و نام سجی شور سا اٹھا میں چل دیا کہ راس نہ تھی ہاؤ ہو مجھے اخترؔ بڑی کڑی تھی مسافت اور اس کے بعد مجھ پر کھلا کہ اپنی ہی تھی جستجو مجھے
kis or le chali hai havaa-e-numu mujhe

