SHAWORDS
Safi Aurangabadi

Safi Aurangabadi

Safi Aurangabadi

Safi Aurangabadi

poet
3Shayari
12Ghazal

Popular Shayari

3 total

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

اتنے تو ہم خیال دل مبتلا ہیں ہم کل جس سے خوش تھے آج اسی سے خفا ہیں ہم تجھ سے جدا نہیں ہیں جو تجھ سے جدا ہیں ہم تیرے ہی ہیں اگرچہ ترے نقش پا ہیں ہم کہتے ہیں ہم کو نیک بھی بد بھی ہزار ہا اس کی خبر نہیں ہے کہ دراصل کیا ہیں ہم رتبہ بڑھا دیا ہے جنون فراق نے ہم سے جدا ہیں آپ تو سب سے جدا ہیں ہم تاثیر اشک و آہ نے بدلا نہیں مزاج مدت ہوئی کہ شاکیٔ آب و ہوا ہیں ہم لاکھوں جفائیں سہہ کے اب آیا ہے یہ خیال ملتے ہی کیوں ہیں اس سے جو بے مدعا ہیں ہم وہ یاس بن گئی جو زمانے کی آس تھی آزردہ آج اپنے سے بے انتہا ہیں ہم جمتا ہے اپنے ذکر سے اب محفلوں کا رنگ رہتے ہیں اپنے گھر میں مگر جا بجا ہیں ہم کیا کیا عنایتیں ہیں بس اے چرخ پیر بس تیرا تصدق اب بھی کسی سے جدا ہیں ہم اب اتفاق اہل وفا تم کو کیا دکھائیں محشر میں دیکھنا کہ یہ سب ایک جا ہیں منظور امتحان دل عشق باز ہے اب اپنے واسطے بھی تو صبر آزما ہیں ہم اس پر مٹے ہوئے ہیں مٹاتا ہے جو صفیؔ دشمن کی گا رہے ہیں بڑے خوش نوا ہیں ہم

itne to ham-khayaal dil-e-mubtalaa hain ham

غزل · Ghazal

دوست خوش ہوتے ہیں جب دوست کا غم دیکھتے ہیں کیسی دنیا ہے الٰہی جسے ہم دیکھتے ہیں دیکھتے ہیں جسے بادیدۂ نم دیکھتے ہیں آپ کے دیکھنے والوں کو بھی ہم دیکھتے ہیں بے محل اب تو ستم گر کے ستم دیکھتے ہیں کیسے کیسوں کو برے حال میں ہم دیکھتے ہیں ہنس کے تڑپا دے مگر غصے سے صورت نہ بگاڑ یہ بھی معلوم ہے ظالم تجھے ہم دیکھتے ہیں لوگ کیوں کہتے ہیں تو اس کو نہ دیکھ اس کو نہ دیکھ ہم کو اللہ دکھاتا ہے تو ہم دیکھتے ہیں باغ کی سیر نہ بازار کی تفریح رہی ہم تو برسوں میں کسی دن پہ قدم دیکھتے ہیں لعل ہیرے سہی تیرے لب دنداں ادھر آ توڑ لیتے تو نہیں ہیں انہیں ہم دیکھتے ہیں شل ہوئے دست طلب بھول گئے حرف سوال آج ہم حوصلۂ اہل کرم دیکھتے ہیں میں تماشا سہی لیکن یہ تماشا کیسا مفت میں لوگ ترے ظلم و ستم دیکھتے ہیں آپ کی کم نگہی حسن بھی ہے عیب بھی ہے لوگ ایسا بھی سمجھتے ہیں کہ کم دیکھتے ہیں ہم کو ٹھکراتے چلیں آپ کی محفل میں عدو کیا انہیں کم نظر آتا ہے یا کم دیکھتے ہیں چار لوگوں کے دکھانے کو تو اخلاق سے مل اور کچھ بھی نہیں دنیا میں بھرم دیکھتے ہیں میرا ہونا بھی نہ ہونے کے برابر ہے وہاں دیکھیں جو لوگ وجود اور عدم دیکھتے ہیں آنکھ میں شرم کا پانی مگر اتنا بھی نہ ہو دیکھ ان کو جو تری آنکھ کو نم دیکھتے ہیں ہو تو جائے گا ترے دیکھنے والوں میں شمار اول اول ہی مگر اپنے کو ہم دیکھتے ہیں راستہ چلنے کی اک چھیڑ تھی تو آقا نہ آ ہم تو یہ قول یہ وعدہ یہ قسم دیکھتے ہیں دیکھنا جرم ہوا ظلم ہوا قہر ہوا یہ نہ دیکھا تجھے کس آنکھ سے ہم دیکھتے ہیں آنکھ ان کی ہے دل ان کا ہے کلیجہ ان کا رات دن جو مجھے بادیدۂ نم دیکھتے ہیں اپنا رونا بھی صفیؔ راس نہ آیا ہم کو اس کو شکوہ ہے کہ آنکھیں تری نم دیکھتے ہیں

dost khush hote hain jab dost kaa gham dekhte hain

غزل · Ghazal

وہی ہوتا ہے جو محبوب کو منظور ہوتا ہے محبت کرنے والا ہر طرح مجبور ہوتا ہے جہاں جاتے ہیں ہم اس کی گلی سے ہو کے جاتے ہیں اگرچہ راستہ اس راستے سے دور ہوتا ہے نہیں رکتے گھڑی بھر طالب دیدار کے آنسو یہ ظالم شوق گویا آنکھ کا ناسور ہوتا ہے کوئی مجنوں کی عزت عشق کی سرکار میں دیکھے بڑی خدمت پہ ایسا آدمی مامور ہوتا ہے حسینوں کا تنزل بھی نہیں ہے شان سے خالی بڑھاپے میں بھی ان لوگوں کے منہ پہ نور ہوتا ہے وہ ایسی خندہ پیشانی سے ہر معروضہ سنتے ہیں یہ سمجھے عرض کرنے والا اب منظور ہوتا ہے تجھے مشہور ہونا ہو تو عاشق کی برائی کر برائی سے بہت جلد آدمی مشہور ہوتا ہے ہمارے گھر وہ آ کر تھک گئے ہاں کیوں نہ تھک جاتے نیا رستہ جو ہو نزدیک بھی تو دور ہوتا ہے جو تم وابستۂ دامن کو سمجھے داغ بدنامی تو اب کیا دور کر سکتے ہو اب یہ دور ہوتا ہے بڑا احسان ہوگا میرے دل کا خون کر ڈالو یہی مجبور کرتا ہے یہی مجبور ہوتا ہے مجھے تم جانتے ہو عقل سے معذور ہاں بے شک محبت کرنے والا عقل سے معذور ہوتا ہے حسین ہر ایک ہو سکتا نہیں بے شک صفیؔ بے شک وہی ہوتا ہے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے

vahi hotaa hai jo mahbub ko manzur hotaa hai

غزل · Ghazal

بد گماں کیا قبر میں ارماں ترے لے جائیں گے ہم اکیلے آئے ہیں جیسے اکیلے جائیں گے کس قدر ثابت قدم ہیں رہ روان کوئے دوست جائیں گے پھر ان کی کوئی جان لے لے جائیں گے حضرت دل اور پھر جائیں نہ اس کی بزم میں جھڑکیاں دے لے کوئی الزام دے لے جائیں گے تم ستا لو مجھ کو لیکن یوں نہ ہر اک سے ملو ظلم سہہ لوں گا مگر صدمے نہ جھیلے جائیں گے اس گلی میں ڈال دو تا سنبھلیں ٹھوکر کھا کے غیر یوں بھی اک دن خاک میں آنکھوں کے ڈھیلے جائیں گے ہے دعاؤں کا اثر سنگ حوادث ہی اگر اپنے ہاتھوں پھر تو یہ صدمے نہ جھیلے جائیں گے خیر خواہوں راز داروں کی بہت نیت دیکھ لی آج سے ہم اس کی محفل میں اکیلے جائیں گے بے کسی میں کون کس کا ساتھ دیتا ہے صفیؔ ملنے والے ہیں تماشے کے یہ میلے جائیں گے

bad-gumaan kyaa qabr mein armaan tire le jaaeinge

غزل · Ghazal

ترا بے مدعا مانگے دعا کیا مرض ہے تندرستی میں دوا کیا کہیں کیا کیا کیا ہے ہم نے کیا کیا تجھے اے بے وفا قدر وفا کیا تبسم ہو جواب مدعا کیا کہا کیا آپ نے میں نے سنا کیا کہو آخر ذرا میں بھی تو سن لوں مری نسبت سنا ہے تم نے کیا کیا تمہاری مہربانی ہے تو سب ہے مرا ارمان میرا مدعا کیا نہ دیکھیں وہ تو اپنا گریہ بے سود نہ پوچھیں وہ تو اپنا مدعا کیا چلا تو بھی جو اے دل لینے والے ہمارے پاس پھر باقی رہا کیا ادائیں تم کو بخشیں ہم کو آنکھیں کرے گا اور بندوں سے خدا کیا جو مجھ کو آپ ہی در سے اٹھا دیں کوئی رکھے کسی کا آسرا کیا سمجھتے ہو جو اپنے آپ کو تم اسے سمجھے گا کوئی دوسرا کیا کھلاتے ہو قسم ضبط فغاں پر ذرا سوچو مرض کیا ہے دوا کیا مرے گھر کو تم اپنا گھر نہ سمجھو تو ایسی میہمانی کا مزا کیا صفیؔ خود بینی ٹھہرے جن کا شیوہ نظر آئے گا ان کو دوسرا کیا

tiraa be-muddaaa maange duaa kyaa

غزل · Ghazal

جو حسن و عشق سے امن و اماں میں رہتے ہیں کہاں کے لوگ ہیں وہ کس جہاں میں رہتے ہیں کلام پاک میں ہے ذکر حضرت یوسف یہ حسن و عشق ہر اک داستاں میں رہتے ہیں الٰہی اب سے حسینوں کو مہربان بنا کہ تیرے بندے انہیں کی اماں میں رہتے ہیں تمہیں تو ہو وہ جو درد و الم میں رکھتے ہو ہمیں تو ہیں وہ جو آہ و فغاں میں رہتے ہیں مجھے تو آپ سے مطلب ہے چاند سورج کون وہ ان کو چاہیں گے جو آسماں میں رہتے ہیں کدھر کدھر کے چلے آتے ہیں یہ بے وحدت کہاں کہاں کے تمہارے مکاں میں رہتے ہیں امید رنج الم ضبط درد صبر قلق یہ سب ہمارے دل ناتواں میں رہتے ہیں ہزاروں کام ہیں ایسے بھی دیکھ اے غافل کہ بعد مرگ بھی لوگ اس جہاں میں رہتے ہیں خدا سمجھ لے لگانے بجھانے والوں کو یہ خواہ مخواہ یہاں میں وہاں میں رہتے ہیں اشارے آپ کی ابرو کے کوئی کیا جانے کہ کتنے زہر کے تیر اس کماں میں رہتے ہیں ہماری خاص ترقی ہے خانہ ویرانی کبھی مکاں میں تھے اب لا مکاں میں رہتے ہیں اگر سمجھ ہے تو دل دے کے لطف زیست اٹھا ہزار فائدے اس اک زیاں میں رہتے ہیں خیال دوست میں رہتے ہیں اے صفیؔ جب تک تو اس جہاں میں نہ ہم اس جہاں میں رہتے ہیں

jo husn-o-ishq se amn-o-amaan mein rahte hain

Similar Poets