dard ko gurda taDapne ko jigar
hijr mein sab hain magar dil to nahin

Sakhi Lakhnvi
Sakhi Lakhnvi
Sakhi Lakhnvi
Popular Shayari
53 totalbaat karne mein honT laDte hain
aise takraar kaa khudaa-haafiz
aji pheinko raqib kaa naama
na ibaarat bhali na achchhaa khat
khudaa ke paas kyaa jaaeinge zaahid
gunah-gaaron se jab ye baar paaein
ki khitaabat ko gar khudaa samjhaa
banda bhi aakhir aadmi hi to hai
jiteinge na ham se baazi-e-ishq
aghyaar ke piT paDeinge paanse
tiis din yaar ab na aaegaa
is mahine kaa naam khaali hai
jis ke ghar jaate na the hazrat-e-dil
vaan lage phaand ne divaar ye kyaa
naqd-e-dil kaa baDaa taqaazaa hai
goyaa un ki zamin jote hain
bosa har vaqt rukh kaa letaa hai
kis qadar gesu-e-dotaa hai shokh
mire laashe ko kaandhaa de ke bole
chalo turbat mein ab tum ko sulaaein
dafn ham ho chuke to kahte hain
is gunahgaar kaa khudaa-haafiz
Ghazalغزل
یوں پریشاں کبھی ہم بھی تو نہ تھے ایسے اس زلف میں خم بھی تو نہ تھے سیر گلشن کو گئے تھے جب آپ یاد تو کیجئے ہم بھی تو نہ تھے ہم سے بے جرم وہ کوچہ چھوٹا شائق باغ ارم بھی تو نہ تھے رحم کرتا نہ فلک کیا کرتا ہم سزا وار ستم بھی تو نہ تھے رہتے کعبہ میں اکیلے کیا ہم دل لگانے کو صنم بھی تو نہ تھے ہاتھ کیوں سر پہ ہمارے رکھا تم سے خواہان قسم بھی تو نہ تھے
yuun pareshaan kabhi ham bhi to na the
رخ روشن دکھائیے صاحب شمع کو کچھ جلائیے صاحب روح ہو کر سمائیے صاحب میرے قالب میں آئیے صاحب شیخ جی ہو تمہیں سرود حرام آپ اپنی نہ گائیے صاحب وصل کی شب قریب آئی ہے اب نہ مہندی لگائیے صاحب خون عشاق ہے معانی میں شوق سے پان کھائیے صاحب میں تجلی طور دیکھوں گا آج کوٹھے پہ آئیے صاحب آپ دل میں بگاڑ رکھتے ہیں بس نہ باتیں بنائیے صاحب چشم تر رونے پر ہے آمادہ اور سوکھی سنائیے صاحب بوسۂ رخ تو چاہتے ہو سخیؔ کہیں منہ کی نہ کھائیے صاحب
rukh-e-raushan dikhaaiye saahab
نہ بچپن میں کہو ہم کو کڑی بات نہ کھلواؤ کہ چھوٹا منہ بڑی بات سنو تو گوہر دنداں کی تعریف ابھی ہو جائے موتی کی لڑی بات بڑے اندھیر کی تزئین ہے آج نہ ہونے دے گی مسی کی دھڑی بات جہاں اغیار ان کے پاس بیٹھے وہیں بس ہو گئی کوئی گھڑی بات پیام وصل پر وہ ہو گئے ترش غضب آیا کھٹائی میں پڑی بات ہم ان سے آج کا شکوہ کریں گے اکھاڑیں گے وہ برسوں کی گڑی بات طبیعت ان کی ہے کچھ اکھڑی اکھڑی کسی نے پھر وہاں میری جڑی بات یہ کس مژگاں کی برچھی کا تھا مذکور انی ہو کر کلیجہ میں اڑی بات سخیؔ وہ یوں تو بولیں گے نہ ہم سے کبھی ہو جائے گی دھوکھے دھڑی بات
na bachpan mein kaho ham ko kaDi baat
دل اسے دے دیا سخیؔ ہی تو ہے مرحبا پرورش علی ہی تو ہے دل دیا ہے دلاوری ہی تو ہے جان بھی اس کو دیں گے جی ہی تو ہے کیوں حسینوں کی آنکھ سے نہ لڑے میری پتلی کی مردمی ہی تو ہے نہ ہوئی ہم سے عمر بھر سیدھی ابروئے یار کی کجی ہی تو ہے عارض اس کا نہ دیکھوں مر جاؤں زندگی میری عارضی ہی تو ہے نہ ہنسے وہ نہ گل دہن کا کھلا ابھی نام خدا کلی ہی تو ہے کی خطابت کو گر خدا سمجھا بندہ بھی آخر آدمی ہی تو ہے گال میں واں ہوا کے صدمہ سے پڑ گیا نیل نازکی ہی تو ہے آج کیوں چونک چونک پڑتے ہو اس مکاں میں فقط سخیؔ ہی تو ہے
dil use de diyaa 'sakhi' hi to hai
عشق کرنے میں دل بھی کیا ہے شوخ سیکڑوں میں سے اک چنا ہے شوخ یہ بھی شوخی نئی نکالی ہے آج دشمن سے کچھ خفا ہے شوخ اپنی آنکھوں میں رات دن رکھ کر میں نے خود اس کو کر دیا ہے شوخ اشک خوں میرے دیکھ کر بولے اس سے تو کچھ مری حنا ہے شوخ آنکھ سے گر کے گود میں مچلا طفل اشک ایسا ہو گیا ہے شوخ بوسہ ہر وقت رخ کا لیتا ہے کس قدر گیسوئے دوتا ہے شوخ چھیڑتی ہے تمہارے زلفوں کو کس بلا کی مگر صبا ہے شوخ بر میں آئینہ کے لیا نہ قرار جان من عکس بھی ترا ہے شوخ پھر گئی دور سے دکھا کے جھلک ہجر میں اے سخیؔ قضا ہے شوخ
'ishq karne mein dil bhi kyaa hai shokh

