SHAWORDS
Anwar Shuoor

Anwar Shuoor

Anwar Shuoor

Anwar Shuoor

poet
63Shayari
151Ghazal

Popular Shayari

63 total

Ghazalغزل

See all 151
غزل · Ghazal

خواب بھی وصل واقعہ بھی ہے جو نہیں بھی ہوا ہوا بھی ہے عشق میں خود کشی کہاں جائز گو مرض کی یہی دوا بھی ہے اف نہ کی ہم نے جان جانے تک صبر کی کوئی انتہا بھی ہے ناصح محترم کے پاس بھلا کوئی معقول مشورہ بھی ہے ہے عجب حسن اتفاق کہ وہ خوب رو بھی ہے با وفا بھی ہے ذمہ داری بھی ہے عبادت عشق اور دلچسپ مشغلہ بھی ہے جانتے سب ہیں اے شعورؔ مگر آپ کو کوئی پوچھتا بھی ہے

khvaab bhi vasl vaaqi'a bhi hai

غزل · Ghazal

یہ جانتے ہوئے بھی گزاری ہے زندگی ہم زندگی کے ہیں نہ ہماری ہے زندگی دریافت ہو رہے ہیں ستارے نئے نئے شاید یہی ستارہ شماری ہے زندگی ہم کوئی زندگی کے لئے نا گزیر ہیں یہ بات بھی بہت ہے کہ جاری ہے زندگی آسائشوں کا نام نہیں زندگی مگر آسائشیں بہم ہوں تو پیاری ہے زندگی رکتی نہیں بڑے سے بڑے انقلاب پر وقتی تأثرات سے عاری ہے زندگی بہتی ہوئی ندی پہ کسے اختیار ہے میری ہے زندگی نہ تمہاری ہے زندگی علم و ہنر کی قدر بھی ہوتی تو ہے شعورؔ پیسہ نہ ہو تو ذلت و خواری ہے زندگی

ye jaante hue bhi guzaari hai zindagi

غزل · Ghazal

اس شوخ نے مانگ لی معافی لو ظلم کی ہو گئی تلافی نظروں سے پلا دیا کریں آپ میرے لئے یہ دوا ہے شافی طول شب ہجر کی حقیقت کچھ اصل ہے اور کچھ اضافی محبوب کے سامنے ہمارا جھکنا نہیں آن کے منافی ہیں ہم سے جڑے ہوئے کئی لوگ جس طرح ردیف سے قوافی مقصود نہیں اگر بہکنا دو جام ہیں اے شعورؔ کافی

us shokh ne maang li mu'aafi

غزل · Ghazal

ہو آئے ایک بار تو جاتا ہے بار بار خم خانہ آدمی کو بلاتا ہے بار بار یہ اور بات ہے کہ کوئی دیکھتا نہیں ہم زاد آئنہ تو دکھاتا ہے بار بار وہ ذات جو رؤف و رحیم و کریم ہے واعظ ہمیں اسی سے ڈراتا ہے بار بار کم ظرف میزبان کی دعوت نہیں قبول تھوڑی بہت پلا کے جتانا ہے بار بار دوری ہے مستقل نہ رفاقت ہے مستقل وہ دل اجاڑتا ہے بساتا ہے بار بار باد صبا پکار کے آگے چلی گئی سوئے ہوئے کو کون جگاتا ہے بار بار پروردگار اسے اگر آنا نہیں کبھی اس کا خیال کیوں ہمیں آتا ہے بار بار ازبر ہے اپنی رام کہانی شعورؔ کو ایک ایک واقعہ وہ سناتا ہے بار بار

ho aae ek baar to jaataa hai baar baar

غزل · Ghazal

اپناؤ کوئی راہ گزر سوچ سمجھ کر لازم ہے کیا جائے سفر سوچ سمجھ کر ہوتے نہیں ہر بات پہ ناراض رفیقو کرتا نہیں ہر بات بشر سوچ سمجھ کر وہ آئے ہوئے ہوں تو گزارہ نہیں کرتے ہم روز و شب و شام و سحر سوچ سمجھ کر انسان کے ہاتھوں میں ہے انجام عمل کا آغاز کیا جائے اگر سوچ سمجھ کر تو اور شعورؔ اپنے ستاروں کی شکایت الزام ہی دھرنا ہے تو دھر سوچ سمجھ کر

apnaao koi raahguzar soch samajh kar

غزل · Ghazal

بھلا کب تک ی مجبوری رہے گی کہ اپنے درمیاں دوری رہے گی کبھی تم آؤ گے بھی یا ہمیشہ یہ محرومی یہ مہجوری رہے گی مجھے بھی کوئی بہکاوا رہے گا تمہیں بھی کوئی معذوری رہے گی یہی مصروفیت ہوگی دنوں میں یہی راتوں کی مزدوری رہے گی تمہارا راستہ تکتا رہوں گا اسی خدمت پہ ماموری رہے گی نہ جانے چاند کس جانب سے نکلے توجہ ہر طرف پوری رہے گی شعورؔ آنکھوں کی قندیلیں بجھا لو نہ بے رنگی نہ بے نوری رہے گی

bhalaa kab tak ye majburi rahegi

Similar Poets