SHAWORDS
Saifuddin Saif

Saifuddin Saif

Saifuddin Saif

Saifuddin Saif

poet
39Sher
39Shayari
8Ghazal

Sherشعر

See all 39

Popular Sher & Shayari

78 total

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

chaandni raat baDi der ke baa'd aai hai

چاندنی رات بڑی دیر کے بعد آئی ہے لب پہ اک بات بڑی دیر کے بعد آئی ہے جھوم کر آج یہ شب رنگ لٹیں بکھرا دے دیکھ برسات بڑی دیر کے بعد آئی ہے دل مجروح کی اجڑی ہوئی خاموشی سے بوئے نغمات بڑی دیر کے بعد آئی ہے آج کی رات وہ آئے ہیں بڑی دیر کے بعد آج کی رات بڑی دیر کے بعد آئی ہے آہ تسکین بھی اب سیفؔ شب ہجراں میں اکثر اوقات بڑی دیر کے بعد آئی ہے

غزل · Ghazal

kyaa manzil-e-gham simaT gai hai

کیا منزل غم سمٹ گئی ہے اک آہ میں راہ کٹ گئی ہے پھر سامنے ہے پہاڑ سی رات پھر شام سے نیند اچٹ گئی ہے پہلو میں یہ کیسا درد اٹھا ہے یہ کون سی راہ کٹ گئی ہے آپ آئے نہیں تو موت کمبخت آ آ کے پلٹ پلٹ گئی ہے اٹھ اٹھ کے مریض غم نے پوچھا کیا ہجر کی رات کٹ گئی ہے پھر سیفؔ ہوائے یاد رفتہ ہر غم کی نقاب الٹ گئی ہے

غزل · Ghazal

hasin raaton jamil taaron ki yaad si rah gai hai baaqi

حسین راتوں جمیل تاروں کی یاد سی رہ گئی ہے باقی کچھ اپنی اجڑی ہوئی بہاروں کی یاد سی رہ گئی ہے باقی ہر ایک محفل پڑی ہے سونی تمام میلے بچھڑ چکے ہیں ستم گروں کی ستم شعاروں کی یاد سی رہ گئی ہے باقی غم وفا کہنے سننے والے کہاں گئے اہل دل نہ جانے تمہاری الفت کے راز داروں کی یاد سی رہ گئی ہے باقی وہ شام سے آرزو سحر کی وہ بے کلی رات رات بھر کی ان آشنا آشنا ستاروں کی یاد سی رہ گئی ہے باقی ادھر بھی عہد وفا کے ٹکڑے کھٹک کے پہلو میں سو چکے ہیں یہاں بھی ٹوٹے ہوئے سہاروں کی یاد سی رہ گئی ہے باقی گلا نہیں سیفؔ بے کسی کا کسی کا غم کون پوچھتا ہے یہی بہت ہے کہ غم گساروں کی یاد سی رہ گئی ہے باقی

غزل · Ghazal

miri daastaan-e-hasrat vo sunaa sunaa ke roe

مری داستان حسرت وہ سنا سنا کے روئے مرے آزمانے والے مجھے آزما کے روئے کوئی ایسا اہل دل ہو کہ فسانۂ محبت میں اسے سنا کے روؤں وہ مجھے سنا کے روئے مری آرزو کی دنیا دل ناتواں کی حسرت جسے کھو کے شادماں تھے اسے آج پا کے روئے تری بے وفائیوں پر تری کج ادائیوں پر کبھی سر جھکا کے روئے کبھی منہ چھپا کے روئے جو سنائی انجمن میں شب غم کی آپ بیتی کئی رو کے مسکرائے کئی مسکرا کے روئے

غزل · Ghazal

ab vo saudaa nahin divaanon mein

اب وہ سودا نہیں دیوانوں میں خاک اڑتی ہے بیابانوں میں غم دوراں کو گلہ ہے مجھ سے تو ہی تو ہے مرے افسانوں میں دل ناداں تری حالت کیا ہے تو نہ اپنوں میں نہ بیگانوں میں بجھ گئی شمع سحر سے پہلے آگ جلتی رہی پروانوں میں دل نے چھوڑا نہ امیدوں کا خیال پھول کھلتے رہے ویرانوں میں سیفؔ پہلو میں یہ آہٹ غم کی کون روتا ہے بیابانوں میں

غزل · Ghazal

phail rahe hain vaqt ke saae

پھیل رہے ہیں وقت کے سائے دیکھیں رات کہاں تک جائے دیدہ و دل کی بات نہ پوچھو ایک لگائے ایک بجھائے آج یہ ہے موسم کا تقاضا زلف تری کھل کر لہرائے ان آنکھوں سے موتی برسے ان ہونٹوں نے پھول کھلائے دیکھ بھال کر زہر پیا ہے سوچ سمجھ کر دھوکے کھائے آج وہ تنہا رات کٹی ہے آنسو تک آنکھوں میں نہ آئے سیفؔ زمانہ سمجھاتا ہے کون اپنے ہیں کون پرائے

Similar Poets