hamārā hijr bhī ab mas.ala ban
zamāne meñ uchhaltā jā rahā hai

Shayari Of Amit Sharma Meet
Shayari of Amit Sharma Meet
Shayari of Amit Sharma Meet
Popular Shayari
24 totalrāt-bhar ḳhvāb meñ jalnā bhī ik bīmārī hai
ishq kī aag se bachne meñ samajhdārī hai
terī sūrat terī chāhat yādeñ sab
chhoTe se is dil meñ kyā kyā rakkhūñgā
sach kahne kā āḳhir ye anjām huā
saarī bastī meñ maiñ hī badnām huā
maiñ kahānī meñ nayā moḌ bhī lā saktā thā
maiñ ne kirdār ko aañsū meñ bhigoyā hī nahīñ
rāteñ saarī karvaT meñ hī biit rahīñ
yādeñ bhī kitnī bechainī detī haiñ
soch rahā huuñ maiñ is kā saudā kar duuñ
us kī yādoñ kā jo dil meñ malba hai
dil TuuTā to 'mīt' samajh meñ ye aayā
ishq vafā sab ek pahelī niklī hai
maiñ jitnī aur piitā jā rahā huuñ
nasha utnā utartā jā rahā hai
ka.ī din se sharārat hī nahīñ kī
mire andar kā bachcha lāpata hai
raat bechain sī sardī meñ ThiThurtī hai bahut
din bhī har roz sulagtā hai tirī yādoñ se
hijr ke baa'd ye socho ki kahāñ jāoge
ham to mar jā.eñge vaise bhī hamārā kyā hai
Ghazalغزل
یہ لگتا ہے اب بھی کہیں کچھ بچا ہے تمہارا دیا زخم اب تک ہرا ہے کہو کون سی شکل دیکھو گے اب تم یہ چہرہ تو اک آورن سے ڈھکا ہے لگا ہے زمانہ عبادت میں جس کی وہ رہتا کہاں ہے تمہیں کچھ پتا ہے گناہوں سے توبہ کرو وقت رہتے وگرنہ تو دوزخ کا رستہ کھلا ہے محبت محبت محبت محبت اماں یار چھوڑو یہ ہلکا نشہ ہے بھلائی کرو تو ملے ہے برائی یہ قصہ مری زندگی سے جڑا ہے غلط فہمیاں میتؔ رکھو نہ دل میں وہی سچ نہیں جتنا تم نے سنا ہے
ye lagtā hai ab bhī kahīñ kuchh bachā hai
نہ کھلی آنکھوں سے دہشت کا نظارا دیکھنا جو ہمارا ہے اسے اوروں کا ہوتا دیکھنا روبرو اس کو نظر بھر دیکھ بھی سکتے نہیں ہائے کتنا دکھ بھرا ہے خود کو ایسا دیکھنا کیا عجب سا روگ بینائی کو میری لگ گیا ہر کسی چہرے میں بس اس کا ہی چہرہ دیکھنا عشق میں پتھرا چکی آنکھوں سے ہے مشکل بہت چاند کو ٹھہرے ہوئے پانی میں چلتا دیکھنا ہائے کیا منظر کشی ابھری ہے اس تصویر میں روتی آنکھوں سے کسی پیاسے کا دریا دیکھنا رات بھر بے چینیاں سونے نہیں دیتیں مجھے اور دن بھر رات کے ہونے کا رستہ دیکھنا موت ہم سے دو قدم کے فاصلے پر ہے کھڑی اب بہت دلچسپ ہوگا یہ تماشا دیکھنا
na khulī āñkhoñ se dahshat kā nazārā dekhnā
جسم کو جینے کی آزادی دیتی ہیں سانسیں ہر پل ہی قربانی دیتی ہیں راتیں ساری کروٹ میں ہی بیت رہیں یادیں بھی کتنی بے چینی دیتی ہیں جو راہیں خود میں ہی بے منزل سی ہوں ایسی راہیں ناکامی ہی دیتی ہیں کیسے بھی پر مجھ کو کچھ سپنے تو دیں آنکھیں کیا کیول بینائی دیتی ہیں میتؔ مجھے اکثر راتوں میں لگتا ہے روحیں مجھ کو آوازیں سی دیتی ہیں
jism ko jiine kī āzādī detī haiñ
جب جذبہ اک بار جگر میں آتا ہے پھر سب اپنے آپ ہنر میں آتا ہے سب کی زد میں اک میرا ہی گھر ہے کیا روز نیا اک پتھر گھر میں آتا ہے کل میرے سائے میں اس کی شکل دکھی منظر ایسے پس منظر میں آتا ہے میں تنہا آتا ہوں محفل میں یاروں باقی ہر انساں لشکر میں آتا ہے لہجہ اس کا ہر جانب ہے مسلط یوں وہ بندہ ہر بار خبر میں آتا ہے دہشت اس لمحے کی دل میں اتنی ہے اکثر ہی وہ لمحہ ڈر میں آتا ہے میتؔ سبھی کا ساتھ یہاں پر دیتا ہے جو کوئی بھی بیچ سفر میں آتا ہے
jab jazba ik baar jigar meñ aatā hai
یوں اپنے دل کو بہلانے لگے ہیں لپٹ کر خود کے ہی شانے لگے ہیں ہمیں تو موت بھی آساں نہیں تھی سو اب زندہ نظر آنے لگے ہیں اداسی اس قدر حاوی تھی ہم پر کہ خوش ہونے پہ اترانے لگے ہیں جو دیکھی اک شکاری کی اداسی پرندے لوٹ کر آنے لگے ہیں سلیقے سے لپٹ کر پاؤں سے اب یہ غم زنجیر پہنانے لگے ہیں غموں کی دھوپ بڑھتی جا رہی ہے خوشی کے پھول مرجھانے لگے ہیں فقط اب چند قدموں پہ ہے منزل مگر ہم ہیں کہ سستانے لگے ہیں
yuuñ apne dil ko bahlāne lage haiñ
اس مٹی کو ایسے کھیل کھلایا ہم نے خود کو روز بگاڑا روز بنایا ہم نے جو سوچا تھا وہ تو ہم سے بنا نہیں پھر جو بن پایا اس سے جی بہلایا ہم نے غم کو پھر سے تنہائی کے ساتھ میں مل کر ہنستے ہنستے باتوں میں الجھایا ہم نے نا ممکن تھا اس کو حاصل کرنا پھر بھی پوری شدت سے یہ عشق نبھایا ہم نے اس کی یادیں بوجھ نہ بن جائیں سانسوں پر سو یادوں سے اپنا دل دھڑکایا ہم نے کہہ دیتے تو شاید اچھے ہو جاتے پر خاموشی سے اپنا مرض بڑھایا ہم نے اس کا چہرہ دیکھ لیا تھا ایک دفعہ پھر ان آنکھوں سے سالوں قرض چکایا ہم نے
is miTTī ko aise khel khilāyā ham ne

