"kyon tasavvur men ji raha huun main jab haqiqat men mar hi jaana hai"

Divyansh Rawat
Divyansh Rawat
Divyansh Rawat
Sherشعر
kyon tasavvur men ji raha huun main
کیوں تصور میں جی رہا ہوں میں جب حقیقت میں مر ہی جانا ہے
4 views
apne hain sab paraya koi nahin
اپنے ہیں سب پرایا کوئی نہیں پر مرے دکھ میں آیا کوئی نہیں
3 views
us ke munh pe mukar gaya tha dil
اس کے منہ پہ مکر گیا تھا دل آج حد سے گزر گیا تھا دل
1 views
main baDa ho gaya huun magar bachpana
میں بڑا ہو گیا ہوں مگر بچپنا میرے دل سے کبھی بھی گیا ہی نہیں
Popular Sher & Shayari
8 total"apne hain sab paraya koi nahin par mire dukh men aaya koi nahin"
"us ke munh pe mukar gaya tha dil aaj had se guzar gaya tha dil"
"main baDa ho gaya huun magar bachpana mere dil se kabhi bhi gaya hi nahin"
apne hain sab paraayaa koi nahin
par mire dukh mein aayaa koi nahin
kyon tasavvur mein ji rahaa huun main
jab haqiqat mein mar hi jaanaa hai
us ke munh pe mukar gayaa thaa dil
aaj had se guzar gayaa thaa dil
main baDaa ho gayaa huun magar bachpanaa
mere dil se kabhi bhi gayaa hi nahin
Ghazalغزل
vo mujhe zindagi bataataa hai
وہ مجھے زندگی بتاتا ہے پھر بھلا کیوں نظر چراتا ہے میں اسی کو اٹھا رہا تھا پر وہ مجھے ہی فقط گراتا ہے یاد اس کو کیا یہاں میں نے پر مجھے وہ وہاں بھلاتا ہے راز سارے بتا دئے میں نے کیوں مگر راز وہ چھپاتا ہے لوگ مصروف ہیں محبت میں اور وہ دل مرا دکھاتا ہے
3 views
charaaghon se kuchh to churaayaa gayaa hai
چراغوں سے کچھ تو چرایا گیا ہے جو تھی آگ اس کو بجھایا گیا ہے لکھا تھا جنہیں صرف اپنے لہو سے مرے ان خطوں کو جلایا گیا ہے ہزاروں دفعہ اس نے کی بے وفائی مجھے بے وفا کیوں بتایا گیا ہے مجھے خود نکلنا پڑا اپنے گھر سے یہ مت سوچنا کہ بھگایا گیا ہے خبر یہ ملی ہے کہ میرے ہی گھر میں کسی غیر کو اب بسایا گیا ہے مجھے ہی ستا کر مجھے ہی رلا کر یہ الزام مجھ پر لگایا گیا ہے تمہیں کیا بتاؤں محبت میں راوتؔ مجھے کس قدر آزمایا گیا ہے
1 views
kabhi vo sunegaa kahaani hamaari
کبھی وہ سنے گا کہانی ہماری کہ گزری ہے کیسے جوانی ہماری گئے تھے نشانی یہاں چھوڑ کر ہم کہاں ہے بھلا وہ نشانی ہماری ملا تک نہیں پا رہی ہے نظر وہ ہوئی تھی کبھی وہ دوانی ہماری بچا کر رکھی ہے بڑے ہی دنوں سے اسی دل میں یادیں پرانی ہماری پتہ تب چلا جب گزرنے لگے دن بہت کم بچی زندگانی ہماری یہاں مشکلوں سے گھرے ہی رہو گے اگر بات تم نے نہ مانی ہماری
kahin ham se koi khataa ho gai hai
کہیں ہم سے کوئی خطا ہو گئی ہے تبھی زندگی یہ سزا ہو گئی ہے ادھر ہجر میں ایک آنسو نہ نکلا ادھر زندگی غمزدہ ہو گئی ہے جدا ایک دن اس کو ہونا تھا مجھ سے مگر وہ ابھی سے جدا ہو گئی ہے تمنا تھی دنیا کو خوش دیکھنے کی یہ دنیا ہمیں سے خفا ہو گئی ہے اگر وہ ملے تو اسے میں بتا دوں کہ وہ ہر مرض کی دوا ہو گئی ہے
Tuut kar ab sanvar gayaa huun main
ٹوٹ کر اب سنور گیا ہوں میں اس طرح سے بکھر گیا ہوں میں جو ترے نام کی گلی ہے وہ اس گلی سے گزر گیا ہوں میں یادیں تیری سمیٹ لایا ہوں آج جب سے ادھر گیا ہوں میں خود مکرنا سکھا دیا اس نے پھر کہا کہ مکر گیا ہوں میں کل تلک جو نہ کر سکا تھا میں آج وہ کام کر گیا ہوں میں یوں کہیں میں نہیں ٹھہرتا پر تیرے در پر ٹھہر گیا ہوں میں





