muddat se khaamushi hai chalo aaj mar chalein
do-chaar din to ghar mein zaraa anjuman rahe

Saeed Ahmad Akhtar
Saeed Ahmad Akhtar
Saeed Ahmad Akhtar
Popular Shayari
21 totalaayaa thaa sun ke shahr mein daulat ki rel-pel
kal mill mein kaT ke mar gayaa beTaa kisaan kaa
ki jaise sehn-e-gulistaan mein pyaar kaa mausam
khuli jo aankh tumhaari to khul gayaa mausam
puchhtaa koi nahin paDhtaa mujhe har ek hai
jaise 'manto' kaa koi badnaam afsaana huun main
ye miraa ilhaam hai vo miri tadbir hai
main na junun kaa asiir main na khirad kaa ghulaam
is Dar se rok rakkhe hain aansu 'said' ne
aanchal na bhiig jaae kisi gul-jabin kaa
sajda kahaan lagaa hai hamaari jabin kaa
charchaa hai phir falak pe tire dar-nashin kaa
tiraa kirdaar kitnaa mukhtalif hai
tiri taarikh teri daastaan se
hansiye charaagh ujaaliye paude lagaaiye
kuchh hausla baDhaaiye buDhi zamin kaa
main faqir huun duaa hai
mire paas aur kyaa hai
mire to phuul bhi tum ho sabaa bhi khushbu bhi
nahin ho tum to nahin mere kaam kaa mausam
tumhaare baalon se gaalon se kheltaa mausam
main dekhtaa hi rahaa aur guzar gayaa mausam
Ghazalغزل
صرف ان کے کوچے میں جاں بچھا کے چلتے ہیں ورنہ چاہنے والے سر اٹھا کے چلتے ہیں کیا گنہ ہوا ان سے کیوں تری گلی کے لوگ اپنے گھر کے اندر بھی منہ چھپا کے چلتے ہیں ہاں خدا بھی ہو شاید کوئی اپنی بستی کا حکم اس جگہ سارے ناخدا کے چلتے ہیں زخم بھی نہیں لگتے خون بھی نہیں بہتا تیر اس کی محفل میں کس بلا کے چلتے ہیں شام کو انہیں اخترؔ گلستاں میں دیکھیں گے جب وہ اپنی زلفوں میں دل سجا کے چلتے ہیں
sirf un ke kuche mein jaan bichhaa ke chalte hain
یہ حادثہ بھی تو کچھ کم نہ تھا صبا کے لیے گلوں نے کس لیے بوسے تری قبا کے لیے وہاں زمین پر ان کا قدم نہیں پڑتا یہاں ترستے ہیں ہم لوگ نقش پا کے لیے تم اپنی زلف بکھیرو کہ آسماں کو بھی بہانہ چاہئے محشر کے التوا کے لیے یہ کس نے پیار کی شمعوں کو بد دعا دی ہے اجاڑ راہوں میں جلتی رہیں سدا کے لیے ابھی تو آگ سے صحرا پڑے ہیں رستے میں یہ ٹھنڈکیں ہیں فسانے کی ابتدا کے لیے سلگ رہا ہے چمن میں بہار کا موسم کسی حسین کو آواز دو خدا کے لیے
ye haadsa bhi to kuchh kam na thaa sabaa ke liye
یہ صدمہ اس کو پاگل کر گیا تھا وہ اپنے آئنے سے ڈر گیا تھا کوئی بھی سر نہیں تھا اس کے قابل عبث اس شہر میں پتھر گیا تھا جہالت کے حوالے پڑھتے پڑھتے کتابوں سے مرا جی بھر گیا تھا پلاتا کون اس پیاسے کو پانی کوئی مسجد کوئی مندر گیا تھا وہ کس مٹی کا تھا نفرت کے گھر میں وہ اوڑھے پیار کی چادر گیا تھا مرا احساس تو تیرے کرم سے مرے مرنے سے پہلے مر گیا تھا نہ نکلا پھر وہ ساری عمر گھر سے ذرا سی دیر کو باہر گیا تھا تو پھر لوٹا ہے کس نے قافلے کو ادھر تو صرف اک رہبر گیا تھا وہاں پھر پیر کب رکھا کسی نے جہاں رستے میں میرا سر گیا تھا
ye sadma us ko paagal kar gayaa thaa
تیری یادوں کو بلا کر ترے گیسو کی طرح پہنے رہتے ہیں دریچے مری خوشبو کی طرح ہائے جب ہجر کی شب میں ترے بوسوں کی مٹھاس پھیل جاتی ہے مرے ہونٹوں پہ جادو کی طرح تو مرے باغ سے توڑے ہوئے غنچے کی مثال میں ترے دشت میں بھٹکے ہوئے آہو کی طرح آسماں بانٹتا رہتا ہے نصیبے اخترؔ دن کو موتی کی طرح رات کو آنسو کی طرح
teri yaadon ko bulaa kar tire gesu ki tarah
پھینکے ہوئے بے کار کھلونے کی طرح ہوں میں باغ کے اجڑے ہوئے گوشے کی طرح ہوں تو دل میں اترتی ہوئی خوشبو کی طرح ہے میں جسم سے اترے ہوئے کپڑے کی طرح ہوں کچھ اور بھی دن مجھ کو سمجھنے میں لگیں گے میں خواب میں دیکھے ہوئے رستے کی طرح ہوں سایہ سا یہ کس چیز کا ہے میرے وطن پر میں کیوں کسی سہمے ہوئے قصے کی طرح ہوں میں ماں ہوں ستائی ہوئی حد درجہ بہو کی اور بیٹے پہ آئے ہوئے غصے کی طرح ہوں ہو جائیں کبھی جا کے وہیں سندھ کنارے باتیں کوئی دو چار جو پہلے کی طرح ہوں اب تو کسی مہکار کی یادوں کا سفر ہے اور میں کسی بھولے ہوئے قصے کی طرح ہوں جس میں کوئی در ہے نہ دریچہ نہ مکیں ہے اس گھر پہ لگائے ہوئے پہرے کی طرح ہوں کیا ہوگی تلافی مرے نقصان کی اخترؔ میں قید میں گزرے ہوئے عرصے کی طرح ہوں
pheinke hue be-kaar khilaune ki tarah huun




