SHAWORDS
Irfan Sattar

Irfan Sattar

Irfan Sattar

Irfan Sattar

poet
37Sher
37Shayari
55Ghazal

Sherشعر

See all 37

Popular Sher & Shayari

74 total

Ghazalغزل

See all 55
غزل · Ghazal

aaj karnaa thi tavajjoh chaak-e-daamaan ki taraf

آج کرنا تھی توجہ چاک داماں کی طرف دھیان جا نکلا مگر اک روئے تاباں کی طرف جب ہوا کے نام پہنچا آمد شب کا پیام ایک جھونکا چل دیا شمع فروزاں کی طرف ایک چہرہ جگمگایا ہے سر دشت خیال ایک شعلہ اٹھ رہا ہے دل سے مژگاں کی طرف یہ بیاباں اور اس میں چیختی گاتی ہوا ان سے دل بھر لے تو جاؤں راہ آساں کی طرف اس طرح حائل نہیں ہوتے کسی کی راہ میں کیوں بھلا اتنی توجہ ایک مہماں کی طرف عین ممکن ہے کہ تو سچ بول کر زندہ رہے میں اشارہ کر رہا ہوں ایک امکاں کی طرف اک تقاضا بے بسی کی راکھ میں دہکا ہوا اک تذبذب کا سفر انکار سے ہاں کی طرف جس کے بدلے موت صدیوں کی بسر کرنا پڑے زندگی کا قرض اتنا تو نہیں جاں کی طرف

غزل · Ghazal

zinda huun aur hijr kaa aazaar tak nahin

زندہ ہوں اور ہجر کا آزار تک نہیں وہ کام کر رہا ہوں جو دشوار تک نہیں اب میں ہوں اور تجھ کو منانے کی جستجو کچھ بھی نہیں ہے راہ میں پندار تک نہیں یعنی مرا وجود ہی مشکوک ہو گیا اب تو میں اپنے آپ سے بیزار تک نہیں دل بھی تھکن سے چور ہوا اور دماغ بھی اور آسماں پہ صبح کے آثار تک نہیں اقرار کر کے اس کو نبھانا کسے نصیب اس عمر میں تو مہلت انکار تک نہیں تھی جس کی پور پور مری لمس آشنا اب یاد اس کے گیسو و رخسار تک نہیں اس بے کراں خلا میں نگاہوں کو کیا کروں اب تو نظر کے سامنے دیوار تک نہیں

غزل · Ghazal

sukhan ke shauq mein tauhin harf ki nahin ki

سخن کے شوق میں توہین حرف کی نہیں کی کہ ہم نے داد کی خواہش میں شاعری نہیں کی جو خود پسند تھے ان سے سخن کیا کم کم جو کج کلاہ تھے ان سے تو بات بھی نہیں کی کبھی بھی ہم نے نہ کی کوئی بات مصلحتاً منافقت کی حمایت، نہیں، کبھی نہیں کی دکھائی دیتا کہاں پھر الگ سے اپنا وجود سو ہم نے ذات کی تفہیم آخری نہیں کی اسے بتایا نہیں ہے کہ میں بدن میں نہیں جو بات سب سے ضروری ہے وہ ابھی نہیں کی بہ نام خوش نفسی ہم تو آہ بھرتے رہے کہ صرف رنج کیا ہم نے، زندگی نہیں کی ہمیشہ دل کو میسر رہی ہے دولت ہجر جنوں کے رزق میں اس نے کبھی کمی نہیں کی بصد خلوص اٹھاتا رہا سبھی کے یہ ناز ہمارے دل نے ہماری ہی دلبری نہیں کی جسے وطیرہ بنائے رہی وہ چشم غزال وہ بے رخی کی سہولت ہمیں بھی تھی، نہیں کی ہے ایک عمر سے معمول روز کا عرفانؔ دعائے رد انا ہم نے آج ہی نہیں کی

غزل · Ghazal

yaa mulaaqaat ke imkaan se baahar ho jaa

یا ملاقات کے امکان سے باہر ہو جا یا کسی دن مری فرصت کو میسر ہو جا تجھ کو معلوم نہیں ہے مری خواہش کیا ہے مجھ پہ احسان نہ کر اور سبک سر ہو جا ارتقا کیا تری قسمت میں نہیں لکھا ہے اب تمنا سے گزر میرا مقدر ہو جا میں جہاں پاؤں رکھوں واں سے بگولا اٹھے ریگ صحرا مری وحشت کے برابر ہو جا اے مرے حرف سخن تو مجھے حیراں کر دے تو کسی دن مری امید سے بڑھ کر ہو جا

غزل · Ghazal

chup hai aaghaaz mein, phir shor-e-ajal paDtaa hai

چپ ہے آغاز میں، پھر شور اجل پڑتا ہے اور کہیں بیچ میں امکان کا پل پڑتا ہے ایک وحشت ہے کہ ہوتی ہے اچانک طاری ایک غم ہے کہ یکایک ہی ابل پڑتا ہے یاد کا پھول مہکتے ہی نواح شب میں کوئی خوشبو سے ملاقات کو چل پڑتا ہے حجرۂ ذات میں سناٹا ہی ایسا ہے کہ دل دھیان میں گونجتی آہٹ پہ اچھل پڑتا ہے روک لیتا ہے ابد وقت کے اس پار کی راہ دوسری سمت سے جاؤں تو ازل پڑتا ہے ساعتوں کی یہی تکرار ہے جاری ہر دم میری دنیا میں کوئی آج، نہ کل پڑتا ہے تاب یک لحظہ کہاں حسن جنوں خیز کے پیش سانس لینے سے توجہ میں خلل پڑتا ہے مجھ میں پھیلی ہوئی تاریکی سے گھبرا کے کوئی روشنی دیکھ کے مجھ میں سے نکل پڑتا ہے جب بھی لگتا ہے سخن کی نہ کوئی لو ہے نہ رو دفعتاً حرف کوئی خوں میں مچل پڑتا ہے غم چھپائے نہیں چھپتا ہے کروں کیا عرفانؔ نام لوں اس کا تو آواز میں بل پڑتا ہے

غزل · Ghazal

junun ke dam se aakhir martaba kaisaa milaa mujh ko

جنوں کے دم سے آخر مرتبہ کیسا ملا مجھ کو ابھی فرہاد و قیس آئے تھے کہنے مرحبا مجھ کو کسی صورت بھی رد ہوتا نہیں یہ فیصلہ دل کا نظر آتا نہیں کوئی بھی تجھ سا دوسرا مجھ کو سر کنج تمنا پھر خوشی سے گنگناؤں گا اگر وہ لوٹ کر آئے تو پھر تم دیکھنا مجھ کو نہ جان‌ رشک سے غصے سے غم سے یا رقابت سے یہ کس انداز سے تکتا ہے تیرا آئنہ مجھ کو کھلے تو سب زمانوں کے خزانے ہاتھ آ جائیں در اقلیم ہفت عالم ہے وہ بند قبا مجھ کو گماں میں بھی گماں لگتی ہے اب تو زندگی میری نظر آتا ہے اب وہ خواب میں بھی خواب سا مجھ کو کثافت بار پا سکتی نہیں ایسی لطافت میں کرم اس کا کہ بخشا دل کے بدلے آبلہ مجھ کو صبا میری قدم بوسی سے پہلے گل نہ دیکھے گی اگر وحشت نے کچھ دن باغ میں رہنے دیا مجھ کو نہ نکلی آج گر کوئی یہاں یکجائی کی صورت تو کل سے ڈھونڈتے پھرنا جہاں میں جا بجا مجھ کو گزر گاہ نفس میں ہوں مثال برگ آوارہ کوئی دم میں اڑا لے جائے گی باد فنا مجھ کو وہ دل آویز آنکھیں وہ لب و رخسار وہ زلفیں نہیں اب دیکھنا کچھ بھی نہیں اس کے سوا مجھ کو ازل سے تا ابد دنیا سے لے کر آسمانوں تک نظر آتا ہے تیری ہی نظر کا سلسلہ مجھ کو مرے ہونے سے ہی کچھ اعتبار اس کا بھی قائم ہے جنوں تم سے نمٹ لے گا جو دیوانہ کہا مجھ کو کوئی عرفانؔ مجھ میں سے مجھے آواز دیتا ہے ارے تو سوچتا کیا ہے کبھی کچھ تو بتا مجھ کو

Similar Poets