"ik chubhan hai ki jo bechain kiye rahti hai aisa lagta hai ki kuchh TuuT gaya hai mujh men"

Irfan Sattar
Irfan Sattar
Irfan Sattar
Sherشعر
See all 37 →ik chubhan hai ki jo bechain kiye rahti hai
اک چبھن ہے کہ جو بے چین کیے رہتی ہے ایسا لگتا ہے کہ کچھ ٹوٹ گیا ہے مجھ میں
abad mujh men tere siva aur kaun hai?
آباد مجھ میں تیرے سوا اور کون ہے؟ تجھ سے بچھڑ رہا ہوں تجھے کھو نہیں رہا
main tujh se saath bhi to umar bhar ka chahta tha
میں تجھ سے ساتھ بھی تو عمر بھر کا چاہتا تھا سو اب تجھ سے گلا بھی عمر بھر کا ہو گیا ہے
nahin nahin main bahut khush raha huun tere baghair
نہیں نہیں میں بہت خوش رہا ہوں تیرے بغیر یقین کر کہ یہ حالت ابھی ابھی ہوئی ہے
tum aa ga.e ho to ab a.ina bhi dekhenge
تم آ گئے ہو تو اب آئینہ بھی دیکھیں گے ابھی ابھی تو نگاہوں میں روشنی ہوئی ہے
vo guftugu jo miri sirf apne-ap se thi
وہ گفتگو جو مری صرف اپنے آپ سے تھی تری نگاہ کو پہنچی تو شاعری ہوئی ہے
Popular Sher & Shayari
74 total"abad mujh men tere siva aur kaun hai? tujh se bichhaD raha huun tujhe kho nahin raha"
"main tujh se saath bhi to umar bhar ka chahta tha so ab tujh se gila bhi umar bhar ka ho gaya hai"
"nahin nahin main bahut khush raha huun tere baghair yaqin kar ki ye halat abhi abhi hui hai"
"tum aa ga.e ho to ab a.ina bhi dekhenge abhi abhi to nigahon men raushni hui hai"
"vo guftugu jo miri sirf apne-ap se thi tiri nigah ko pahunchi to sha.iri hui hai"
aabaad mujh mein tere sivaa aur kaun hai?
tujh se bichhaD rahaa huun tujhe kho nahin rahaa
main tujh se saath bhi to umar bhar kaa chaahtaa thaa
so ab tujh se gilaa bhi umar bhar kaa ho gayaa hai
nahin nahin main bahut khush rahaa huun tere baghair
yaqin kar ki ye haalat abhi abhi hui hai
tumhein fursat ho duniyaa se to ham se aa ke milnaa
hamaare paas fursat ke sivaa kyaa rah gayaa hai
main jaag jaag ke kis kis kaa intizaar karun
jo log ghar nahin pahunche vo mar gae honge
ik chubhan hai ki jo bechain kiye rahti hai
aisaa lagtaa hai ki kuchh TuuT gayaa hai mujh mein
Ghazalغزل
aaj karnaa thi tavajjoh chaak-e-daamaan ki taraf
آج کرنا تھی توجہ چاک داماں کی طرف دھیان جا نکلا مگر اک روئے تاباں کی طرف جب ہوا کے نام پہنچا آمد شب کا پیام ایک جھونکا چل دیا شمع فروزاں کی طرف ایک چہرہ جگمگایا ہے سر دشت خیال ایک شعلہ اٹھ رہا ہے دل سے مژگاں کی طرف یہ بیاباں اور اس میں چیختی گاتی ہوا ان سے دل بھر لے تو جاؤں راہ آساں کی طرف اس طرح حائل نہیں ہوتے کسی کی راہ میں کیوں بھلا اتنی توجہ ایک مہماں کی طرف عین ممکن ہے کہ تو سچ بول کر زندہ رہے میں اشارہ کر رہا ہوں ایک امکاں کی طرف اک تقاضا بے بسی کی راکھ میں دہکا ہوا اک تذبذب کا سفر انکار سے ہاں کی طرف جس کے بدلے موت صدیوں کی بسر کرنا پڑے زندگی کا قرض اتنا تو نہیں جاں کی طرف
zinda huun aur hijr kaa aazaar tak nahin
زندہ ہوں اور ہجر کا آزار تک نہیں وہ کام کر رہا ہوں جو دشوار تک نہیں اب میں ہوں اور تجھ کو منانے کی جستجو کچھ بھی نہیں ہے راہ میں پندار تک نہیں یعنی مرا وجود ہی مشکوک ہو گیا اب تو میں اپنے آپ سے بیزار تک نہیں دل بھی تھکن سے چور ہوا اور دماغ بھی اور آسماں پہ صبح کے آثار تک نہیں اقرار کر کے اس کو نبھانا کسے نصیب اس عمر میں تو مہلت انکار تک نہیں تھی جس کی پور پور مری لمس آشنا اب یاد اس کے گیسو و رخسار تک نہیں اس بے کراں خلا میں نگاہوں کو کیا کروں اب تو نظر کے سامنے دیوار تک نہیں
sukhan ke shauq mein tauhin harf ki nahin ki
سخن کے شوق میں توہین حرف کی نہیں کی کہ ہم نے داد کی خواہش میں شاعری نہیں کی جو خود پسند تھے ان سے سخن کیا کم کم جو کج کلاہ تھے ان سے تو بات بھی نہیں کی کبھی بھی ہم نے نہ کی کوئی بات مصلحتاً منافقت کی حمایت، نہیں، کبھی نہیں کی دکھائی دیتا کہاں پھر الگ سے اپنا وجود سو ہم نے ذات کی تفہیم آخری نہیں کی اسے بتایا نہیں ہے کہ میں بدن میں نہیں جو بات سب سے ضروری ہے وہ ابھی نہیں کی بہ نام خوش نفسی ہم تو آہ بھرتے رہے کہ صرف رنج کیا ہم نے، زندگی نہیں کی ہمیشہ دل کو میسر رہی ہے دولت ہجر جنوں کے رزق میں اس نے کبھی کمی نہیں کی بصد خلوص اٹھاتا رہا سبھی کے یہ ناز ہمارے دل نے ہماری ہی دلبری نہیں کی جسے وطیرہ بنائے رہی وہ چشم غزال وہ بے رخی کی سہولت ہمیں بھی تھی، نہیں کی ہے ایک عمر سے معمول روز کا عرفانؔ دعائے رد انا ہم نے آج ہی نہیں کی
yaa mulaaqaat ke imkaan se baahar ho jaa
یا ملاقات کے امکان سے باہر ہو جا یا کسی دن مری فرصت کو میسر ہو جا تجھ کو معلوم نہیں ہے مری خواہش کیا ہے مجھ پہ احسان نہ کر اور سبک سر ہو جا ارتقا کیا تری قسمت میں نہیں لکھا ہے اب تمنا سے گزر میرا مقدر ہو جا میں جہاں پاؤں رکھوں واں سے بگولا اٹھے ریگ صحرا مری وحشت کے برابر ہو جا اے مرے حرف سخن تو مجھے حیراں کر دے تو کسی دن مری امید سے بڑھ کر ہو جا
chup hai aaghaaz mein, phir shor-e-ajal paDtaa hai
چپ ہے آغاز میں، پھر شور اجل پڑتا ہے اور کہیں بیچ میں امکان کا پل پڑتا ہے ایک وحشت ہے کہ ہوتی ہے اچانک طاری ایک غم ہے کہ یکایک ہی ابل پڑتا ہے یاد کا پھول مہکتے ہی نواح شب میں کوئی خوشبو سے ملاقات کو چل پڑتا ہے حجرۂ ذات میں سناٹا ہی ایسا ہے کہ دل دھیان میں گونجتی آہٹ پہ اچھل پڑتا ہے روک لیتا ہے ابد وقت کے اس پار کی راہ دوسری سمت سے جاؤں تو ازل پڑتا ہے ساعتوں کی یہی تکرار ہے جاری ہر دم میری دنیا میں کوئی آج، نہ کل پڑتا ہے تاب یک لحظہ کہاں حسن جنوں خیز کے پیش سانس لینے سے توجہ میں خلل پڑتا ہے مجھ میں پھیلی ہوئی تاریکی سے گھبرا کے کوئی روشنی دیکھ کے مجھ میں سے نکل پڑتا ہے جب بھی لگتا ہے سخن کی نہ کوئی لو ہے نہ رو دفعتاً حرف کوئی خوں میں مچل پڑتا ہے غم چھپائے نہیں چھپتا ہے کروں کیا عرفانؔ نام لوں اس کا تو آواز میں بل پڑتا ہے
junun ke dam se aakhir martaba kaisaa milaa mujh ko
جنوں کے دم سے آخر مرتبہ کیسا ملا مجھ کو ابھی فرہاد و قیس آئے تھے کہنے مرحبا مجھ کو کسی صورت بھی رد ہوتا نہیں یہ فیصلہ دل کا نظر آتا نہیں کوئی بھی تجھ سا دوسرا مجھ کو سر کنج تمنا پھر خوشی سے گنگناؤں گا اگر وہ لوٹ کر آئے تو پھر تم دیکھنا مجھ کو نہ جان رشک سے غصے سے غم سے یا رقابت سے یہ کس انداز سے تکتا ہے تیرا آئنہ مجھ کو کھلے تو سب زمانوں کے خزانے ہاتھ آ جائیں در اقلیم ہفت عالم ہے وہ بند قبا مجھ کو گماں میں بھی گماں لگتی ہے اب تو زندگی میری نظر آتا ہے اب وہ خواب میں بھی خواب سا مجھ کو کثافت بار پا سکتی نہیں ایسی لطافت میں کرم اس کا کہ بخشا دل کے بدلے آبلہ مجھ کو صبا میری قدم بوسی سے پہلے گل نہ دیکھے گی اگر وحشت نے کچھ دن باغ میں رہنے دیا مجھ کو نہ نکلی آج گر کوئی یہاں یکجائی کی صورت تو کل سے ڈھونڈتے پھرنا جہاں میں جا بجا مجھ کو گزر گاہ نفس میں ہوں مثال برگ آوارہ کوئی دم میں اڑا لے جائے گی باد فنا مجھ کو وہ دل آویز آنکھیں وہ لب و رخسار وہ زلفیں نہیں اب دیکھنا کچھ بھی نہیں اس کے سوا مجھ کو ازل سے تا ابد دنیا سے لے کر آسمانوں تک نظر آتا ہے تیری ہی نظر کا سلسلہ مجھ کو مرے ہونے سے ہی کچھ اعتبار اس کا بھی قائم ہے جنوں تم سے نمٹ لے گا جو دیوانہ کہا مجھ کو کوئی عرفانؔ مجھ میں سے مجھے آواز دیتا ہے ارے تو سوچتا کیا ہے کبھی کچھ تو بتا مجھ کو





