SHAWORDS
Josh Malihabadi

Josh Malihabadi

Josh Malihabadi

Josh Malihabadi

poet
47Shayari
41Ghazal

Popular Shayari

47 total

Ghazalغزل

See all 41
غزل · Ghazal

دل آزادہ رو میں وہ تمنا تھی بیاباں کی قدم رکھتے ہی شق ہونے لگی دیوار زنداں کی خدا کی رحمتیں اے مطرب رنگیں نوا تجھ پر کہ ہر کانٹے میں تو نے روح دوڑا دی گلستاں کی یہ ثابت کر دیا تجھ کو بنا کر دست قدرت نے کہ ہو سکتی ہیں اتنی خوبیاں صورت میں انساں کی نسیم صبح ٹھنڈی سانس بھرتی ہے مزاروں پر اداسی منہ اندھیرے دیکھیے گور غریباں کی یہ عالم کیا ہے اک مجموعہ ہے ناچیز ذروں کا یہ دنیا کیا ہے اک ترکیب اجزائے پریشاں کی ہواؤں کے وہ جھونکے وہ کھلے میدان کی سردی وہ لہریں چاند سے رخسار پر زلف پریشاں کی ہماری زندگی کیا سلسلہ اک دل دھڑکنے کا ہماری موت کیا جنبش ہے اک جذبات پنہاں کی بنا دیں گی یقیں ہے جوشؔ مرد باخدا اک دن تپش اندوزیاں سینے میں برق سوز پنہاں کی

dil-e-aazaada-rau mein vo tamannaa thi bayaabaan ki

غزل · Ghazal

تجربے کے دشت سے دل کو گزرنے کے لیے روز اک صورت نئی ہے غور کرنے کے لیے جب کوئی بنتا ہے لاکھوں ہستیوں کو میٹ کر صبح تاروں کو دباتی ہے ابھرنے کے لیے حامل اسرار فطرت ہوں گدا بھی ہوں تو کیا بات یہ کافی ہے مجھ کو فخر کرنے کے لیے روح کو چمکا خودی کو توڑ کر زینے بنا دو یہ تدبیریں ہیں دنیا میں ابھرنے کے لیے غور سے دیکھا نظام دہر تو ثابت ہوا آدمی پیدا ہوا ہے کام کرنے کے لیے صبح اٹھ کر آنسوؤں سے خون کے روتا ہوں میں دل کے نقشے میں وفا کا رنگ بھرنے کے لیے گوہر مقصود خود ملتا ہے ہمت شرط ہے مضطرب رہتا ہے ہر موتی ابھرنے کے لیے آنکھ شرمائی ہوئی ہے بال پیشانی پہ ہیں آئینہ خانے میں جاتے ہیں سنورنے کے لیے کہہ دو دنیا کے حوادث سے نہ چھیڑیں اس طرح جوشؔ ہم تیار ہی بیٹھے ہیں مرنے کے لیے

tajrabe ke dasht se dil ko guzarne ke liye

غزل · Ghazal

اس قدر ڈوبا ہوا دل درد کی لذت میں ہے تیرا عاشق انجمن ہی کیوں نہ ہو خلوت میں ہے جذب کر لینا تجلی روح کی عادت میں ہے حسن کو محفوظ رکھنا عشق کی فطرت میں ہے محو ہو جاتا ہوں اکثر میں کہ دشمن ہوں ترا دل کشی کس درجہ اے دنیا تری صورت میں ہے اف نکل جاتی ہے خطرے ہی کا موقعہ کیوں نہ ہو حسن سے بیتاب ہو جانا مری فطرت میں ہے اس کا اک ادنیٰ کرشمہ روح وہ اتنا عجیب عقل استعجاب میں ہے فلسفہ حیرت میں ہے نور کا تڑکا ہے دھیمی ہو چلی ہے چاندنی ہل رہا ہے دل مرا مصروف وہ زینت میں ہے

is qadar Duubaa huaa dil dard ki lazzat mein hai

غزل · Ghazal

یہ بات یہ تبسم یہ ناز یہ نگاہیں آخر تمہیں بتاؤ کیونکر نہ تم کو چاہیں اب سر اٹھا کے میں نے شکوؤں سے ہات اٹھایا مر جاؤں گا ستم گر نیچی نہ کر نگاہیں کچھ گل ہی سے نہیں ہے روح نمو کو رغبت گردن میں خار کی بھی ڈالے ہوئے ہے بانہیں اللہ ری دل فریبی جلووں کے بانکپن کی محفل میں وہ جو آئے کج ہو گئیں کلاہیں یہ بزم جوشؔ کس کے جلووں کی رہ گزر ہے ہر ذرے میں ہیں غلطاں اٹھتی ہوئی نگاہیں

ye baat ye tabassum ye naaz ye nigaahein

غزل · Ghazal

وہ صبر دے کہ نہ دے جس نے بیقرار کیا بس اب تمہیں پہ چلو ہم نے انحصار کیا تمہارا ذکر نہیں ہے تمہارا نام نہیں کیا نصیب کا شکوہ ہزار بار کیا ثبوت ہے یہ محبت کی سادہ لوحی کا جب اس نے وعدہ کیا ہم نے اعتبار کیا مآل ہم نے جو دیکھا سکون و جنبش کا تو کچھ سمجھ کے تڑپنا ہی اختیار کیا مرے خدا نے مرے سب گناہ بخش دیے کسی کا رات کو یوں میں نے انتظار کیا

vo sabr de ki na de jis ne be-qaraar kiyaa

غزل · Ghazal

نہ چھیڑ شاعر رباب رنگیں یہ بزم ابھی نکتہ داں نہیں ہے تری نواسنجیوں کے شایاں فضائے ہندوستاں نہیں ہے تری سماعت نگار فطرت کے لحن کی راز داں نہیں ہے وگرنہ ذرہ ہے کون ایسا کہ جس کے منہ میں زباں نہیں ہے اگرچہ پامال ہیں یہ بحریں مگر سخن ہے بلند ہمدم نہ دل میں لانا گمان پستی مری زمیں آسماں نہیں ہے ضمیر فطرت میں پر فشاں ہے چمن کی ترتیب نو کا ارماں خزاں جسے تو سمجھ رہا ہے وہ در حقیقت خزاں نہیں ہے حریم انوار سرمدی ہے ہر ایک ذرہ بہ رب کعبہ مرا یہ عینی مشاہدہ ہے فریب وہم و گماں نہیں ہے ہر ایک کانٹے پہ سرخ کرنیں ہر اک کلی میں چراغ روشن خیال میں مسکرانے والے ترا تبسم کہاں نہیں ہے فلک سے ہنگام شعر گوئی صدائیں پیہم یہ آ رہی ہیں کہ آج اے جوشؔ نکتہ پرور ترا سا جادو بیاں نہیں ہے

na chheD shaair rabaab-e-rangin ye bazm abhi nukta-daan nahin hai

Similar Poets