SHAWORDS
Adil Mansuri

Adil Mansuri

Adil Mansuri

Adil Mansuri

poet
49Sher
49Shayari
37Ghazal

Sherشعر

See all 49

Popular Sher & Shayari

98 total

Ghazalغزل

See all 37
غزل · Ghazal

pahlu ke aar-paar guzartaa huaa saa ho

پہلو کے آر پار گزرتا ہوا سا ہو اک شخص آئنے میں اترتا ہوا سا ہو جیتا ہوا سا ہو کبھی مرتا ہوا سا ہو اک شہر اپنے آپ سے ڈرتا ہوا سا ہو سارے کبیرہ آپ ہی کرتا ہوا سا ہو الزام دوسرے ہی پہ دھرتا ہوا سا ہو ہر اک نیا خیال جو ٹپکے ہے ذہن سے یوں لگ رہا ہے جیسے کہ برتا ہوا سا ہو قیلولہ کر رہے ہوں کسی نیم کے تلے میداں میں رخش عمر بھی چرتا ہوا سا ہو معشوق ایسا ڈھونڈئیے قحط الرجال میں ہر بات میں اگرتا مگرتا ہوا سا ہو پھر بعد میں وہ قتل بھی کر دے تو حرج کیا لیکن وہ پہلے پیار بھی کرتا ہوا سا ہو گر داد تو نہ دے نہ سہی گالیاں سہی اپنا بھی کوئی عیب ہنرتا ہوا سا ہو

غزل · Ghazal

jo chiiz thi kamre mein vo be-rabt paDi thi

جو چیز تھی کمرے میں وہ بے ربط پڑی تھی تنہائیٔ شب بند قبا کھول رہی تھی آواز کی دیوار بھی چپ چاپ کھڑی تھی کھڑکی سے جو دیکھا تو گلی اونگھ رہی تھی بالوں نے ترا لمس تو محسوس کیا تھا لیکن یہ خبر دل نے بڑی دیر سے دی تھی ہاتھوں میں نیا چاند پڑا ہانپ رہا تھا رانوں پہ برہنہ سی نمی رینگ رہی تھی یادوں نے اسے توڑ دیا مار کے پتھر آئینے کی خندق میں جو پرچھائیں پڑی تھی دنیا کی گزرتے ہوئے پڑتی تھیں نگاہیں شیشے کی جگہ کھڑکی میں رسوائی جڑی تھی ٹوٹی ہوئی محراب سے گنبد کے کھنڈر تک اک بوڑھے موذن کی صدا گونج رہی تھی

غزل · Ghazal

har khvaab kaali raat ke saanche mein Dhaal kar

ہر خواب کالی رات کے سانچے میں ڈھال کر یہ کون چھپ گیا ہے ستارے اچھال کر ایسے ڈرے ہوئے ہیں زمانے کی چال سے گھر میں بھی پاؤں رکھتے ہیں ہم تو سنبھال کر خانہ خرابیوں میں ترا بھی پتہ نہیں تجھ کو بھی کیا ملا ہمیں گھر سے نکال کر جھلسا گیا ہے کاغذی چہروں کی داستاں جلتی ہوئی خموشیاں لفظوں میں ڈھال کر یہ پھول خود ہی سوکھ کر آئیں گے خاک پر تو اپنے ہاتھ سے نہ انہیں پائمال کر

غزل · Ghazal

phir kisi khvaab ke parde se pukaaraa jaaun

پھر کسی خواب کے پردے سے پکارا جاؤں پھر کسی یاد کی تلوار سے مارا جاؤں پھر کوئی وسعت آفاق پہ سایہ ڈالے پھر کسی آنکھ کے نقطے میں اتارا جاؤں دن کے ہنگاموں میں دامن کہیں میلا ہو جائے رات کی نقرئی آتش میں نکھارا جاؤں خشک کھوئے ہوئے گمنام جزیرے کی طرح درد کے کالے سمندر سے ابھارا جاؤں اپنی کھوئی ہوئی جنت کا طلب گار بنوں دست یزداں سے گنہ گار سنوارا جاؤں

غزل · Ghazal

saDkon par suraj utraa

سڑکوں پر سورج اترا سایہ سایہ ٹوٹ گیا جب گل کا سینہ چیرا خوشبو کا کانٹا نکلا تو کس کے کمرے میں تھی میں تیرے کمرے میں تھا کھڑکی نے آنکھیں کھولی دروازے کا دل دھڑکا دل کی اندھی خندق میں خواہش کا تارا ٹوٹا جسم کے کالے جنگل میں لذت کا چیتا لپکا پھر بالوں میں رات ہوئی پھر ہاتھوں میں چاند کھلا

غزل · Ghazal

zamin chhoD kar main kidhar jaaungaa

زمیں چھوڑ کر میں کدھر جاؤں گا اندھیروں کے اندر اتر جاؤں گا مری پتیاں ساری سوکھی ہوئیں نئے موسموں میں بکھر جاؤں گا اگر آ گیا آئنہ سامنے تو اپنے ہی چہرے سے ڈر جاؤں گا وہ اک آنکھ جو میری اپنی بھی ہے نہ آئی نظر تو کدھر جاؤں گا وہ اک شخص آواز دے گا اگر میں خالی سڑک پر ٹھہر جاؤں گا پلٹ کر نہ پایا کسی کو اگر تو اپنی ہی آہٹ سے ڈر جاؤں گا تری ذات میں سانس لی ہے سدا تجھے چھوڑ کر میں کدھر جاؤں گا

Similar Poets