SHAWORDS
Bekhud Badayuni

Bekhud Badayuni

Bekhud Badayuni

Bekhud Badayuni

poet
15Shayari
18Ghazal

Popular Shayari

15 total

Ghazalغزل

See all 18
غزل · Ghazal

حشر پر وعدۂ دیدار ہے کس کا تیرا لاکھ انکار اک اقرار ہے کس کا تیرا نہ دوا سے اسے مطلب نہ شفا سے سروکار ایسے آرام میں بیمار ہے کس کا تیرا لاکھ پردے میں نہاں شکل ہے کس کی تیری جلوہ ہر شے سے نمودار ہے کس کا تیرا اور پامال ستم کون ہے تو ہے بیخودؔ اس ستم گر سے سروکار ہے کس کا تیرا

hashr par vaada-e-didaar hai kis kaa teraa

غزل · Ghazal

ساتھ ساتھ اہل تمنا کا وہ مضطر جانا اللہ اللہ ترا بزم سے اٹھ کر جانا رہبری کر کے مری خضر بھی چکر میں پڑے اب انہیں جلوہ گہہ یار میں اکثر جانا داغ کم حوصلگی دل کو گوارا نہ ہوا ورنہ کچھ ہجر میں دشوار نہ تھا مر جانا سادگی سے یہ گماں ہے کہ بس اب رحم کیا مطمئن ہوں کہ مجھے آپ نے مضطر جانا نشہ میں بھی ترے بیخودؔ کی تعلی نہ گئی بادۂ ہوش ربا کو مئے کوثر جانا

saath saath ahl-e-tamannaa kaa vo muztar jaanaa

غزل · Ghazal

یوں ہی رہا جو بتوں پر نثار دل میرا کرے گا مجھ کو زمانے میں خوار دل میرا چلی چلی مژۂ اشک بار آنکھ مری جلا جلا نفس شعلہ بار دل میرا عجیب مونس و ہمدرد و ذی مروت تھا غریق رحمت پروردگار دل میرا وفور شرم سے واں اجتناب مد نظر ہجوم شوق سے یاں بے قرار دل میرا بنا دیا اسے خودبین و خود نما بیخودؔ ہوا ہے آئینۂ حسن یار دل میرا

yunhi rahaa jo buton par nisaar dil meraa

غزل · Ghazal

کیوں مرا حال قصہ خواں سے سنو یہ کہانی مری زباں سے سنو غم ہی غم ہے مرے فسانے میں دکھ ہی دکھ ہے اسے جہاں سے سنو مجھ سے پوچھو تم اپنے جی کا حال راز کی بات راز داں سے سنو غم مرے دل میں تم ہو پردے میں سچ تو ہے تم اسے کہاں سے سنو چھپ گیا ہے فسانۂ بیخودؔ کبھی تم بھی تو قصہ خواں سے سنو

kyuun miraa haal qissa-khvaan se suno

غزل · Ghazal

اس بزم میں نہ ہوش رہے گا ذرا مجھے اے شوق ہرزہ تاز کہاں لے چلا مجھے یہ درد دل ہی زیست کا باعث ہے چارہ گر مر جاؤں گا جو آئی موافق دوا مجھے اس ذوق ابتلا کا مزہ اس کے دم سے ہے سب کچھ ملا ملا ہو دل مبتلا مجھے دیر و حرم کو دیکھ لیا خاک بھی نہیں بس اے تلاش یار نہ در در پھرا مجھے یہ دل سے دور ہو نہ دکھائے خدا وہ دن ظالم ترا خیال ہے دل سے سوا مجھے رنج و ملال و حسرت و ارمان و آرزو جانے سے ایک دل کے بہت کچھ ملا مجھے میں جانتا ہوں آپ ہیں مست اپنے حال میں بیخودؔ نہیں ہے آپ سے مطلق گلا مجھے

is bazm mein na hosh rahegaa zaraa mujhe

غزل · Ghazal

جس میں سودا نہیں وہ سر ہی نہیں درد جس میں نہیں جگر ہی نہیں لوگ کہتے ہیں وہ بھی ہیں بے چین کچھ یہ بے تابیاں ادھر ہی نہیں دل کہاں کا جو درد دل ہی نہ ہو سر کہاں کا جو درد سر ہی نہیں بے خبر جن کی یاد میں ہیں ہم خیر سے ان کو کچھ خبر ہی نہیں بیخودؔ محو و شکوہ ہائے عتاب اس منش کا تو وہ بشر ہی نہیں

jis mein saudaa nahin vo sar hi nahin

Similar Poets