"puuri tarah se ab ke tayyar ho ke nikle ham charagar se milne bimar ho ke nikle"

Farhat Ehsas
Farhat Ehsas
Farhat Ehsas
Sherشعر
See all 101 →puuri tarah se ab ke tayyar ho ke nikle
پوری طرح سے اب کے تیار ہو کے نکلے ہم چارہ گر سے ملنے بیمار ہو کے نکلے
ik raat vo gaya tha jahan baat rok ke
اک رات وہ گیا تھا جہاں بات روک کے اب تک رکا ہوا ہوں وہیں رات روک کے
ek bose ke bhi nasib na hon
ایک بوسے کے بھی نصیب نہ ہوں ہونٹھ اتنے بھی اب غریب نہ ہوں
farar ho ga.i hoti kabhi ki ruuh miri
فرار ہو گئی ہوتی کبھی کی روح مری بس ایک جسم کا احسان روک لیتا ہے
aankh bhar dekh lo ye virana
آنکھ بھر دیکھ لو یہ ویرانہ آج کل میں یہ شہر ہوتا ہے
tamam paikar-e-badsurti hai mard ki zaat
تمام پیکر بدصورتی ہے مرد کی ذات مجھے یقیں ہے خدا مرد ہو نہیں سکتا
Popular Sher & Shayari
202 total"ik raat vo gaya tha jahan baat rok ke ab tak ruka hua huun vahin raat rok ke"
"ek bose ke bhi nasib na hon honTh itne bhi ab gharib na hon"
"farar ho ga.i hoti kabhi ki ruuh miri bas ek jism ka ehsan rok leta hai"
"aankh bhar dekh lo ye virana aaj kal men ye shahr hota hai"
"tamam paikar-e-badsurti hai mard ki zaat mujhe yaqin hai khuda mard ho nahin sakta"
vo chaand kah ke gayaa thaa ki aaj niklegaa
to intizaar mein baiThaa huaa huun shaam se main
ek bose ke bhi nasib na hon
honTh itne bhi ab gharib na hon
phir soch ke ye sabr kiyaa ahl-e-havas ne
bas ek mahina hi to ramzaan rahegaa
mire ashaar hain vo aasmaani khvaab jin ko
miri miTTi ke honThon par utaaraa jaa rahaa hai
ik aayat-e-vajud huun miTTi ke Dher mein
mere nuzul ki to koi shaan hi nahin
mohabbat phuul banne par lagi thi
palaT kar phir kali kar li hai main ne
Ghazalغزل
ham hain insaan is liye laazim hai ki musalsal kaam karein
ہم ہیں انسان اس لیے لازم ہے کہ مسلسل کام کریں کوئی خدا تو نہیں ہیں ہم جو ساتویں دن آرام کریں ہم تو ہیں بندے جان و بدن سے آپ کے حسن کے تابع دار آپ ہیں آقا ہم جیسے چاہے جتنوں کو غلام کریں ہم کو تو عادت ہے راتوں میں جاگنے رونے گانے کی ہم کو ہمارے حال پہ چھوڑیں نیند نہ اپنی حرام کریں آپ کی آنکھوں سے لفظوں کا رزق اترتا ہے ہم پر آپ جو چاہیں سوکھا رکھیں یا بارش الہام کریں
badan baandhe hue saanson ki rahdaari mein rahte hain
بدن باندھے ہوئے سانسوں کی رہداری میں رہتے ہیں کہ ہم ہر دم کہیں جانے کی تیاری میں رہتے ہیں نہ ہوں آنسو تو یہ آنکھیں بھلی لگتی نہیں ہم کو سو اکثر آپ اپنی ہی دل آزاری میں رہتے ہیں ہمیں معلوم ہے رونق یہ بازاروں کی جھوٹی ہے مگر پھر بھی فریب حسن بازاری میں رہتے ہیں ہم اہل عشق پھر اہل ہوس سے مات کھا بیٹھے وظیفہ خوار بزم حسن درباری میں رہتے ہیں ہمارے دل تو ہیں مصروف سرکاریں گرانے میں بدن تعمیل احکامات سرکاری میں رہتے ہیں دبے ہیں خاک میں کتنے ہی سورج چاند اور تارے سو ہم اپنی زمیں کی آسماں کاری میں رہتے ہیں ہماری شاعری اک مستقل ہولی کا موسم ہے ہزاروں رنگ اس لفظوں کی پچکاری میں رہتے ہیں جناب فرحت احساسؔ اب نہ شہری ہیں نہ صحرائی مسلسل درمیان خواب و بے داری میں رہتے ہیں
pahle to zaraa saa haT ke dekhaa
پہلے تو ذرا سا ہٹ کے دیکھا اس شوخ سے پھر لپٹ کے دیکھا اتنی بھی بری نہ تھی جو میں نے دنیا کو ذرا سا ہٹ کے دیکھا دیکھا اسے اس کا ہو کے اور پھر کیا فرق پڑے گا کٹ کے دیکھا ہم جمع ہوئے ہی جا رہے تھے آرام ملا جو گھٹ کے دیکھا بس ایک ہی خواب تھا کہ جس کو تا عمر الٹ پلٹ کے دیکھا وہ اور قریب آ گیا تھا جب میں نے ذرا سمٹ کے دیکھا پھر دل نے مرے غم اور خوشی کو رسی کی طرح سے بٹ کے دیکھا کل ڈوب رہا تھا فرحتؔ احساس ہم نے بھی تماشا ڈٹ کے دیکھا
dabaa paDaa hai kahin dasht mein khazaana miraa
دبا پڑا ہے کہیں دشت میں خزانہ مرا تو کس تلاش میں ہے شہر میں دوانہ مرا تمام رات ہے آنکھوں سے آنسوؤں کی کشید تمام رات کھلا ہے شراب خانہ مرا یہ میری روح کا جھگڑا تھا آسماں کے ساتھ بلا قصور بدن بن گیا نشانہ مرا فلک کے سر پہ پڑے ہیں میری زمین کے پاؤں مرے سرہانے سے اونچا ہے پائتانہ مرا میں ایک زخم برابر زمیں پہ رہتا ہوں وہ کہہ رہے ہیں یہ قبضہ ہے غاصبانہ مرا تو آؤ اہل جہاں اس پہ فیصلہ کر لیں مکان سارا تمہارا درون خانہ مرا خود اپنے آپ میں ہے ساری میری آمد و رفت کہیں سے آنا نہ اب ہے کہیں بھی جانا مرا کہاں کا عشق ہوس تک بھی ہو نہیں سکتی یہی رہے گا جو انداز مجرمانہ مرا بکھیرنی ہے جسے زلف اس کا استقبال وبال شہر سے خالی ہے ایک شانہ مرا میں خوب فاقہ نہ کرتا تو مر گیا ہوتا مرے خلاف صف آرا تھا آب و دانہ مرا کبھی خدا کبھی انسان راہ میں حائل خود اپنے آپ سے رشتہ بھی غائبانہ مرا کہیں مرے کسی لمحے سے پھر ہوئی کوئی چوک پھر آتے آتے کہیں رہ گیا زمانہ مرا ترے غیاب کی خدمت میں سارا میرا قصور وجود پھر بھی وہی غیر حاضرانہ مرا وہ میرے لفظ کے دونوں سروں سے واقف ہے کبھی بھی کام نہ آیا کوئی بہانہ مرا
din ne itnaa jo marizaana banaa rakkhaa hai
دن نے اتنا جو مریضانہ بنا رکھا ہے رات کو ہم نے شفا خانہ بنا رکھا ہے انتقام ایسا لیا ہے مری تنہائی نے شہر کا شہر بیابانہ بنا رکھا ہے خاک کا خانہ غریبانہ بدن ہے کہ جسے رونق عشق نے شاہانہ بنا رکھا ہے ہم کو معلوم ہے خوب اپنی حقیقت سو اسے اسی عنوان کا افسانہ بنا رکھا ہے مبتذل ہونے کا آپ اپنا مزہ ہے ورنہ ہم نے بھی خود کو حکیمانہ بنا رکھا ہے آدمی ہو کہ خدا سب کا برابر ہے وزن عشق نے ایک ہی پیمانہ بنا رکھا ہے چاک کر کر کے ہوئے تنگ تو دیوانوں نے چاک کو اب کے گریبانہ بنا رکھا ہے فرحت اللہؔ ہے وہ عقل کا پتلا جس نے فرحتؔ احساس کو دیوانہ بنا رکھا ہے
ye khubaan shahr ke ham se bahut hushyaari karte hain
یہ خوباں شہر کے ہم سے بہت ہشیاری کرتے ہیں ہمیں سادہ سمجھ کر خوب خوش گفتاری کرتے ہیں بڑی مشکل سے توڑے ہیں یہ معمولات ہجر آخر سو اک عرصہ ہوا دن میں ہی شب بیداری کرتے ہیں نہیں پاتے در و دیوار میں گھر کی کوئی صورت تو ہم گھر کے تصور میں در و دیواری کرتے ہیں کہانی جو کراتی ہے وہی تو ہم کو کرنا ہے بھلا ہو یا برا ہو ہم تو بس کرداری کرتے ہیں ہمیں طیار ہونے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی کہ ساری زندگی مرنے کی ہی تیاری کرتے ہیں تو ہم قانون شکنی کی طرح کرتے ہیں رات اپنی سحر سے شام تک ہر کام جب سرکاری کرتے ہیں شرابیں تو کلیدیں ہیں لہو کے قید خانوں کی سو تالے توڑتے ہیں اور دریا جاری کرتے ہیں سنا ہے تندرستی عشق میں اچھی نہیں ہوتی چلو جی فرحت احساسؔ اب ذرا بیماری کرتے ہیں





