SHAWORDS
Ata Abidi

Ata Abidi

Ata Abidi

Ata Abidi

poet
8Sher
8Shayari
11Ghazal

Sherشعر

See all 8

Popular Sher & Shayari

16 total

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

nashaat-e-kaar se mahrum hi sahi ham bhi

نشاط کار سے محروم ہی سہی ہم بھی ہوس سے زیست کی پھر بھی نہیں تہی ہم بھی ہمیں بھی زعم ہے دانشورانہ منصب کا ہیں مبتلائے فریب خود آگہی ہم بھی ہیں مٹھیوں میں سبھی رہنما خطوط اگر اٹھائے پھرتے ہیں کیوں بار گمرہی ہم بھی ہے زیست نام تغیر کا یہ سنا تو ہے وہی ہو تم بھی وہی غم بھی اور وہی ہم بھی اگر ہے دعویٔ الفت تو کیوں اٹھائے پھریں مثال منشی و تاجر عطاؔ بہی ہم بھی

غزل · Ghazal

tirgi shama bani raahguzar mein aai

تیرگی شمع بنی راہ گزر میں آئی ساعت اک ایسی بھی کل اپنے سفر میں آئی جس جگہ چہرہ ہی معیار وفا ٹھہرا ہے خاک ہی خاک وہاں دست ہنر میں آئی تیری نظروں میں تھی دنیا تو یہی کیا کم تھا حشر یہ ہے کہ تو دنیا کی نظر میں آئی بارہا یاروں نے ساحل سے کہا تھا ہم ہیں بارہا ناؤ مگر اپنی بھنور میں آئی زندگی سمجھوں اسے یا کہ اسے موت کہوں وہ جو مہمان کی صورت مرے گھر میں آئی یوں بھی تاریخ کی تاریخ رقم ہوتی ہے نکلی تاریخ محل سے تو کھنڈر میں آئی خواب ہی خواب کی تعبیر ہوا تو جانا زندگی کیوں کسی آنکھوں کے اثر میں آئی شمع جلتے ہی بجھی اور دھواں ایسا اٹھا لذت شام یہاں خواب سحر میں آئی زندگی کچھ ہے عطاؔ شعر و ادب ہے کچھ اور یہ دو رنگی کی وبا کیسی ہنر میں آئی

غزل · Ghazal

kisi ki mehrbaani ho gai hai

کسی کی مہربانی ہو گئی ہے عیاں دل کی کہانی ہو گئی ہے ہرے موسم کی پہلی خواہشیں اف خوشی غم کی دوانی ہو گئی ہے سبھی افراد گھر کے سو گئے ہیں بہت لمبی کہانی ہو گئی ہے روایت کا ہے اب بھی سحر قائم ہر اک جدت پرانی ہو گئی ہے پس چہرہ ملا اک اور چہرہ عقیدت پانی پانی ہو گئی ہے

غزل · Ghazal

jaagte hi nazar akhbaar mein kho jaati hai

جاگتے ہی نظر اخبار میں کھو جاتی ہے زندگی درد کے انبار میں کھو جاتی ہے نا خدا عقل کے پتوار اٹھاتا ہے کہ جب کشتئ دل مری منجدھار میں کھو جاتی ہے بے سبب سوچنے والے کبھی سوچا تو نے آگہی کثرت افکار میں کھو جاتی ہے اڑتے رہتے ہیں خیالات کے جگنو پھر بھی بات کیوں پردۂ اظہار میں کھو جاتی ہے اس کے کاموں کا ہے رنگین خوشامد پہ مدار اور محنت مری ایثار میں کھو جاتی ہے حرمت پردہ ضروری ہے عطاؔ جی ورنہ چیز جیسی بھی ہو بازار میں کھو جاتی ہے

غزل · Ghazal

tujh ko khiffat se bachaa luun paani

تجھ کو خفت سے بچا لوں پانی تشنگی اپنی چھپا لوں پانی خاک اڑتی ہے ہر اک چہرے پر کس کی آنکھوں سے نکالوں پانی دھوپ دریا پہ نظر رکھتی ہے تجھ کو کوزے میں چھپا لوں پانی اڑتے پھرتے ہیں سروں پر بادل خواب آنکھوں میں بسا لوں پانی روز بچوں کو سلا دوں یونہی روز پتھر کو ابالوں پانی آگ سے کھیلتا ہے کل مجھ کو آ تجھے اپنا بنا لوں پانی خارزاروں پہ چلوں ننگے پاؤں خشک دھرتی کی دعا لوں پانی صبر کی حد بھی تو کچھ ہوتی ہے کتنا پلکوں پہ سنبھالوں پانی بھول جاؤں نہ کہیں تیراکی کیوں نہ کشتی ہی جلا لوں پانی اپنی وحشت کا اک اظہار سہی کر کے سرد آگ جلا لوں پانی زخم ہو پھول ہو یا انگارہ ہو جو روشن تو بلا لوں پانی شرط ہے تیری رفاقت ورنہ وقت کی آگ میں ڈالوں پانی آگ مطلوب لب تشنہ ہے میں تجھے کیسے بلا لوں پانی چشم احباب جو ہو خشک عطاؔ خون کو اپنے بنا لوں پانی

غزل · Ghazal

saanson ke taaaqub mein hairaan mili duniyaa

سانسوں کے تعاقب میں حیران ملی دنیا تصویر بنے جب ہم آئینہ ہوئی دنیا ہم خون پسینہ جب اک کر کے ہوئے روشن کیوں آگ بنی دنیا اور خوب جلی دنیا اپنا نظریہ کیا محروم نظر ہیں جب اس سمت چلے ہم بھی جس سمت چلی دنیا سیلاب بلا سے یہ کیوں خوف دلاتی ہے کیا ہم کو بچائے گی شعلوں میں گھری دنیا معمول جدائی ہے گو پھول کی گلشن سے لیکن جو ہوئی عنقا خوابوں میں بسی دنیا سب خواب پرانے ہیں ہر چند فسانے ہیں ہم روز بساتے ہیں آنکھوں میں نئی دنیا ہم دونوں سفر میں تھے معلوم نہیں اب کچھ کیا تو نے کہی دنیا کیا ہم نے سنی دنیا فردائے قیامت کا وعدہ ترا پرساں ہے اب کتنی بچیں سانسیں اب کتنی بچی دنیا ہر بات پہ حیرانی ہر لمحے کی نگرانی دنیا سے عطاؔ یعنی کب سمجھی گئی دنیا

Similar Poets