SHAWORDS
Fani Badayuni

Fani Badayuni

Fani Badayuni

Fani Badayuni

poet
92Shayari
89Ghazal

Popular Shayari

92 total

Ghazalغزل

See all 89
غزل · Ghazal

تیرا نگاہ شوق کوئی راز داں نہ تھا آنکھوں کو ورنہ جلوۂ جاناں کہاں نہ تھا عالم جز اعتبار نہاں و عیاں نہ تھا یعنی کہ تو عیاں نہ ہوا اور نہاں نہ تھا اب تک تری گلی میں یہ رسوائیاں نہ تھیں اب تک تو اس زمیں پہ کوئی آسماں نہ تھا کیا دن تھے جب مآل وفا کی خبر نہ تھی وہ دن بھی تھے کہ حال وفا داستاں نہ تھا تلقین صبر دل سے تو کوئی دشمنی نہ تھی دیکھا یہ حال قابل شرح و بیاں نہ تھا مفہوم کائنات تمہارے سوا نہیں تم چھپ گئے نظر سے تو سارا جہاں نہ تھا ہر شاخ ہر شجر سے نہ تھا بجلیوں کو لاگ ہر شاخ ہر شجر پہ مرا آشیاں نہ تھا آغوش موت میں تہ دامان یار ہوں وہ دن گئے کہ مجھ پہ کوئی مہرباں نہ تھا آزردہ تھا کہ ضبط فغاں میں اثر نہیں شرمندہ ہوں کہ ضبط فغاں رائیگاں نہ تھا ہو بھی چکے تھے دام محبت میں ہم اسیر عالم ابھی بقید زمان و مکاں نہ تھا اللہ رے بے نیازئ آداب التفات دیکھا مجھے تو پائے نظر درمیاں نہ تھا میرے دل غیور کا حسن طلب تو دیکھ گویا زباں پہ حرف تمنا گراں نہ تھا تو نے کرم کیا تو بہ عنوان رنج زیست غم بھی مجھے دیا تو غم جاوداں نہ تھا فانیؔ فسون موت کی تاثیر دیکھنا ٹھہرا وہ دل کہ جس پہ سکوں کا گماں نہ تھا

teraa nigaah-e-shauq koi raaz-daan na thaa

غزل · Ghazal

تاکید ہے کہ دیدۂ دل وا کرے کوئی مطلب یہ ہے کہ دور سے دیکھا کرے کوئی آتے ہی تیرے وعدۂ فردا کا اعتبار گھبرا کے مر نہ جائے تو پھر کیا کرے کوئی وہ جلوہ بے حجاب سہی ضد کا کیا علاج جب دل میں رہ کے آنکھ سے پردا کرے کوئی کہتے ہیں حسن ہی کی امانت ہے درد عشق اب کیا کسی کے عشق کا دعویٰ کرے کوئی خالی ہے بزم ذوق طلب اہل ہوش سے اتنا نہیں کہ تیری تمنا کرے کوئی وہ درد دے کہ موت بھی جس کی دوا نہ ہو اس دل کو موت دے جسے اچھا کرے کوئی فانیؔ دعائے مرگ کی تکرار کیا ضرور غافل نہیں کہ ان سے تقاضا کرے کوئی

taakid hai ki dida-e-dil vaa kare koi

غزل · Ghazal

قطرہ دریائے آشنائی ہے کیا تری شان کبریائی ہے تیری مرضی جو دیکھ پائی ہے خلش درد کی بن آئی ہے وہم کو بھی ترا نشاں نہ ملا نارسائی سی نارسائی ہے کون دل ہے جو دردمند نہیں کیا ترے درد کی خدائی ہے جلوۂ یار کا بھکاری ہوں شش جہت کاسۂ گدائی ہے موت آتی ہے تم نہ آؤگے تم نہ آئے تو موت آئی ہے بچھ گئے راہ یار میں کانٹے کس کو عذر برہنہ پائی ہے ترک امید بس کی بات نہیں ورنہ امید کب بر آئی ہے مژدۂ جنت وصال ہے موت زندگی محشر جدائی ہے آرزو پھر ہے در پئے تدبیر سعی ناکام کی دہائی ہے موت ہی ساتھ دے تو دے فانیؔ عمر کو عذر بے وفائی ہے

qatra dariyaa-e-aashnaai hai

غزل · Ghazal

مر کر مریض غم کی وہ حالت نہیں رہی یعنی وہ اضطراب کی صورت نہیں رہی ہر لمحۂ حیات رہا وقف کار شوق مرنے کی عمر بھر مجھے فرصت نہیں رہی ایک نالۂ خموش مسلسل ہے اور ہم یادش بخیر ضبط کی طاقت نہیں رہی وہ عہد دل فریبئ تاثیر اب کہاں مدت سے آہ آہ کی حسرت نہیں رہی دل اور ہوائے سلسلہ جنبانئ نشاط کیوں پاس وضع غم تجھے غیرت نہیں رہی ہر بے گنہ سے وعدۂ بخشش ہے روز حشر گویا گناہ کی بھی ضرورت نہیں رہی اے عرض شوق مژدہ کہ دل چاک ہو گیا تکلیف پردہ دارئ حسرت نہیں رہی پتھرا گئی تھی آنکھ مگر بند تو نہ تھی اب یہ بھی انتظار کی صورت نہیں رہی عبرت نے بیکسی کا نشاں بھی مٹا دیا اڑتی تھی جس پہ خاک وہ تربت نہیں رہی محشر میں بھی وہ عہد وفا سے مکر گئے جس کی خوشی تھی اب وہ قیامت نہیں رہی کس منہ سے غم کے ضبط کا دعویٰ کرے کوئی طاقت بقدر حسرت راحت نہیں رہی فانیؔ امید مرگ نے بھی دے دیا جواب جینے کی ہجر میں کوئی صورت نہیں رہی

mar kar mariz-e-gham ki vo haalat nahin rahi

غزل · Ghazal

اپنی جنت مجھے دکھلا نہ سکا تو واعظ کوچۂ یار میں چل دیکھ لے جنت میری ساری دنیا سے انوکھی ہے زمانے سے جدا نعمت خاص ہے اللہ رے قسمت میری شکوۂ ہجر پہ سر کاٹ کے فرماتے ہیں پھر کروگے کبھی اس منہ سے شکایت میری تیری قدرت کا نظارہ ہے مرا عجز گناہ تیری رحمت کا اشارہ ہے ندامت میری لو تبسم بھی شریک نگہ ناز ہوا آج کچھ اور بڑھا دی گئی قیمت میری فیض یک لمحۂ دیدار سلامت فانیؔ غم کہ ہر روز ہے بڑھتی ہوئی دولت میری

apni jannat mujhe dikhlaa na sakaa tu vaaiz

غزل · Ghazal

کیوں نہ نیرنگ جنوں پر کوئی قرباں ہو جائے گھر وہ صحرا کہ بہار آئے تو زنداں ہو جائے برق دم لینے کو ٹھہرے تو رگ جاں ہو جائے فتنۂ حشر مجسم ہو تو انساں ہو جائے جوہر آئینہ دل ہے وہ تصویر ہے تو دل وہ آئینہ کہ تو دیکھ کے حیراں ہو جائے غم وہ راحت جسے قسمت کے دھنی پاتے ہیں دم وہ مشکل ہے کہ موت آئے تو آساں ہو جائے عشق وہ کفر کہ ایمان ہے دل والوں کا عقل مجبور وہ کافر جو مسلماں ہو جائے ذرہ وہ راز بیاباں ہے جو افشا نہ ہوا دشت وحشت ہے وہ ذرہ جو بیاباں ہو جائے غم محسوس وہ باطل جسے کہتے ہیں مجاز دل کی ہستی وہ حقیقت ہے جو عریاں ہو جائے خلد مے خانہ کو کہتے ہیں بقول واعظ کعبہ بت خانے کو کہتے ہیں جو ویراں ہو جائے سجدہ کہتے ہیں در یار پہ مر جانے کو قبلہ وہ سر ہے جو خاک رہ جاناں ہو جائے موت وہ دن بھی دکھائے مجھے جس دن فانیؔ زندگی اپنی جفاؤں پہ پشیماں ہو جائے

kyuun na nairang-e-junun par koi qurbaan ho jaae

Similar Poets