SHAWORDS
Khursheed Akbar

Khursheed Akbar

Khursheed Akbar

Khursheed Akbar

poet
38Sher
38Shayari
31Ghazal

Sherشعر

See all 38

Popular Sher & Shayari

76 total

Ghazalغزل

See all 31
غزل · Ghazal

kisi bhi shahr kaa mausam suhaanaa chhoD dete hain

کسی بھی شہر کا موسم سہانا چھوڑ دیتے ہیں گراں ہو جائیں تو ہم آب و دانہ چھوڑ دیتے ہیں فقط اک بھول نے ماں باپ کو القط کیا گھر میں کہ بیٹے جب سیانے ہوں کمانا چھوڑ دیتے ہیں میاں بیوی کے رشتے اعتمادوں کی امانت ہیں مگر اک آنکھ دونوں غائبانہ چھوڑ دیتے ہیں انہیں معلوم ہیں مجبور جیبوں کے تقاضے سب وہ ان میں خوب صورت سا بہانہ چھوڑ دیتے ہیں ہماری فاقہ مستی آسماں کے پیٹ بھرتی ہے ہم اپنے پاؤں کے نیچے خزانہ چھوڑ دیتے ہیں

غزل · Ghazal

din bahut saffaak niklaa raat sab dukh sah gai

دن بہت سفاک نکلا رات سب دکھ سہہ گئی دانت میں انگلی دبائے شام تنہا رہ گئی سنگ ریزوں کی طرح بکھری پڑی ہیں خواہشیں دیکھتے ہی دیکھتے کس کی حویلی ڈھ گئی صندلی خوابوں میں لپٹے تھے ہزاروں اژدہے اور پھر تاثیر جسم و جاں میں تہہ در تہہ گئی بے مروت ساعتوں کو روئیے کیوں عمر بھر ایک شے آنکھوں میں جو رہتی تھی کب کی بہہ گئی گھر کی دیواروں پہ سبزہ بن کے اگنا تھا مجھے اک ہوا صحرا سے آئی کان میں کچھ کہہ گئی

غزل · Ghazal

jism ke martabaan se aage

جسم کے مرتبان سے آگے ذائقے سے زبان سے آگے تیر سارے کمان سے آگے اک خلش اور جان سے آگے اک پرندہ لہو میں تر گویا اک تصور اڑان سے آگے ایک بستی یقیں فروشوں کی اک علاقہ گمان سے آگے ایک فریاد نارسائی کی اک زمین آسمان سے آگے اک سفر اور ہے تہ گرداب اک جنوں بادبان سے آگے ایک خورشیدؔ کی شہادت پر شہر ظلمت بیان سے آگے

غزل · Ghazal

asbaab kahaan jaan-e-jahaan dekhte rahnaa

اسباب کہاں جان جہاں دیکھتے رہنا خالی کوئی دم ہے یہ مکاں دیکھتے رہنا تا عمر ترے شہر میں رہنا بھی نہیں ہے ملتی ہے کہاں جائے اماں دیکھتے رہنا پلکوں پہ کوئی ہے لب اظہار کی صورت رکھتا ہوں میں خنجر پہ زباں دیکھتے رہنا آنسو مرے بچوں کی طرح خون سے کھیلیں کچھ کھیل نہیں گھر کا زیاں دیکھتے رہنا اک عرصۂ جاں تک ہی یہ منظر نہیں موقوف پھر قصۂ عالم ہے دھواں دیکھتے رہنا بوچھار ہے تیروں کی وہ رہوار اکیلا کتنا ہے شتابی یہ سماں دیکھتے رہنا دنیا کسی مقتل میں ہے زندوں کی گواہی جاتے ہیں کہاں پیر و جواں دیکھتے رہنا ہوگی کسی منجدھار کے سینے پہ مری ناؤ دریا ہے مرے ساتھ رواں دیکھتے رہنا تاریک افق پر وہ عجب شان سے نکلا خورشیدؔ سے روشن ہے جہاں دیکھتے رہنا

غزل · Ghazal

ek manzar iztiraabi ek manzar se ziyaada

ایک منظر اضطرابی ایک منظر سے زیادہ دل ہے ساحل دل سفینہ دل سمندر سے زیادہ دو جہاں کی نعمتوں کو دو بدن سے ضرب دے کر ایک لمحہ مانگتا ہوں بندہ پرور سے زیادہ اے بت توبہ شکن میں تجھ سے مل کر سوچتا ہوں پھول میں ہوتی نزاکت کاش پتھر سے زیادہ حسرت شہر نصیباں کیا تجھے معلوم بھی ہے دشت ہے آباد یعنی عشق کے گھر سے زیادہ چشم و لب سے پہلے اک تشنہ تعلق چاہتا ہوں اور پھر آسودگی تسنیم و کوثر سے زیادہ ایک لرزیدہ فضا ہے آسماں کی وسعتوں میں اک پرندہ اڑ رہا ہے اپنے شہ پر سے زیادہ بستیوں کے لوگ سارے برف ہوتے جا رہے ہیں بے رخی اچھی نہیں خورشید اکبرؔ سے زیادہ

غزل · Ghazal

guzar gai hai mujhe reg-zaar karti hui

گزر گئی ہے مجھے ریگ زار کرتی ہوئی وہ ایک مچھلی سمندر شکار کرتی ہوئی نہ جانے کتنے بھنور کو رلا کے آئے ہے یہ میری کشتیٔ جاں خود کو پار کرتی ہوئی وہ ایک ساعت معصوم دل کی پروردہ مکر گئی ہے مگر اعتبار کرتی ہوئی جنوں کی آخری لرزیدہ مضمحل سی رات جھپک گئی ہے ذرا انتظار کرتی ہوئی یہ کیسی خواہش نادید ہے دوراہے پر سہم گئی ہے ابھی مجھ پہ وار کرتی ہوئی لپٹ کے سو گئی آخر شمع فراق کے ساتھ شب سیاہ ستارے شمار کرتی ہوئی سفر میں کیسی حرارت قریب تھی خورشیدؔ اتر گئی ہے مجھے دھار دار کرتی ہوئی

Similar Poets