"makan andar se khasta ho gaya hai aur is men ek rasta ho gaya hai"

Krishna Mohan
Krishna Mohan
Krishna Mohan
Sherشعر
See all 9 →makan andar se khasta ho gaya hai
مکاں اندر سے خستہ ہو گیا ہے اور اس میں ایک رستہ ہو گیا ہے
zindagi ke akhiri lamhe khushi se bhar gaya
زندگی کے آخری لمحے خوشی سے بھر گیا ایک دن اتنا ہنسا وہ ہنستے ہنستے مر گیا
karen to kis se karen zikr-e-khana-virani
کریں تو کس سے کریں ذکر خانہ ویرانی کہ ہم تو آگ نشیمن کو خود لگا آئے
vo kya zindagi jis men joshish nahin
وہ کیا زندگی جس میں جوشش نہیں وہ کیا آرزو جس میں کاوش نہیں
kirshn 'mohan' ye bhi hai kaisa akela-pan ki log
کرشن موہنؔ یہ بھی ہے کیسا اکیلا پن کہ لوگ موت سے ڈرتے ہیں میں تو زندگی سے ڈر گیا
dil ek sadiyon purana udaas mandir hai
دل ایک صدیوں پرانا اداس مندر ہے امید ترسا ہوا پیار دیو داسی کا
Popular Sher & Shayari
18 total"zindagi ke akhiri lamhe khushi se bhar gaya ek din itna hansa vo hanste hanste mar gaya"
"karen to kis se karen zikr-e-khana-virani ki ham to aag nasheman ko khud laga aa.e"
"vo kya zindagi jis men joshish nahin vo kya aarzu jis men kavish nahin"
"kirshn 'mohan' ye bhi hai kaisa akela-pan ki log maut se Darte hain main to zindagi se Dar gaya"
"dil ek sadiyon purana udaas mandir hai umiid tarsa hua pyaar dev-dasi ka"
makaan andar se khasta ho gayaa hai
aur is mein ek rasta ho gayaa hai
zindagi ke aakhiri lamhe khushi se bhar gayaa
ek din itnaa hansaa vo hanste hanste mar gayaa
jab bhi mile vo naa-gahaan jhuum uThe hain qalb o jaan
milne mein lutf hai agar milnaa ho kaam ke baghair
kirshn 'mohan' ye bhi hai kaisaa akelaa-pan ki log
maut se Darte hain main to zindagi se Dar gayaa
bhaTak ke raah se ham sab ko aazmaa aae
fareb de gae jitne bhi rahnumaa aae
vo kyaa zindagi jis mein joshish nahin
vo kyaa aarzu jis mein kaavish nahin
Ghazalغزل
ai asir-e-yaas kasrat ki hai tujh ko ehtiyaaj
اے اسیر یاس کثرت کی ہے تجھ کو احتیاج خوب صورت عورتوں کا قرب ہے تیرا علاج کیسی مشکل میں ہے دنیا دار انساں کیا کرے اک طرف خواہش کی شدت اک طرف ہے لوک لاج دوستو اس حال میں جینا پڑے گا کب تلک ذہن و دل پر ایک مدت سے ہے مایوسی کا راج ہم تو اس کو مانتے ہیں جانتے ہیں اس کو مرد جو کہ دشمن سے بھی لے توصیف و تحسیں کا خراج کرشن موہنؔ حدت غم سے پھنکا ہے تن بدن اور میرے حال پر ہنستا ہے یہ ظالم سماج
yaas-o-gham mein ai milan ki aas ke aansu chamak
یاس و غم میں اے ملن کی آس کے آنسو چمک عقل کی ظلمت میں اے احساس کے جگنو چمک دل رہین یاس ہے محسوس ہوتی ہیں اداس چاندنی شوخی حیا شبنم ادا خوشبو چمک پھیکی پھیکی بے مزہ بے نور سی ہے زندگی عقل کی شوخی دمک اے حسن کے جادو چمک اپنی چنچلتا سے میرے پیار کو چمکا گئی تیرے البیلے نشیلے روپ کی دلجو چمک ہار کر تدبیر نے تقدیر سے کہہ ہی دیا مان بھی جا مَیں تو چمکی ہوں بہت اب تو چمک زندگی میں ہو کبھی تو کوئی ہنگامہ بپا جذبۂ آوارہ و شوخ دل یکسو چمک ایسے چمکاتا ہے قلب زار کو تیرا خیال جیسے دشت تیرہ کو دے دیدۂ آہو چمک چیرنا ہے بے حسی کی گہری ظلمت کو تجھے اور ابھی اس طور سے اے دشنۂ ابرو چمک تیرے تیور زیور احساس ہیں الماس ہیں یاد کے کہرے میں سوز و کاوش پہلو چمک اے فسون راز جلوت ساز اے خلوت نواز پیار کی آواز پائے ناز کے گھنگھرو چمک کرشن موہنؔ کے دکھی من پر اندھیرا چھا گیا روپ کی دھوپ اے برہ کے درد کی دارو چمک
milaa ek guuna sukun hamein jo tumhaare hijr mein ro liye
ملا ایک گونہ سکوں ہمیں جو تمہارے ہجر میں رو لیے ذرا بار قلب سبک ہوا کئی داغ درد کے دھو لیے ہو نشاط دل کہ ملال دل ہمیں پیش کرنا جمال دل کبھی ہنس کے پھول کھلا لیے کبھی روکے موتی پرو لیے ہے رہین غم مری جستجو یہ ہے کیسا گلشن رنگ و بو یہاں کچھ گلو کی تلاش میں کئی خار میں نے چبھو لیے کئی عمر دوڑتے بھاگتے رہے یوں تو شب کو بھی جاگتے کبھی تھک گئے تو ٹھہر گئے کبھی نیند آئی تو سو لئے سبھی لوگ مست شعور ہیں کہ خودی کے نشے میں چور ہیں کوئی غم شناس نہیں یہاں غم دل کسی پہ نہ کھولیے یہ انہیں کا نور ہے جس میں ہم چلے حوصلے سے قدم قدم جو سرشک غم کے بہا لیے جو دیے وفا کے سنجو لیے
maddham ho gae apne sapne be-dam ho gaiin apni talaashein
مدھم ہو گئے اپنے سپنے بے دم ہو گئیں اپنی تلاشیں ویراں دل میں دفن ہیں کتنی رنگیں امیدوں کی لاشیں پیہم اپنے اشک بہے ہیں دل نے کیا کیا جور سہے ہیں آفات ناگاہ کے چرکے لوگوں کے طعنوں کی خراشیں ہر جا ذکر مری نکہت کا ہر جا محرومی کا چرچا دنیا میں بدنام ہوئی ہیں قسمت سے میری پرخاشیں حسن کا جوش نہ عشق کی گرمی محو ہوئے سارے ہنگامے بے جاں مردہ سرد فسردہ زیست کے لمحے برف کی قاشیں کس نے میری بپتا رد کی کس نے میرا ہاتھ ہٹایا اب کیوں سب اپنے بیگانے طعنے دیں الزام تراشیں
dui kaa naqsh fanaa ho to lutf aa jaae
دوئی کا نقش فنا ہو تو لطف آ جائے انا میں رنگ غنا ہو تو لطف آ جائے ہمارے جذب دروں کے لیے دل دوراں تمام مدح و ثنا ہو تو لطف آ جائے امنگ سنگ رہے زندگی میں رنگ رہے زمانہ دوست بنا ہو تو لطف آ جائے شب وصال بہ رعب جمال کافر کا انا میں سینہ تنا ہو تو لطف آ جائے ملن کی شام بدن جام کام رس ہو تمام وہ روٹھ کر جو منا ہو تو لطف آ جائے غرور حسن مرے شوخ فتنہ ساماں کا فنا نہ ہو جو فنا ہو تو لطف آ جائے کڑا سفر ہے کڑی دھوپ ہے امنگوں کی کہیں جو سایہ گھنا ہو تو لطف آ جائے کسی بھی دیش میں دھرتی نے رنج و غم سہہ کر جو کوئی ویر جنا ہو تو لطف آ جائے خرد کا گھور اندھیرا ہے من کی چلمن میں جنوں کا نور چھنا ہو تو لطف آ جائے جنوں طراز کوئی شعر کرشنؔ موہن کا فسون راز بنا ہو تو لطف آ جائے
hayaat ik silsila hai aashufta-jaaniyon kaa
حیات اک سلسلہ ہے آشفتہ جانیوں کا ملا مجھے خوب یہ صلہ جاں فشانیوں کا فریب دہ ہے جنوں بقا کی نشانیوں کا یہ عالم آب و گل ہے اجلاس فانیوں کا نگاہ افروز کیف اندوز و عیش آموز ہے ایک سیل نشاط اٹھتی جوانیوں کا جنون شاعر شعور عالم ریاض عابد ہے سب کو انداز اپنی اپنی روانیوں کا بشر کے دل میں فلک کی نیلاہٹوں کی آہٹ زمیں کی ہلچل فسوں سمندر کے پانیوں کا مجھے یہ ڈر ہے کہیں نہ ہو شہر شہر چرچا تری جفا کی مری وفا کی کہانیوں کا یہ آدمی آدمی کے بیچ اونچ نیچ یارب بنا ہے یہ تفرقہ تماشا جہانیوں کا وصال میں ہم تھے اتنے مدہوش جانتے کیا کہ سوز حرماں ہے ماحصل شادمانیوں کا حیات اور موت ہیں تری دلبری کے غمزے تماشا گہ ہے جہاں تری دلستانیوں کا یہ گرم آنسو یہ سرد آہیں حزیں نگاہیں خیال رکھنا مری وفا کی نشانیوں کا وہ کیسے میرے دل شکستہ کا درد جانیں ہجوم ہے جن کی زندگی کامرانیوں کا کہاں ہے چاہت کی دل کش و دل نواز رنجش ہے تذکرہ ہر جگہ تری مہربانیوں کا اداس حیراں شباب میرا ہدف رہا ہے تمہاری راتوں کی دل شکن سرگرانیوں کا وہ شور اٹھا لا شعور کی ننھی بستیوں میں غرور ٹوٹا شعور کی راجدھانیوں کا پناہ دیتی ہے پاپ کو کیوں وشال دھرتی وچار ایسا سمجھ کا ہے پھیر گیانیوں کا یہ کیسی بپتا پڑی ہے سنسار پر کہ اے دل نہ دھیر قائم نہ دھیان باقی ہے دھیانیوں کا میں اس پہ شیدا ہوا ہوں مدت سے کرشن موہنؔ جو دل میں رس گھولتا ہے شیریں بیانیوں کا جدید راہوں کا شوخ راہی ہے کرشن موہنؔ وہ ہم نوا ہے نئے تمدن کے بانیوں کا





