SHAWORDS
Manzar Lakhnavi

Manzar Lakhnavi

Manzar Lakhnavi

Manzar Lakhnavi

poet
60Shayari
21Ghazal

Popular Shayari

60 total

Ghazalغزل

See all 21
غزل · Ghazal

ایک نعمت ترے مہجور کے ہاتھ آئی ہے عید کا چاند چراغ شب تنہائی ہے قید میں بس یہ کوئی کہہ دے بہار آئی ہے پھر تو میں ہوں مری زنجیر ہے انگڑائی ہے کتنا دلچسپ ہے اللہ مرا قصۂ غم آج کوئی نہیں کہتا مجھے نیند آئی ہے زہر اور زہر کی تاثیر بتانے والے اب سمجھ لے کہ نہ سودا ہے نہ سودائی ہے صبح تک ہوگا مرے گھر پہ ہجوم خلقت رات کی رات فقط عالم تنہائی ہے دامن و جیب و گریباں بھی نثار وحشت اب کسی بات میں ذلت ہے نہ رسوائی ہے دو گھڑی دل کے بہلنے کا سہارا بھی گیا لیجئے آج تصور میں بھی تنہائی ہے مدتیں گزریں ہمیں اشک بہاتے منظرؔ آج خود اس نے ہنسایا تو ہنسی آئی ہے

ek neamat tire mahjur ke haath aai hai

غزل · Ghazal

حسرتوں میں اب یہ اک حسرت ہمارے دل میں ہے اتنا کہہ دیجے کہ بے چارہ بڑی مشکل میں ہے ایک موسیٰ تھے کہ ان کا ذکر ہر محفل میں ہے اور اک میں ہوں کہ اب تک میرے دل کی دل میں ہے آج کیوں حد سے سوا الجھن ہمارے دل میں ہے کیا نصیب دشمناں وہ بھی کسی مشکل میں ہے ہے کوئی ایسا جو ساقی سے کہے میرے لیے یہ بھی اک اللہ کا بندہ تری محفل میں ہے یا الٰہی خیر یوں ہمدردیاں ہوتی ہیں آج جیسے میرے دل کا سارا درد انہیں کے دل میں ہے دیکھنا یہ ہے ان آنکھوں میں سما جاتا ہے کون یوں تو ہونے کو زمانہ بھر تری محفل میں ہے دیکھیے کس کے مقدر میں لکھی ہے یہ بہار آج تو اک ہار پھولوں کا کف قاتل میں ہے دیکھیے تو اپنے وحشی کی تصور میں خوشی گھر میں تنہا ہے مگر جیسے بھری محفل میں ہے ہے محبت کوئی بیماری تو بیماری قبول ہائے منظرؔ کس مزے کا درد اپنے دل میں ہے

hasraton mein ab ye ik hasrat hamaare dil mein hai

غزل · Ghazal

کس زباں سے شکوۂ جور ستم آرا کریں جس کو اچھا کہہ چکے اس کی برائی کیا کریں ان سے جب پوچھا گیا بسمل تمہارے کیا کریں ہنس کے بولے زخم دل دیکھا کریں رویا کریں ہو کے غش جلوے سے نقل حضرت موسیٰ کریں آپ اگر پردہ اٹھا بھی دیں تو ہم پردا کریں حسن سے وعدہ خلافی عشق سے توبا کریں دین کے بھی ہوں برے دنیا کو بھی رسوا کریں کم سے کم ایسی تو کچھ تدبیر کر اے جذب عشق وہ ہمیں دیکھیں نہ دیکھیں ہم انہیں دیکھا کریں اک زمانہ ہو رہا ہے عشق میں ہم سے خلاف کس کے کس کے دل میں دل ڈالیں الٰہی کیا کریں ہر طرف زنداں کی دیواروں پہ ہے تصویر دوست اب جدھر چاہیں اسیران ستم سجدا کریں واہ کیا اچھا تقاضا واہ کیا انصاف ہے درد تو دیں آپ اور تاثیر ہم پیدا کریں حضرت منظرؔ نہیں ہیں واعظو اس رنگ کے آج مے خواری کریں کل بیٹھ کر توبا کریں

kis zabaan se shikva-e-jaur-e-sitam-aaraa karein

غزل · Ghazal

اس سے جی بھر کے ملی داد تمنا مجھ کو جس نے تصویر تری دیکھ کے دیکھا مجھ کو دیکھنے والے یہ کس شان سے دیکھا مجھ کو آج دنیا کے مزے دے گئی دنیا مجھ کو جذب دل تیرے کرشموں نے الٹ دی دنیا اب سناتے ہیں وہ خود میرا فسانا مجھ کو بے تحاشا تری تصویر پہ جاتی ہے نگاہ جب کوئی کہتا ہے تقدیر کا مارا مجھ کو ایک دھج عالم وحشت میں بدلتا ہوں روز چاہتا ہوں کہ کہیں لوگ تمہارا مجھ کو گھر کو چھوڑا ہے خدا جانے کہاں جانے کو اب سمجھ لیجئے ٹوٹا ہوا تارا مجھ کو دل لہو کر گیا آغاز محبت منظرؔ اور ابھی دیکھنا باقی ہے نتیجہ مجھ کو

us se ji bhar ke mili daad-e-tamannaa mujh ko

غزل · Ghazal

کچھ اس انداز سے مانگا گیا دل خوشامد کر کے دے دینا پڑا دل ارے دل اے میرے دل بے وفا دل تو کیا مانگوں خدا سے دوسرا دل گلے شکوؤں کی کر لیجے صفائی برا کیوں کیجئے اچھا بھلا دل ہوئے خاموش تو رلوا کے چھوڑا اگر کی بات تو برما دیا دل مجھے تو بخشئے اور جینے دیجے مبارک آپ ہی کو آپ کا دل وہ مقتل ہی سہی محفل کسی کی مگر کب مانتا ہے منچلا دل نہ کہنے دے گی یہ چشم مروت نہ پوچھے ہم سے کوئی کیا ہوا دل پھر اب کاہے کی ہے صاحب سلامت تمہیں درکار تھا دل دے دیا دل بدوں سے بھی نہیں کرتے برائی ہم ایسا سب کو دے منظرؔ خدا دل

kuchh is andaaz se maangaa gayaa dil

غزل · Ghazal

بے خود ایسا کیا خوف شب تنہائی نے صبح سے شمع جلا دی ترے سودائی نے حسب منشا دل پر شوق کی باتوں کا جواب دے دیا شرم میں ڈوبی ہوئی انگڑائی نے ہو کا عالم ہوا اس سمت کو اڑنے لگی خاک جس طرف غور سے دیکھا ترے سودائی نے قتل پر میرے بہائے نہ کسی نے آنسو داد قاتل کو دی اک ایک تماشائی نے پوچھنے والے بھری بزم میں قاتل کو نہ پوچھ نام تیرا ہی اگر لے دیا سودائی نے مانگتا ہوں در و دیوار سے باتوں کا جواب ایسا دیوانہ کیا ہے غم تنہائی نے ہجر کی راتوں میں منظرؔ مرے کام آ آ کے لے لیا مول چراغ شب تنہائی نے

be-khud aisaa kiyaa khauf-e-shab-e-tanhaai ne

Similar Poets