kaun mar kar dobaara zinda huaa
kaun mulk-e-fanaa se lauTaa hai

Abdul Aziz Khalid
Abdul Aziz Khalid
Abdul Aziz Khalid
Popular Shayari
19 totaljaan kaa sarfa ho to ho lekin
sarf karne se ilm baDhtaa hai
pursaan-e-pareshaani-e-insaan nahin koi
qismat ki girah naakhun-e-tadbir se kholo
nai mohabbatein 'khaalid' puraani dostiyaan
azaab-e-kashmakash-e-be-amaan mein rahte hain
parakhne vaale parkheinge isi meaar par ham ko
jahaan se kyaa liyaa ham ne jahaan ko kyaa diyaa ham ne
qaasid ye zabaan us ki bayaan us kaa nahin hai
dhokaa hai tujhe us ne kahaa aur hi kuchh hai
ab aasmaan se sahife nahin utarte magar
khulaa huaa hai dar-e-ijtihaad sab ke liye
har baat hai 'khaalid' ki zamaane se niraali
baashinda hai shaayad kisi duniyaa-e-digar kaa
ai muhibbo raah-e-ulfat mein har ik shai hai mabaah
kis ne khinchaa hai khat-e-hijraan tumhaare darmiyaan
qurb nas nas mein aag bhartaa hai
vasl se iztiraab baDhtaa hai
shahidaan-e-vafaa ki manqabat likhte rahe lekin
na ki arzi khudaaon ki kabhi hamd-o-sanaa ham ne
koi tanhaai kaa gosha koi kunj-e-aafiyat
aashiq-o-maashuq yakjaa hon kahaan ai aasmaan
Ghazalغزل
نخچیر ہوں میں کشمکش فکر و نظر کا حق مجھ سے ادا ہو نہ در و بست ہنر کا مغرب مجھے کھینچے ہے تو روکے مجھے مشرق دھوبی کا وہ کتا ہوں کہ جو گھاٹ نہ گھر کا دبتا ہوں کسی سے نہ دباتا ہوں کسی کو قائل ہوں مساوات بنی نوع بشر کا ہر چیز کی ہوتی ہے کوئی آخری حد بھی کیا کوئی بگاڑے گا کسی خاک بسر کا دلگیر تو بے شک ہوں پہ نومید نہیں ہوں روشن ہے دل شب میں دیا نور سحر کا پوشیدہ نہیں مجھ سے کوئی جزر و مد شوق محرم ہوں صدا دلبر انگیختہ بر کا زنداں و سلاسل سے صداقت نہیں دبتی ہے شان کئی سلسلہ بس رقص شرر کا تصویر کوئی بنتی دکھائی نہیں دیتی کیا صرفہ عبث ہم نے کیا خون جگر کا کیا شغل شجر کار ہے افکار سے بہتر سودا سر شوریدہ میں گر ہو نہ ثمر کا کیوں سر خوش رفتار نہ ہو ہو قافلۂ موج رہزن کا ہے اندیشہ نہ غم زاد سفر کا ڈالی ہے ستاروں پہ کمند اہل زمیں نے زہرہ کا وہ افسوں نہ فسانہ وہ قمر کا ہر بات ہے خالدؔ کی زمانے سے نرالی باشندہ ہے شاید کسی دنیائے دگر کا
nakhchir huun main kashmakash-e-fikr-o-nazar kaa
42 views
ہوں کیوں نہ منکشف اسرار پست و بالا کے جمے ہیں پاؤں زمیں پر سر آسماں کو چھوئے جو سر نوشت میں ہے اس کو ہو کے رہنا ہے تو کس بھروسے پہ انسان جد و جہد کرے اب آسماں سے صحیفے نہیں اترتے مگر کھلا ہوا ہے در اجتہاد سب کے لیے زباں عطا کرے شعر ان کی بے زبانی کو جو اپنے کرب کا اظہار کر نہیں سکتے بہار و بہجت و عز و وقار اس پہ نثار زباں سے مال سے جاں سے جو ظالموں سے لڑے ہے آنسوؤں میں شفا کیسی کیا خبر اس کو بہائے مکر سے جو جھوٹ موٹ کے ٹسوے ہے بسکہ کام ہم ایسوں کا بھی مسیحائی ہم آسمان پہ زندہ اٹھائے جائیں گے
hon kyuun na munkashif asraar past-o-baalaa ke
42 views
وہی انداز جہان گزراں ہے کہ جو تھا ان نگاہوں سے وہی راز عیاں ہے کہ جو تھا وہی رندوں کی سیہ نوشیٔ درد تہہ جام وہی نظارہ سر کوئے مغاں ہے کہ جو تھا ہائے اس کیف نخستیں کی خمار انگیزی تری آنکھوں میں وہی خواب جواں ہے کہ جو تھا وہی ترغیب تمنا کی چمن آرائی اور پہلو میں وہی قلب تپاں ہے کہ جو تھا لذت شوق کا انفاس میں نم باقی ہے مرے سینے میں وہی سوز نہاں ہے کہ جو تھا انقلابات ابھی گردش ایام میں ہیں ترے جلووں میں وہی سحر رواں ہے کہ جو تھا ذوق وارفتہ کی اصنام گری مٹ نہ سکی حائل راہ وہی سنگ گراں ہے کہ جو تھا وہی آشفتہ نگاہی وہی صحرا طلبی وہی اک معرکۂ سود و زیاں ہے کہ جو تھا
vahi andaaz-e-jahaan-e-guzaraan hai ki jo thaa
42 views
پھر ترے آستاں پہ لے آئی کھینچ کر لذت جبیں سائی پیش و پس کو بہائے جاتا ہے تیرا سیلاب رنگ و رعنائی کوئی بیکس دعائیں دیتا ہے وہ تری پرسش و پذیرائی پھر سے بیتاب ہے دل شیدا کسی بھولے ہوئے کی یاد آئی ایک پردہ ہے خود فریبی کا یہ مرا ذوق نغمہ پیرائی مطلع صبح نو بہار بنے اس مجسم حیا کی پیدائی نظر احساس حسن سے مخمور لعل خوش آب میں مسیحائی دیدنی ہے ادائے محبوبی سارے انداز ہیں زلیخائی آفت عقل و ہوش ہے خالدؔ اس پری رو کا حسن صحرائی
phir tire aastaan pe le aai
42 views
قضا سے قرض کس مشکل سے لی عمر بقا ہم نے متاع زندگی دے کر کیا یہ قرض ادا ہم نے ہمیں کس خواب سے للچائے گی یہ پر فسوں دنیا کھرچ ڈالا ہے لوح دل سے حرف مدعا ہم نے کریں لب کو نہ آلودہ کبھی حرف شکایت سے شعار اپنا بنایا شیوۂ صبر و رضا ہم نے ہم اس کے ہیں سراپا ادبدا کر اس سے کیا مانگیں اٹھایا ہے کبھی اے مدعی دست دعا ہم نے شہیدان وفا کی منقبت لکھتے رہے لیکن نہ کی عرضی خداؤں کی کبھی حمد و ثنا ہم نے پرکھنے والے پرکھیں گے اسی معیار پر ہم کو جہاں سے کیا لیا ہم نے جہاں کو کیا دیا ہم نے وہی انساں جہاں جاؤ وہی حرماں جدھر دیکھو بپائے خفتہ کی سیاحیٔ ملک خدا ہم نے لٹا ذوق سفر بھی کارواں کا ایسے لگتا ہے سنا ہر تازہ پیش آہنگ کا شور درا ہم نے ستم آراؤ سن لو آخری برداشت کی حد تک سہا ہر ناروا ہم نے سنا ہر ناسزا ہم نے یہ دزدیدہ نگاہیں ہیں کہ دل لینے کی راہیں ہیں ہمیشہ دیدہ و دانستہ کھائی ہے خطا ہم نے کشاکش ہم سے پوچھے کوئی نا آسودہ خواہش کی حسینوں سے بہت باندھے ہیں پیمان وفا ہم نے کیا تکمیل نقش نا تمام شوق کی خاطر جو تم سے ہو سکا تم نے جو ہم سے ہو سکا ہم نے عراقیؔ کی طرح خالدؔ کو کیوں بدنام کرتے ہیں نہ دیکھا کوئی ایسا خوش نوائے بے نوا ہم نے
qazaa se qarz kis mushkil se li umr-e-baqaa ham ne
42 views
فتح کتنی خوبصورت ہے مگر کتنی گراں بارہا رد کی ہے میں نے دعوت وصل بتاں نغمۂ بلبل ہے فریاد وداع فصل گل سعیٔ حاصل در حقیقت ہے متاع رائیگاں زندہ رہنے کے ہیں امکانات کیا آثار کیا کون سی قدریں ہیں باقی کون سی سچائیاں شاعروں کا کام کیا تنسیق اوصاف و لغوت یا ثنا شاہوں کی یا مدح سراپائے بتاں زہر ہے فن کے لئے دربار داری کا مزاج کمترین شرط گویائی ہے اخلاص بیاں تیرے ہاتھوں پر لگا ہے بے گناہوں کا لہو جام جم میں مے نہیں خون سیادش ہے مغاں میں تو پیتا ہوں فقط گلنار ہونٹوں کی شراب سبح اسم ربک الاعلی رہے ورد زباں ختم ہیں اس شوخ رعنا پر طرح داری کے رنگ قد بالا جس کا ہے رشک قضیب خیزراں جھنجھنا اٹھنے کو ہیں بیتاب تن بینا کے تار کون لائے تاب حسن بے حجاب مہ وشاں بے نیاز حرف ہے گفتار چشم پر سخن درمیان محرمان جاں ہے نامحرم زباں کوئی تنہائی کا گوشہ کوئی کنج عافیت عاشق و معشوق یکجا ہوں کہاں اے آسماں اے محبو راہ الفت میں ہر اک شے ہے مباح کس نے کھینچا ہے خط ہجراں تمہارے درمیاں تتلیاں دیکھی ہیں بیٹھی خشک پھولوں پر کبھی حاجتیں اپنی کرو تم خوب روؤں سے بیاں ہم نے نیندیں دے کے راتوں سے خریدے رت جگے ہم سے کم ہوں گے عکاظ دہر میں بازارگاں رات دن سنتے ہیں تسویلات ارباب حسد احتیاج دشمناں بھی ہے ہنر کو بے گماں جانے کن اوقات میں لکھتا تھا قانون و شفا بوعلی سینا وہ مقتول مغاں شیوہ بتاں موت سے وحشت ہے لوگوں کو محبت مال سے بانگ بے ہنگام ہے کوس رحیل کارواں ہے قریب اے شب ذرا صبح قیامت کا طلوع ٹوٹنے کو ہے ازل تاباں طناب کہکشاں تم اکیلے آئے دنیا میں اکیلے جاؤ گے زندگی اک پل ہے کیا پل پر بناتے ہو مکاں خضر زندہ ہے مگر زندانئ عمر ابد اے اجل کس کام کی ایسی حیات جاوداں میں بھی ہوں مانند ماموں کے امیر الکافرین بسکہ ہوں وارفتۂ فکر و فن یونانیاں ہے سلیماں کی طرف واقف لسان الطیر سے شاعر زہرہ نگاہاں خالد عقدہ زباں گو حریم آگہی کی شکل بھی دیکھی نہیں ہے بزعم خویش دانائے رموز کن فکاں
fath kitni khub-surat hai magar kitni garaan
42 views

