SHAWORDS
Aslam Mahmood

Aslam Mahmood

Aslam Mahmood

Aslam Mahmood

poet
19Sher
19Shayari
20Ghazal

Sherشعر

See all 19

Popular Sher & Shayari

38 total

Ghazalغزل

See all 20
غزل · Ghazal

kiyaa gardishon ke havaale use chaak par rakh diyaa

کیا گردشوں کے حوالے اسے چاک پر رکھ دیا کہ بننے بگڑنے کا ہر فیصلہ خاک پر رکھ دیا مجھے قصر تعبیر کی اس نے سب کنجیاں سونپ دیں مگر چھین کر خواب آنکھوں سے افلاک پر رکھ دیا سوا راکھ ہونے کے اب کوئی چارہ بچا ہی نہیں شرار ہوس کس نے یہ میرے خاشاک پر رکھ دیا کوئی ہے جو گرداب غم سے بچائے ہوئے ہے مجھے کہ اک مہرباں ہاتھ پھر چشم نمناک پر رکھ دیا کوئی کام اسلمؔ بنا ہی نہیں وحشتوں کے بغیر جلا کر چراغ جنوں طاق ادراک پر رکھ دیا

غزل · Ghazal

ai mire ghubaar-e-sar tu hi to nahin tanhaa raaegaan to main bhi huun

اے مرے غبار سر تو ہی تو نہیں تنہا رائیگاں تو میں بھی ہوں میرے ہر خسارے پر میرے یہ مخالف کیا شادماں تو میں بھی ہوں دشت یہ اگر اپنی وسعتوں پہ نازاں ہے مجھ کو اس سے کیا لینا ذرہ ہی سہی لیکن میری اپنی وسعت ہے بے کراں تو میں بھی ہوں در بہ در بھٹکتی ہے دشت و شہر و صحرا میں اپنا سر پٹکتی ہے اے ہوائے آوارہ تیری ہی طرح بے گھر بے اماں تو میں بھی ہوں کوچ کر گئے جانے کتنے قافلے جن کا کچھ نشاں نہیں ملتا میں بھی ہوں کمر بستہ یعنی رہرو راہ رفتگاں تو میں بھی ہوں تو جو ایک شعلہ ہے چوب خشک ہوں میں بھی اپنا حال یکساں ہے دیر ہے بھڑکنے کی پھر تو راکھ ہے تو بھی پھر دھواں تو میں بھی ہوں

غزل · Ghazal

bujh gae manzar ufuq par har nishaan maddham huaa

بجھ گئے منظر افق پر ہر نشاں مدھم ہوا لمحہ لمحہ سارا رنگ آسماں مدھم ہوا تھک گئے ہمراہ میرے جاگنے والے سبھی آخر شب مجھ میں بھی اک شور فغاں مدھم ہوا محو ہو جاؤں گا میں بھی ایک دن ہر ذہن سے آئنوں میں جیسے عکس رفتگاں مدھم ہوا رات ڈھلتے ڈھلتے آئی صبح کی دہلیز تک دل نے لے تبدیل کر دی ساز جاں مدھم ہوا حاصل و درکار کی ہر فکر زائل ہو گئی اک نظر اٹھی ہر اک رنگ زیاں مدھم ہوا اب کہاں وہ صحرا زاد و پاسداران جنوں صحرا صحرا وحشتوں کا ہر نشاں مدھم ہوا حرف دلداری نہیں رسم دل آزاری نہیں لہجۂ ہر مہرباں نا مہرباں مدھم ہوا اک چراغ اک آئنہ میری متاع بے بہا رہ گیا حرف یقیں نقش گماں مدھم ہوا ہر نشان بام و در جب مٹ گیا اسلمؔ تو کیا زور طوفاں تھم گیا آب رواں مدھم ہوا

غزل · Ghazal

main hajv ik apne har qaside ki rad mein tahrir kar rahaa huun

میں ہجو اک اپنے ہر قصیدے کی رد میں تحریر کر رہا ہوں کہ آپ اپنے سے ہوں مخاطب خود اپنی تحقیر کر رہا ہوں کہاں ہے فرصت نشاط و غم کی کہ خود کو تسخیر کر رہا ہوں لہو میں گرداب ڈالتا ہوں نفس کو شمشیر کر رہا ہوں مری کہانی رقم ہوئی ہے ہوا کے اوراق منتشر پر میں خاک کے رنگ غیر فانی کو اپنی تصویر کر رہا ہوں میں سنگ و خشت انا کی بارش میں کب کا مسمار ہو چکا ہوں اب انکساری کی نرم مٹی سے اپنی تعمیر کر رہا ہوں یہ عشق کی ہے فسوں طرازی کہ وحشتوں کی کرشمہ سازی کمند خوشبو پہ ڈالتا ہوں ہوا کو زنجیر کر رہا ہوں شناوری کے اصول مجھ کو بتائے گا کوئی کیا کہ میں نے کیا ہے موجوں کا خیر مقدم بھنور کی توقیر کر رہا ہوں تم اپنے دریاؤں پر بٹھاؤ ہزار پہرے مگر مجھے کیا میں سارے خوابوں کو سب سرابوں کو اپنی جاگیر کر رہا ہوں

غزل · Ghazal

mizha pe khvaab nahin intizaar saa kuchh hai

مژہ پہ خواب نہیں انتظار سا کچھ ہے بہار تو نہیں عکس بہار سا کچھ ہے مجھے ملا نہ کبھی فرش گل پہ بھی آرام یہی لگا کہ کہیں نوک خار سا کچھ ہے جو پاس تھا اسی سودائے سر کی نذر ہوا نہ دھجیاں ہی بچی ہیں نہ تار سا کچھ ہے تمام عمر جسے میں عبور کر نہ سکا درون ذات مرے بے کنار سا کچھ ہے گزر گئی مجھے چھو کر کسی خیال کی رو افق سے تا بہ افق رنگ زار سا کچھ ہے خیال و خواب ہوئے سب وصال کے لمحے نظر میں صرف چمکتا غبار سا کچھ ہے یہ حال ہے کہ ہواؤں سے الجھا جاتا ہوں لہو میں اب کے عجب انتشار سا کچھ ہے

غزل · Ghazal

rang saare apne andar raftagaan ke hain

رنگ سارے اپنے اندر رفتگاں کے ہیں ہم کہ برگ رائیگاں نخل زیاں کے ہیں شیشۂ عمر رواں سے خوف آتا ہے عکس اس میں ساعت کم مہرباں کے ہیں ہم کو کیا لا حاصلی ہی عشق میں گر ہے ہم تو خوگر یوں بھی کار رائیگاں کے ہیں تیرے کوچے کی ہوا پوچھے ہے اب ہم سے نام کیا ہے کیا نسب ہے ہم کہاں کے ہیں ہم کو کیا ارض و سما کے سب خزانوں سے ہم تو عاشق ایک اسم جاوداں کے ہیں میرے پرتو نے طلسم تیرگی توڑا اور اب روشن مناظر خاکداں کے ہیں ہم کو کیا موج فنا سے خوف آئے گا منتظر ہم خود زوال رنگ جاں کے ہیں امتحاں یہ سختیاں یہ گردشیں اسلمؔ سب اشارے ایک چشم مہرباں کے ہیں

Similar Poets