SHAWORDS
Firaq Gorakhpuri

Firaq Gorakhpuri

Firaq Gorakhpuri

Firaq Gorakhpuri

poet
181Shayari
70Ghazal

Popular Shayari

181 total

Ghazalغزل

See all 70
غزل · Ghazal

رکی رکی سی شب مرگ ختم پر آئی وہ پو پھٹی وہ نئی زندگی نظر آئی یہ موڑ وہ ہے کہ پرچھائیاں بھی دیں گی نہ ساتھ مسافروں سے کہو اس کی رہ گزر آئی فضا تبسم صبح بہار تھی لیکن پہنچ کے منزل جاناں پہ آنکھ بھر آئی کہیں زمان و مکاں میں ہے نام کو بھی سکوں مگر یہ بات محبت کی بات پر آئی کسی کی بزم طرب میں حیات بٹتی تھی امید واروں میں کل موت بھی نظر آئی کہاں ہر ایک سے انسانیت کا بار اٹھا کہ یہ بلا بھی ترے عاشقوں کے سر آئی دلوں میں آج تری یاد مدتوں کے بعد بہ چہرۂ متبسم بہ چشم تر آئی نیا نہیں ہے مجھے مرگ ناگہاں کا پیام ہزار رنگ سے اپنی مجھے خبر آئی فضا کو جیسے کوئی راگ چیرتا جائے تری نگاہ دلوں میں یوں ہی اتر آئی ذرا وصال کے بعد آئنہ تو دیکھ اے دوست ترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی ترا ہی عکس سرشک غم زمانہ میں تھا نگاہ میں تری تصویر سی اتر آئی عجب نہیں کہ چمن در چمن بنے ہر پھول کلی کلی کی صبا جا کے گود بھر آئی شب فراقؔ اٹھے دل میں اور بھی کچھ درد کہوں یہ کیسے تری یاد رات بھر آئی

ruki ruki si shab-e-marg khatm par aai

غزل · Ghazal

اب اکثر چپ چپ سے رہیں ہیں یونہی کبھو لب کھولیں ہیں پہلے فراقؔ کو دیکھا ہوتا اب تو بہت کم بولیں ہیں دن میں ہم کو دیکھنے والو اپنے اپنے ہیں اوقات جاؤ نہ تم ان خشک آنکھوں پر ہم راتوں کو رو لیں ہیں فطرت میری عشق و محبت قسمت میری تنہائی کہنے کی نوبت ہی نہ آئی ہم بھی کسو کے ہو لیں ہیں خنک سیہ مہکے ہوئے سائے پھیل جائیں ہیں جل تھل پر کن جتنوں سے میری غزلیں رات کا جوڑا کھولیں ہیں باغ میں وہ خواب آور عالم موج صبا کے اشاروں پر ڈالی ڈالی نورس پتے سہج سہج جب ڈولیں ہیں اف وہ لبوں پر موج تبسم جیسے کروٹیں لیں کوندے ہائے وہ عالم جنبش مژگاں جب فتنے پر تولیں ہیں نقش و نگار غزل میں جو تم یہ شادابی پاؤ ہو ہم اشکوں میں کائنات کے نوک قلم کو ڈبو لیں ہیں ان راتوں کو حریم ناز کا اک عالم ہوئے ہے ندیم خلوت میں وہ نرم انگلیاں بند قبا جب کھولیں ہیں غم کا فسانہ سننے والو آخر شب آرام کرو کل یہ کہانی پھر چھیڑیں گے ہم بھی ذرا اب سو لیں ہیں ہم لوگ اب تو اجنبی سے ہیں کچھ تو بتاؤ حال فراقؔ اب تو تمہیں کو پیار کریں ہیں اب تو تمہیں سے بولیں ہیں

ab aksar chup chup se rahein hain yunhi kabhu lab kholein hain

غزل · Ghazal

رس میں ڈوبا ہوا لہراتا بدن کیا کہنا کروٹیں لیتی ہوئی صبح چمن کیا کہنا نگہ ناز میں یہ پچھلے پہر رنگ خمار نیند میں ڈوبی ہوئی چندر کرن کیا کہنا باغ جنت پہ گھٹا جیسے برس کے کھل جائے یہ سہانی تری خوشبوئے بدن کیا کہنا ٹھہری ٹھہری سی نگاہوں میں یہ وحشت کی کرن چونکے چونکے سے یہ آہوئے ختن کیا کہنا روپ سنگیت نے دھارا ہے بدن کا یہ رچاؤ تجھ پہ لہلوٹ ہے بے ساختہ پن کیا کہنا جیسے لہرائے کوئی شعلہ کمر کی یہ لچک سر بسر آتش سیال بدن کیا کہنا جس طرح جلوۂ فردوس ہواؤں سے چھنے پیرہن میں ترے رنگینیٔ تن کیا کہنا جلوہ و پردے کا یہ رنگ دم نظارہ جس طرح ادھ کھلے گھونگھٹ میں دلہن کیا کہنا دم تقریر کھل اٹھتے ہیں گلستاں کیا کیا یوں تو اک غنچۂ نورس ہے دہن کیا کہنا دل کے آئینے میں اس طرح اترتی ہے نگاہ جیسے پانی میں لچک جائے کرن کیا کہنا لہلہاتا ہوا یہ قد یہ لہکتا جوبن زلف سو مہکی ہوئی راتوں کا بن کیا کہنا تو محبت کا ستارہ تو جوانی کا سہاگ حسن لو دیتا ہے لعل یمن کیا کہنا تیری آواز سویرا تری باتیں تڑکا آنکھیں کھل جاتی ہیں اعجاز سخن کیا کہنا زلف شب گوں کی چمک پیکر سیمیں کی دمک دیپ مالا ہے سر گنگ و جمن کیا کہنا نیلگوں شبنمی کپڑوں میں بدن کی یہ جوت جیسے چھنتی ہو ستاروں کی کرن کیا کہنا

ras mein Duubaa huaa lahraataa badan kyaa kahnaa

غزل · Ghazal

یہ سرمئی فضاؤں کی کنمناہٹیں ملتی ہیں مجھ کو پچھلے پہر تیری آہٹیں اس کائنات غم کی فسردہ فضاؤں میں بکھرا گئے ہیں آ کے وہ کچھ مسکراہٹیں اے جسم‌ نازنین نگار نظر نواز صبح شب وصال تیری ملگجاہٹیں پڑتی ہے آسمان محبت پہ چھوٹ سی بل بے جبین ناز تری جگمگاہٹیں چلتی ہے جب نسیم خیال خرام ناز سنتا ہوں دامنوں کی ترے سرسراہٹیں چشم سیہ تبسم پنہاں لئے ہوئے پو پھوٹنے سے قبل افق کی اداہٹیں جنبش میں جیسے شاخ ہو گلہائے‌ نغمہ کی اک پیکر جمیل کی یہ لہلہاہٹیں جھونکوں کی نذر ہے چمن انتظار دوست یاد امید و بیم کی یہ سنسناہٹیں ہو سامنا اگر تو خجل ہو نگاہ برق دیکھی ہیں عضو عضو میں وہ اچپلاہٹیں کس دیس کو سدھار گئیں اے جمال یار رنگیں لبوں پہ کھیل کے کچھ مسکراہٹیں رخسار تر سے تازہ ہو باغ عدن کی یاد اور اس کی پہلی صبح کی وہ رسمساہٹیں ساز جمال کی یہ نواہائے سرمدی جوبن تو وہ فرشتے سنیں گنگناہٹیں آزردگی حسن بھی کس درجہ شوخ ہے اشکوں میں تیرتی ہوئی کچھ مسکراہٹیں ہونے لگا ہوں خود سے قریں اے شب الم میں پا رہا ہوں ہجر میں کچھ اپنی آہٹیں میری غزل کی جان سمجھنا انہیں فراقؔ شمع خیال یار کی یہ تھرتھراہٹیں

ye surmai fazaaon ki kunmunaahaTein

غزل · Ghazal

رنج و راحت وصل‌ و فرقت ہوش و وحشت کیا نہیں کون کہتا ہے کہ رہنے کی جگہ دنیا نہیں اہل غم تم کو مبارک یہ فنا آمادگی لیکن ایثار محبت جان دے دینا نہیں حسن سر تا پا تمنا عشق سر تا سر غرور اس کا اندازہ نیاز و ناز سے ہوتا نہیں ایک حالت پر زمانے میں نہ گزری عشق کی درد کی دنیا بھی اب وہ درد کی دنیا نہیں جس کے شعلوں سے تھی کل تک گرمیٔ بزم حیات آج اس خاکستر دل سے دھواں اٹھتا نہیں میں عدم اندر عدم میں ہوں جہاں اندر جہاں ایک ہی دنیا ہو میری اے فراقؔ ایسا نہیں

ranj-o-raahat vasl-o-furqat hosh-o-vahshat kyaa nahin

غزل · Ghazal

تیز احساس خودی درکار ہے زندگی کو زندگی درکار ہے جو چڑھا جائے خمستان جہاں ہاں وہی لب تشنگی درکار ہے دیوتاؤں کا خدا سے ہوگا کام آدمی کو آدمی درکار ہے سو گلستاں جس اداسی پر نثار مجھ کو وہ افسردگی درکار ہے شاعری ہے سربسر تہذیب‌ قلب اس کو غم شائستگی درکار ہے شعلہ میں لاتا ہے جو سوز و گداز وہ خلوص باطنی درکار ہے خوبیٔ لفظ و بیاں سے کچھ سوا شاعری کو ساحری درکار ہے قادر مطلق کو بھی انسان کی سنتے ہیں بے چارگی درکار ہے اور ہوں گے طالب مدح جہاں مجھ کو بس تیری خوشی درکار ہے عقل میں یوں تو نہیں کوئی کمی اک ذرا دیوانگی درکار ہے ہوش والوں کو بھی میری رائے میں ایک گونہ بے خودی درکار ہے خطرۂ بسیار دانی کی قسم علم میں بھی کچھ کمی درکار ہے دوستو کافی نہیں چشم خرد عشق کو بھی روشنی درکار ہے میری غزلوں میں حقائق ہیں فقط آپ کو تو شاعری درکار ہے تیرے پاس آیا ہوں کہنے ایک بات مجھ کو تیری دوستی درکار ہے میں جفاؤں کا نہ کرتا یوں گلہ آج تیری ناخوشی درکار ہے اس کی زلف آراستہ پیراستہ اک ذرا سی برہمی درکار ہے زندہ دل تھا تازہ دم تھا ہجر میں آج مجھ کو بے دلی درکار ہے حلقہ حلقہ گیسوئے شب رنگ یار مجھ کو تیری ابتری درکار ہے عقل نے کل میرے کانوں میں کہا مجھ کو تیری زندگی درکار ہے تیز رو تہذیب عالم کو فراقؔ اک ذرا آہستگی درکار ہے

tez ehsaas-e-khudi darkaar hai

Similar Poets