SHAWORDS
Raghvendra Dwivedi

Raghvendra Dwivedi

Raghvendra Dwivedi

Raghvendra Dwivedi

poet
72Shayari
11Ghazal

Popular Shayari

72 total

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

زندگی کی ہے ضرورت پیٹ بھرنا چاہئے پیٹ بھرنے کے لیے کچھ کام کرنا چاہئے صرف خوابوں کا حسیں ہونا یہاں کافی نہیں خواب پورا کرنے کو حد سے گزرنا چاہئے عشق میں دل ٹوٹ جائے یہ تو ممکن ہے مگر کیا ضروری ٹوٹ کر سب کو بکھرنا چاہئے جو عطا کی ہے خدا نے زندگی اتنی رہے کیوں کسی کو بھی یہاں بے موت مرنا چاہئے اب سزا کی بات سن کے ڈر رہے ہیں آپ کیوں آپ کو ظلم و ستم کے وقت ڈرنا چاہئے التجا کرتے ہوئے پیاسا پرندہ مر گیا اب تو دریا کو حیا سے ڈوب مرنا چاہئے

zindagi ki hai zarurat peT bharnaa chaahiye

غزل · Ghazal

تجھ کو ہے مجھ سے پیار کبھی اعتراف کر یا کون ہے پسند یہ تصویر صاف کر میرے قریب آ کے گلے لگ جا میری جان کچھ اور تیرے من میں ہے تو انحراف کر کیوں اک ذرا سی بات پہ ناراض مجھ سے ہے میں نے خطا قبول کی تو اب معاف کر تیرے غموں کو رات کا بستر بنا لوں میں میری خوشی کو لے کے انہیں تو لحاف کر چلنا ہے زندگی کے سفر میں تو ساتھ چل چلنا ہے کتنی دور تلک انکشاف کر امید ہر کسی سے لگانا فضول ہے تو جس کو چاہتا ہے اسی کا طواف کر

tujh ko hai mujh se pyaar kabhi e'tiraaf kar

غزل · Ghazal

پہلے تو اک چراغ جلایا ہے دیر تک پھر بعد میں ہوا سے بچایا ہے دیر تک مجھ پہ نظر تھی میرے رقیبوں کی اس لئے میں نے بھی خوب رنگ جمایا ہے دیر تک جس نے یہ کہہ دیا میں کسی کام کا نہیں احساس اس کو اپنا کرایا ہے دیر تک گزرا نہیں تھا شخص جو میرے قریب سے اس نے بلا کے پاس بٹھایا ہے دیر تک کر لوں یقین اس پہ مگر مسئلہ ہے یہ بے وجہ اس نے ہاتھ ملایا ہے دیر تک پانی سے دھو لیے تھے سبھی داغ جسم کے دامن کا داغ اس نے چھڑایا ہے دیر تک کچھ تو لہو کا رنگ بھی ہلکا نکل گیا کچھ وقت نے بھی کھیل دکھایا ہے دیر تک

pahle to ik charaagh jalaayaa hai der tak

غزل · Ghazal

اپنے پرائے سب سے نبھاتا ہے کس طرح لوگوں کے ساتھ پیش تو آتا ہے کس طرح گہری کسی بھی نیند سے اچھا ہے جاگنا سویا ہوا ضمیر جگاتا ہے کس طرح ہم وقت کو پرکھنے سے پہلے یہ دیکھ لیں یہ وقت ہم کو پاٹھ پڑھاتا ہے کس طرح بے شک تو کر سوال تری زندگی ہے پر تو زندگی کا ساتھ نبھاتا ہے کس طرح اس کو گلے لگانے سے پہلے یہ دیکھنا وہ شخص تم سے ہاتھ ملاتا ہے کس طرح

apne paraae sab se nibhaataa hai kis tarah

غزل · Ghazal

دنیا نے یہی مجھ کو ہر بار بتایا ہے کوئی بھی نہیں اپنا ہر شخص پرایا ہے یہ وقت مجھے اکثر لیتا ہے نشانے پر میں نے بھی اسے اپنا انداز دکھایا ہے آندھی نے گرائے ہیں کچھ پیڑ بڑے لیکن مشکل میں کھڑے رہنا یہ پاٹھ پڑھایا ہے اک راہ جدا ہوتی اک راہ نظر آتی منزل کا پتہ اس نے کچھ یوں بھی بتایا ہے کرنا ہے بڑا خود کو تو سوچ بڑی رکھنا گملے میں بھلا کس نے برگد کو اگایا ہے جو آنکھ کی حد میں تھا دیکھا ہے وہی پہلے پھر دل کی نگاہوں نے کچھ اور دکھایا ہے

duniyaa ne yahi mujh ko har baar bataayaa hai

غزل · Ghazal

تیار ہوں جس شخص پر سانسیں لٹانے کے لئے وہ چل رہا ہے چال مجھ کو آزمانے کے لئے رشتے بنانے سے کبھی چلتے نہیں ہیں عمر بھر آداب آنے چاہئیں رشتہ نبھانے کے لئے میں وہ نہیں جس کو ملی ہے روشنی خیرات میں مجھ کو بہت جلنا پڑا ہے جگمگانے کے لئے آسان ہے سر کو جھکا دینا کسی دربار میں لیکن کلیجہ چاہیئے سر کو اٹھانے کے لئے کچھ طے نہیں ہے زندگی میں وقت رونے کا مگر معقول ہے ہر ایک لمحہ مسکرانے کے لئے

tayyaar huun jis shakhs par saansein luTaane ke liye

Similar Poets