SHAWORDS
Saail Dehlvi

Saail Dehlvi

Saail Dehlvi

Saail Dehlvi

poet
14Shayari
4Ghazal

Popular Shayari

14 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

جتاتے رہتے ہیں یہ حادثے زمانے کے کہ تنکے جمع کریں پھر نہ آشیانے کے سبب یہ ہوتے ہیں ہر صبح باغ جانے کے سبق پڑھاتے ہیں کلیوں کو مسکرانے کے ہزاروں عشق جنوں خیز کے بنے قصے ورق ہوے جو پریشاں مرے فسانے کے ہیں اعتبار سے کتنے گرے ہوے دیکھا اسی زمانے میں قصے اسی زمانے کے قرار جلوہ نمائی ہوا ہے فردا پر یہ طول دیکھیے اک مختصر زمانے کے نہ پھول مرغ چمن اپنی خوشنوائی پر جواب ہیں مرے نالے ترے ترانے کے اسی کی خاک ہے ماتھے کی زیب بندہ نواز جبیں پہ نقش پڑے ہیں جس آستانے کے

jataate rahte hain ye haadse zamaane ke

1 views

غزل · Ghazal

وفا کا بندہ ہوں الفت کا پاسدار ہوں میں حریف قمری و پروانۂ ہزار ہوں میں جدا جدا نظر آتی ہے جلوۂ تاثیر قرار ہو گیا موسیٰ کو بے قرار ہوں میں خمار جس سے نہ واقف ہو وہ سرور ہیں آپ سرور جس سے نہ آگاہ ہو وہ خمار ہوں میں سما گیا ہے یہ سودا عجیب سر میں مرے کرم کا اہل ستم سے امیدوار ہوں میں عوض دوا کے دعا دے گیا طبیب مجھے کہا جو میں نے غم ہجر سے دو چار ہوں میں شباب کر دیا میرا تباہ الفت نے خزاں کے ہاتھ کی بوئی ہوئی بہار ہوں میں قرار داد گریباں ہوئی یہ دامن سے کہ پرزے پرزے اگر ہو تو تار تار ہوں میں مرے مزار کو سمجھا نہ جائے ایک مزار ہزار حسرت و ارماں کا خود مزار ہوں میں ظہیرؔ و ارشدؔ و غالبؔ کا ہوں جگر گوشہ جناب داغؔ کا تلمیذ و یادگار ہوں میں امیر کرتے ہیں عزت مری ہوں وہ سائلؔ گلوں کے پہلو میں رہتا ہوں ایسا خار ہوں میں

vafaa kaa banda huun ulfat kaa paasdaar huun main

1 views

غزل · Ghazal

ملے غیروں سے مجھ کو رنج و غم یوں بھی ہے اور یوں بھی وفا دشمن جفا جو کا ستم یوں بھی ہے اور یوں بھی کہیں وامق کہیں مجنوں رقم یوں بھی ہے اور یوں بھی ہمارے نام پر چلتا قلم یوں بھی ہے اور یوں بھی شب وعدہ وہ آ جائیں نہ آئیں مجھ کو بلوا لیں عنایت یوں بھی ہے اور یوں بھی کرم یوں بھی ہے اور یوں بھی عدو لکھے مجھے نامہ تمہاری مہر اس کا خط جفا یوں بھی ہے اور یوں بھی ستم یوں بھی ہے اور یوں بھی نہ خود آئیں نہ بلوائیں شکایت کیوں نہ لکھ بھیجوں عنایت کی نظر مجھ پر کرم یوں بھی ہے اور یوں بھی یہ مسجد ہے یہ مے خانہ تعجب اس پر آتا ہے جناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی تجھے نواب بھی کہتے ہیں شاعر بھی سمجھتے ہیں زمانے میں ترا سائلؔ بھرم یوں بھی ہے اور یوں بھی

mile ghairon se mujh ko ranj o gham yuun bhi hai aur yuun bhi

1 views

غزل · Ghazal

محبت میں جینا نئی بات ہے نہ مرنا بھی مر کر کرامات ہے میں رسوائے الفت وہ معروف حسن بہم شہرتوں میں مساوات ہے نہ شاہد نہ مے ہے نہ بزم طرب یہ خمیازۂ ترک عادات ہے شب و روز فرقت ہمارا ہر ایک اجل کا ہے دن موت کی رات ہے اڑی ہے مے مفت سائلؔ مدام کہ ساقی سے گہری ملاقات ہے

mohabbat mein jiinaa nai baat hai

1 views

Similar Poets