khush hain to phir musaafir-e-duniyaa nahin hain aap
is dasht mein bas aabla-paai hai roiye

Abbas Qamar
Abbas Qamar
Abbas Qamar
Popular Shayari
7 totalmere kamre mein udaasi hai qayaamat ki magar
ek tasvir puraani si hansaa karti hai
haalat-e-haal se begaana banaa rakkhaa hai
khud ko maazi kaa nihaan-khaana banaa rakkhaa hai
khamoshi kah rahi hai ab ye do-aabaa ravaan hogaa
havaa chup ho to baarish ke shadid aasaar hote hain
ham hain asir-e-zabt ijaazat nahin hamein
ro paa rahe hain aap badhaai hai roiye
ashkon ko aarzu-e-rihaai hai roiye
aankhon ki ab isi mein bhalaai hai roiye
inhein aankhon ne bedardi se be-ghar kar diyaa hai
ye aansu qahqaha banne ki koshish kar rahe the
Ghazalغزل
جہاں سارے ہوا بننے کی کوشش کر رہے تھے وہاں بھی ہم دیا بننے کی کوشش کر رہے تھے ہمیں زور تصور بھی گنوانا پڑ گیا ہم تصور میں خدا بننے کی کوشش کر رہے تھے زمیں پر آ گرے جب آسماں سے خواب میرے زمیں نے پوچھا کیا بننے کی کوشش کر رہے تھے انہیں آنکھوں نے بیدردی سے بے گھر کر دیا ہے یہ آنسو قہقہہ بننے کی کوشش کر رہے تھے ہمیں دشواریوں میں مسکرانے کی طلب تھی ہم اک تصویر سا بننے کی کوشش کر رہے تھے
jahaan saare havaa banne ki koshish kar rahe the
42 views
لمحہ در لمحہ تری راہ تکا کرتی ہے ایک کھڑکی تری آمد کی دعا کرتی ہے سلوٹیں چیختی رہتی ہیں مرے بستر کی کروٹوں میں ہی مری رات کٹا کرتی ہے وقت تھم جاتا ہے اب رات گزرتی ہی نہیں جانے دیوار گھڑی رات میں کیا کرتی ہے چاند کھڑکی میں جو آتا تھا نہیں آتا اب تیرگی چاروں طرف رقص کیا کرتی ہے میرے کمرے میں اداسی ہے قیامت کی مگر ایک تصویر پرانی سی ہنسا کرتی ہے
lamha-dar-lamha tiri raah takaa karti hai
42 views
بے خیالی کی ردا دور تلک تانی ہے اب تو یہ بھی نہیں لگتا کہ پریشانی ہے سرد موسم میں بھڑک اٹھی ہے تنہائی کی آگ جو بڑھا دیتی ہے مشکل وہی آسانی ہے آب گریہ سے ہے دیدار کی صورت پیدا دیکھیے غور سے آنکھ آنکھ نہیں پانی ہے میں تو احساس کی تصویر بنا بیٹھا ہوں رونق بزم تصور مری حیرانی ہے یہ جو دنیا ہے یہ دنیا کی بنائی ہوئی ہے آدمی کیا ہے نظریات کی شیطانی ہے یہ غزل سن کے کہیں گے قمر عباس قمرؔ یار عباس قمرؔ تم نے عجب ٹھانی ہے
be-khayaali ki ridaa duur talak taani hai
42 views
ہم ایسے سرپھرے دنیا کو کب درکار ہوتے ہیں اگر ہوتے بھی ہیں بے انتہا دشوار ہوتے ہیں خموشی کہہ رہی ہے اب یہ دو آبا رواں ہوگا ہوا چپ ہو تو بارش کے شدید آثار ہوتے ہیں ذرا سی بات ہے اس کا تماشا کیا بنائیں ہم ارادے ٹوٹتے ہیں حوصلے مسمار ہوتے ہیں شکایت زندگی سے کیوں کریں ہم خود ہی تھم جائیں جو کم رفتار ہوتے ہیں وہ کم رفتار ہوتے ہیں گلے میں زندگی کے ریسمان وقت ہے تو کیا پرندے قید میں ہوں تو بہت ہشیار ہوتے ہیں جہاں والے مقید ہیں ابھی تک عہد طفلی میں یہاں اب بھی کھلونے رونق بازار ہوتے ہیں گلوئے خشک ان کو بھیجتا ہے دے کے مشکیزہ کچھ آنسو تشنہ کاموں کے علمبردار ہوتے ہیں بدن ان کو کبھی باہر نکلنے ہی نہیں دیتا قمر عباسؔ تو باقاعدہ تیار ہوتے ہیں
ham aise sar-phire duniyaa ko kab darkaar hote hain
42 views
حالت حال سے بیگانہ بنا رکھا ہے خود کو ماضی کا نہاں خانہ بنا رکھا ہے خوف دوزخ نے ہی ایجاد کیا ہے سجدہ ڈر نے انسان کو دیوانہ بنا رکھا ہے منبر عشق سے تقریر کی خواہش ہے ہمیں دل کو اس واسطے مولانا بنا رکھا ہے ماتم شوق بپا کرتے ہیں ہر شام یہاں جسم کو ہم نے اذاں خانہ بنا رکھا ہے وقت رخصت ہے مرے چاہنے والوں نے بھی اب سانس کو وقت کا پیمانہ بنا رکھا ہے جانتے ہیں وہ پرندہ ہے نہیں ٹھہرے گا ہم نے اس دل کو مگر دانا بنا رکھا ہے
haalat-e-haal se begaana banaa rakkhaa hai
42 views
اشکوں کو آرزوئے رہائی ہے روئیے آنکھوں کی اب اسی میں بھلائی ہے روئیے رونا علاج ظلمت دنیا نہیں تو کیا کم از کم احتجاج خدائی ہے روئیے تسلیم کر لیا ہے جو خود کو چراغ حق دنیا قدم قدم پہ صبائی ہے روئیے خوش ہیں تو پھر مسافر دنیا نہیں ہیں آپ اس دشت میں بس آبلہ پائی ہے روئیے ہم ہیں اسیر ضبط اجازت نہیں ہمیں رو پا رہے ہیں آپ بدھائی ہے روئیے
ashkon ko aarzu-e-rihaai hai roiye
42 views

