SHAWORDS
Javed Akhtar

Javed Akhtar

Javed Akhtar

Javed Akhtar

poet
50Shayari
49Ghazal

Popular Shayari

50 total

Ghazalغزل

See all 49
غزل · Ghazal

یہ تسلی ہے کہ ہیں ناشاد سب میں اکیلا ہی نہیں برباد سب سب کی خاطر ہیں یہاں سب اجنبی اور کہنے کو ہیں گھر آباد سب بھول کے سب رنجشیں سب ایک ہیں میں بتاؤں سب کو ہوگا یاد سب سب کو دعوائے وفا سب کو یقیں اس اداکاری میں ہیں استاد سب شہر کے حاکم کا یہ فرمان ہے قید میں کہلائیں گے آزاد سب چار لفظوں میں کہو جو بھی کہو اس کو کب فرصت سنے فریاد سب تلخیاں کیسے نہ ہوں اشعار میں ہم پہ جو گزری ہمیں ہے یاد سب

ye tasalli hai ki hain naashaad sab

غزل · Ghazal

دست بردار اگر آپ غضب سے ہو جائیں ہر ستم بھول کے ہم آپ کے اب سے ہو جائیں چودھویں شب ہے تو کھڑکی کے گرا دو پردے کون جانے کہ وہ ناراض ہی شب سے ہو جائیں ایک خوشبو کی طرح پھیلتے ہیں محفل میں ایسے الفاظ ادا جو ترے لب سے ہو جائیں نہ کوئی عشق ہے باقی نہ کوئی پرچم ہے لوگ دیوانے بھلا کس کے سبب سے ہو جائیں باندھ لو ہاتھ کہ پھیلیں نہ کسی کے آگے سی لو یہ لب کہ کہیں وہ نہ طلب سے ہو جائیں بات تو چھیڑ مرے دل کوئی قصہ تو سنا کیا عجب ان کے بھی جذبات عجب سے ہو جائیں

dast-bardaar agar aap ghazab se ho jaaein

غزل · Ghazal

یہ مجھ سے پوچھتے ہیں چارہ گر کیوں کہ تو زندہ تو ہے اب تک مگر کیوں جو رستہ چھوڑ کے میں جا رہا ہوں اسی رستے پہ جاتی ہے نظر کیوں تھکن سے چور پاس آیا تھا اس کے گرا سوتے میں مجھ پر یہ شجر کیوں سنائیں گے کبھی فرصت میں تم کو کہ ہم برسوں رہے ہیں در بہ در کیوں یہاں بھی سب ہیں بیگانہ ہی مجھ سے کہوں میں کیا کہ یاد آیا ہے گھر کیوں میں خوش رہتا اگر سمجھا نہ ہوتا یہ دنیا ہے تو میں ہوں دیدہ ور کیوں

ye mujh se puchhte hain chaaragar kyuun

غزل · Ghazal

درد کچھ دن تو میہماں ٹھہرے ہم بضد ہیں کہ میزباں ٹھہرے صرف تنہائی صرف ویرانی یہ نظر جب اٹھے جہاں ٹھہرے کون سے زخم پر پڑاؤ کیا درد کے قافلے کہاں ٹھہرے کیسے دل میں خوشی بسا لوں میں کیسے مٹھی میں یہ دھواں ٹھہرے تھی کہیں مصلحت کہیں جرأت ہم کہیں ان کے درمیاں ٹھہرے

dard kuchh din to mehmaan Thahre

غزل · Ghazal

بظاہر کیا ہے جو حاصل نہیں ہے مگر یہ تو مری منزل نہیں ہے یہ تودہ ریت کا ہے بیچ دریا یہ بہہ جائے گا یہ ساحل نہیں ہے بہت آسان ہے پہچان اس کی اگر دکھتا نہیں تو دل نہیں ہے مسافر وہ عجب ہے کارواں میں کہ جو ہم راہ ہے شامل نہیں ہے بس اک مقتول ہی مقتول کب ہے بس اک قاتل ہی تو قاتل نہیں ہے کبھی تو رات کو تم رات کہہ دو یہ کام اتنا بھی اب مشکل نہیں ہے

ba-zaahir kyaa hai jo haasil nahin hai

غزل · Ghazal

کھلا ہے در پہ ترا انتظار جاتا رہا خلوص تو ہے مگر اعتبار جاتا رہا کسی کی آنکھ میں مستی تو آج بھی ہے وہی مگر کبھی جو ہمیں تھا خمار جاتا رہا کبھی جو سینے میں اک آگ تھی وہ سرد ہوئی کبھی نگاہ میں جو تھا شرار جاتا رہا عجب سا چین تھا ہم کو کہ جب تھے ہم بے چین قرار آیا تو جیسے قرار جاتا رہا کبھی تو میری بھی سنوائی ہوگی محفل میں میں یہ امید لیے بار بار جاتا رہا

khulaa hai dar pa tiraa intizaar jaataa rahaa

Similar Poets