SHAWORDS
Jurat Qalandar Bakhsh

Jurat Qalandar Bakhsh

Jurat Qalandar Bakhsh

Jurat Qalandar Bakhsh

poet
132Shayari
74Ghazal

Popular Shayari

132 total

Ghazalغزل

See all 74
غزل · Ghazal

دود آتش کی طرح یاں سے نہ ٹل جاؤں گا شمع ساں محفل جاناں ہی میں جل جاؤں گا دور سے بھی اسے دیکھوں تو یہ چتون میں کہے آ کے دیدے ابھی تلووں تلے مل جاؤں گا دل مضطر یہ کہے ہے وہیں لے چل ورنہ توڑ چھاتی کے کواڑوں کو نکل جاؤں گا میں ہوں خورشید سر کوہ یقیں ہے کہ وہ ماہ آئے گا بام پہ تب جب کہ میں ڈھل جاؤں گا آج بھی کوئی نہ لے جائے گا واں مجھ کو تو بس کل نہیں ہے مجھے میں جی ہی سے کل جاؤں گا واں سے اٹھتا ہوں تو کہتا ہے یہ پائے رفتار جب زمیں پر تو رکھے گا میں پھسل جاؤں گا بہ خدا حسن بتاں کا یہی سب سے ہے کلام وہ چھلاوا ہوں کہ تم سب کو میں چھل جاؤں گا آ کے برسوں میں وہ مجھ پاس یہ شب کہنے لگے یاں ٹھہرنے میں بہت سے ہیں خلل جاؤں گا تیغہ قاتل کا کہے ہے کہ دوالی بندو موٹھ کی طرح سے تم سب پہ میں چل جاؤں گا گو مزاج اس کا یہ بدلا کہ کہے ہے مجھے یوں دیکھو تم آئے تو میں گھر سے نکل جاؤں گا پر رہا جائے گا کب ہے مری حالت تغییر یوں نہ جاؤں گا تو میں بھیس بدل جاؤں گا جرأتؔ اشعار جنوں خیز کہہ اب اور کہ میں لے کے یہ تربت سودا پہ غزل جاؤں گا

dud-e-aatish ki tarah yaan se na Tal jaaungaa

غزل · Ghazal

یاد آتا ہے تو کیا پھرتا ہوں گھبرایا ہوا چمپئی رنگ اس کا اور جوبن وہ گدرایا ہوا بات ہی اول تو وہ کرتا نہیں مجھ سے کبھی اور جو بولے ہے کچھ منہ سے تو شرمایا ہوا جا کے پھر آؤں نہ جاؤں اس گلی میں دوڑ دوڑ پر کروں کیا میں نہیں پھرتا ہے دل آیا ہوا بے سبب جو مجھ سے ہے وہ شعلہ خو سرگرم جنگ میں تو حیراں ہوں کہ یہ کس کا ہے بھڑکایا ہوا وہ کرے عزم سفر تو کیجیے دنیا سے کوچ یہ ارادہ ہم نے بھی دل میں ہے ٹھہرایا ہوا نوک مژگاں پر دل پژمردہ ہے یوں سرنگوں شاخ سے جھک آئے ہے جوں پھول مرجھایا ہوا جاؤں جاؤں کیا لگایا ہے میاں بیٹھے رہو ہوں میں اپنی زیست سے آگے ہی اکتایا ہوا تیری دوری سے یہ حالت ہو گئی اپنی کہ آہ عنقریب مرگ ہر اک اپنا ہمسایہ ہوا کیا کہیں اب عشق کیا کیا ہم سے کرتا ہے سلوک دل پہ بے تابی کا اک پیادہ ہے بٹھلایا ہوا ہے قلق سے دل کی یہ حالت مری اب تو کہ میں چار سو پھرتا ہوں اپنے گھر میں گھبرایا ہوا چپکے چپکے اپنے اپنے دل میں سب کہتے ہیں لوگ کیا بلا وحشت ہوئی ہے اس کو یا سایا ہوا حکم بار مجلس اب جرأتؔ کو بھی ہو جائے جی یہ بچارہ کب سے دروازے پہ ہے آیا ہوا

yaad aataa hai to kyaa phirtaa huun ghabraayaa huaa

غزل · Ghazal

تن میں دم روک میں بہ دیر رکھا آؤ جی کس نے تم کو گھیر رکھا ہم گئے واں تو یاں وہ آیا واہ خوب قسمت نے ہیر پھیر رکھا کر گیا وہ ہی راہ عشق کو طے یاں قدم جس نے ہو دلیر رکھا سب کو عاجز کیا فلک نے پر ایک آہوئے دل پہ غم کو شیر رکھا جا کے بیٹھے جو کوئے یار میں ہم واں سے باہر قدم نہ پھیر رکھا بعد مدت وہ دیکھ کر بولا کس نے یاں خاک کا یہ ڈھیر رکھا شکر اے درد عشق تو نے سدا زندگانی سے ہم کو سیر رکھا کیسا گھبرا گیا وہ کل ہم نے ٹک جو رستے میں اس کو گھیر رکھا خیر ہو یا الٰہی جرأتؔ نے عاشقی میں قدم کو پھیر رکھا

tan mein dam rok main ba der rakhaa

غزل · Ghazal

ہے تیری ہی کائنات جی میں جی تجھ سے ہے تیری ذات جی میں تو نے کیا قتل گو بہ ذلت سمجھا میں اسے نجات جی میں کیوں غم یہ مجھی پہ مہرباں ہے سب شاد ہیں ذی حیات جی میں اس تنگ دہان کے سخن پر یاں گزرے ہیں سو نکات جی میں ہر دم بہ ہزار جلوۂ نو دیکھوں ہوں تری صفات جی میں دم آنکھوں میں آ رہا ہے جرأتؔ گزرے ہے یہ آج رات جی میں آ جاوے تو حال دل سنا لیں رہ جائے نہ جی کی بات جی میں

hai teri hi kaaenaat ji mein

غزل · Ghazal

پروا نہیں اس کو اور موئے ہم کیوں ایسے پہ مبتلا ہوئے ہم گو پیسے ہی ڈالے جوں حنا وہ پر چھوڑیں نہ پاؤں بن چھوئے ہم مژگان دراز اس کی کر یاد سینے پہ گڑوتے ہیں سوئے ہم رونے سے مکان خانہ بولے بس لاکھ جگہ سے اب چوئے ہم اک بازیٔ عشق سے ہیں عاری کھیلے ہیں وگرنہ سب جوئے ہم خوباں کو بن اس کے دیکھیں کیا خاک ماٹی کے سمجھتے ہیں تھوئے ہم دم آنکھوں میں آ رہا ہے، لو جان جلد آؤ وگرنہ اب موئے ہم اٹھ جانے سے اس کے جرأتؔ اے واے معلوم نہیں کہ کیا ہوئے ہم

parvaa nahin us ko aur mue ham

غزل · Ghazal

یاد کر وہ حسن سبز اور انکھڑیاں متوالیاں کاٹتے ہیں رو ہی رو ساون کی راتیں کالیاں شب تصور باندھ کر اس جنبش مژگاں کا واہ خود بخود کس کس مزے سے ہم نے چھڑیاں کھا لیاں دیکھیں کیا ان کی لچک اس ساعد نازک بغیر کھینچتی ہیں کیوں ہمیں کانٹوں میں گل کی ڈالیاں کچھ نہ کچھ کر بیٹھتا ہوں بات اس کے بر خلاف تا کسی صورت وہ دے جھنجھلا کے مجھ کو گالیاں مہ اسیر ہالہ اس کا دیکھ بالا کیوں نہ ہو خندہ زن ہوں مہر پر جس کی جڑاؤ بالیاں شب کو جو اس کا تصور بندھ گیا تو ہم نے بس اس کے مکھڑے کی بلائیں صبح تک کیا کیا لیاں وقت اظہار وفا محفل میں اس کی جس سے آنکھ مل گئی تو بس وہ سب باتیں اسی پر ڈھالیاں برگ گل ان کو کہوں یا پارۂ یاقوت واہ دیکھیو بن پان کھائے ان لبوں کی لالیاں کوچۂ قاتل کو گر مسلخ کہوں تو ہے بجا جب نہ تب دیکھو تو بہتی ہیں لہو کی نالیاں خون دل آنکھوں میں بھر آتا ہے جب آتی ہے یاد وہ مئے گل رنگ کی بھر بھر کے دینی پیالیاں تاک جھانک اس کی کہوں کیا میں کہ طفلی میں بھی تھیں اس کے ہاتھوں گھر کی دیواروں میں ہر سو جالیاں کاش جرأتؔ وصل کا دن ہووے جلدی سے نصیب ہجر کی تو کھائے جاتی ہیں یہ راتیں کالیاں

yaad kar vo husn-e-sabz aur ankhDiyaan matvaaliyaan

Similar Poets