us but ko chhoD kar haram-o-dair par miTe
aql-e-sharif se ye nihaayat baiid hai
Mirza Maseeta Beg Muntahi
Mirza Maseeta Beg Muntahi
Mirza Maseeta Beg Muntahi
Popular Shayari
34 totalhai khushi apni vahi jo kuchh khushi hai aap ki
hai vahi manzur jo kuchh aap ko manzur ho
hai daulat-e-husn paas tere
detaa nahin kyuun zakaat is ki
yuun intizaar-e-yaar mein ham umr bhar rahe
jaise nazar gharib ki allaah par rahe
bosa jo maangaa bazm mein farmaayaa yaar ne
ye din dahaaDe aae hain pagDi utaarne
duniyaa kaa maal muft mein chakhne ke vaaste
haath aayaa khuub shaikh ko hiila namaaz kaa
mujh saa aashiq aap saa maashuq tab hove nasib
jab khudaa ik dusraa arz-o-samaa paidaa kare
jise zauq-e-baada-parasti nahin hai
mire saamne us ki hasti nahin hai
sikhlaa rahaa huun dil ko mohabbat ke rang-Dhang
kartaa huun main makaan ki taamir aaj-kal
jis qadar vo mujh se bigDaa main bhi bigDaa us qadar
vo huaa jaame se baahar main bhi nangaa ho gayaa
umiid hai hamein fardaa ho yaa pas-e-fardaa
zarur hoegi sohbat vo yaar baaqi hai
chalegaa tiir jab apni duaa kaa
kaleje dushmanon ke chhaan degaa
Ghazalغزل
فغان و آہ ہے ہر دم پکار رکھتا ہے غضب میں جان دل بے قرار رکھتا ہے گل چمن نہ در شاہوار رکھتا ہے بھرا بھرا جو بدن میرا یار رکھتا ہے لطیف روح کی مانند جسم ہے کس کا پیادہ کون وقار سوار رکھتا ہے جدا جدا ہے حسینان دہر کا انداز ہر ایک طرح کی ہر گل بہار رکھتا ہے فریب حسن سے اللہ آدمی کو بچا چلے یہ پیچ تو رستم کو مار رکھتا ہے کمال عشق کو پاتا ہوں خاکساری میں طرف نشیب کے دریا گزار رکھتا ہے بہار آئی ہے بنت العنب پہ جوبن ہے گرہ میں دام کوئی بادہ خوار رکھتا ہے سنا ہے جب سے کہ ہیں دفن اس میں عاشق زار قدم زمیں پہ نہیں وہ نگار رکھتا ہے ہر ایک شیشۂ ساعت فلک کو کہتا ہے کہ منتہیؔ سے سراسر غبار رکھتا ہے
fughaan-o-aah hai har-dam pukaar rakhtaa hai
ممکن مجھے جو ہو بے ریا ہو مسند ہو کہ اس میں بوریا ہو جب قابل دید دل ربا ہو اللہ کرے کہ با وفا ہو بھیجا نہیں خط شوق کب سے معلوم ہوا کہ تم خفا ہو بے تابئ دل اگر دکھاؤں کوئی نہ کسی کا مبتلا ہو مرتا ہے زر پہ اہل دنیا نامرد کو کب خواہش طلا ہو مٹی کر دے جو آپ کو تو نظروں میں خاک کیمیا ہو آئی ہے فصل گل چمن میں اے ہوش و خرد چلو ہوا ہو کیا مجھ کو در بدر پھرایا اے خواہش دل ترا برا ہو دکھلائی تو نے یار کی شکل اے جذبۂ دل ترا بھلا ہو لپٹو مجھے آ کے ہجر کی شب اے گیسوئے یار اگر بلا ہو اے منتہیؔ بزم یار کا حال کیا جانئے بعد میرے کیا ہو
mumkin mujhe jo ho be-riyaa ho
فغان و آہ سے پیدا کیا درد جدائی کو غضب میں جان کو ڈالا جتا کر آشنائی کو مٹایا پاس رسوائی سے میری آشنائی کو بچھاؤں آپ کی عصمت کو اوڑھوں پارسائی کو نہ آیا بعد مردن بھی لحد پر فاتحہ پڑھنے میں اتنا بھی نہ سمجھا تھا تری ناآشنائی کو نہ دل اپنا ہوا اپنا نہ اک بت پر ہوا قابو کریں گے یاد کیا ہم اے خدا تیرے خدائی کو کسی محفل میں جس دم ذکر شمع طور ہوتا ہے دکھا دیتے ہیں وہ جل کر سر انگشت حنائی کو فقیر بے نوا اس کے در دولت کا ہے بندہ غنیمت جانتے ہیں شاہ تک جس کی گدائی کو اثر پیدا کرے گی آہ اپنی یار کے دل میں نشانے تک خدا پہنچائے گا تیر ہوائی کو کبھی ہے فکر دنیا کی کبھی عقبیٰ کا دھڑکا ہے اتاروں جامۂ تن سے میں کیوں کر اس دلائی کو گریباں ہاتھ آتا ہے نہ صحرا تک پہنچتا ہوں خدا کے واسطے دیکھو مرے بے دست و پائی کو فلک وہ تفرقہ پرواز عالم ہے دلا سر پر غنیمت جانتا ہوں گور تک اپنی رسائی کو شکستہ دل ہیں ہر دم ہر گھڑی ہیں جان کے لالے کروں کیا نوش دارو کو میں کیا لوں موسیائی کو تمنائے دلی نے منتہیؔ کھویا مشیخت کو ملایا خاک میں دست ہوس نے میرزائی کو
fughaan-o-aah se paidaa kiyaa dard-e-judaai ko
در پہ اس شوخ کے جب جا بیٹھا یار سب کہتے ہیں اچھا بیٹھا خوبیٔ قسمت قاصد دیکھو پاس اس شوخ کے کیا جا بیٹھا ہے حباب لب دریا انساں جب ذرا سر کو اٹھایا بیٹھا ضعف پیری سے بنا نقش قدم میں وہیں کا ہوا جس جا بیٹھا صورت باد رہا سر گرداں خاک کی طرح میں اٹھا بیٹھا پاؤں پھولے جو ترے کوچے میں کاٹ کے دست تمنا بیٹھا بحر ہستی میں حبابوں کی طرح سیکڑوں بار میں اٹھا بیٹھا کب سے تیرا فلک شعبدہ باز دیکھتا ہوں میں تماشا بیٹھا سامنے کس کے جھکایا سر کو کس لئے شیخ تو اٹھا بیٹھا نہ تو نالہ ہے نہ افغاں اے دل کس لئے چپ ہے اکیلا بیٹھا خواب سیر چمن عالم ہے کیا دل زار ہے پھولا بیٹھا دامن دل پہ لگا داغ جنوں ملک پر عشق کا سکہ بیٹھا نقد دل تھا جو بضاعت میں مری عشق میں اس کو بھی کھو کھا بیٹھا جو گیا ملک عدم کون گیا اس کے کوچے میں جو بیٹھا بیٹھا دل کو ہے جذبۂ الفت شاید بک رہا ہے جو اکیلا بیٹھا چل بسے منتہیؔ سب یار ترے تو یہاں کرتا ہے اب کیا بیٹھا
dar pe us shokh ke jab jaa baiThaa
دیر و حرم کو چھوڑ کے اے دل چل بیٹھو میخانے میں خوب گزر جائے گی اپنی ساقی سے یارانے میں سیر طبیعت ہو جائے گی نشہ جو ہے ہووے گا وہی فرق نہیں ہے ساقی ہرگز چلو میں پیمانے میں روح ہے جب تک جسم کے اندر جسم پہ میرے رونق ہے کاشانہ آباد ہے جب تک بلبل ہے کاشانے میں دست تمنا قطع ہوا برباد ہوئی ہے حرص و ہوا زیست کی صورت اپنی بندھی اے نفس ترے مر جانے میں سچ ہے دل کو اپنے بھی جز یاد صنم کچھ دھیان نہیں دیکھ تو اے ناصح کیسی ہشیاری ہے دیوانے میں فکر دنیا سے ہیں چھٹے اس رنج جہاں سے پائی نجات لاکھ طرح کی راحت پائی اک اپنے مر جانے میں پیش جنون بختہ اے دل موت تو زیست سے خوشتر ہے شمع کے آگے رقص کناں تھا پروانہ جل جانے میں حسن نیرنگ اس مہ رو کا دل حزیں میں رہتا ہے چشم بینا ہو تو دیکھے بستی ہے ویرانے میں نقش محبت کہیں نہ پایا لوح دل پر انساں کے پھرا قلم کی صورت سے میں برسوں اک اک خانے میں
dair-o-haram ko chhoD ke ai dil chal baiTho maikhaane mein
جور افلاک بسکہ جھیلے ہیں ایسے پاپڑ بہت سے بیلے ہیں گہ حضوری ہے گاہ ہے دوری گہ اکیلے ہیں گہ دو کیلے ہیں اسپ تازی نظر نہیں آتے سو کھروں سے بھرے طویلے ہیں کہتے ہیں یاں جسے قمار عشق کھیل ایسے بہت سے کھیلے ہیں جیتے ہیں وہ قمار عشق میں یار جان پر اپنی جو کہ کھیلے ہیں ٹھہرے کب جنگ حسن میں یہ شیخ ایک مدت کے یہ بھگیلے ہیں پاس اپنے دوئی کا نام نہیں جب سے پیدا ہوئے اکیلے ہیں نہ دکھانا لحد میں آنکھیں نکیر پاس اپنے بھی قل کے ڈھیلے ہیں کفر و دیں کا ہو فیصلہ کیوں کر ایک مدت کے یہ منجھیلے ہیں دیر و کعبہ کی بھیڑ بھاڑ ہے کیا ایسے دیکھے بہت سے میلے ہیں گریۂ پر اثر کی شدت ہے صاف آب بقا کے ریلے ہیں بھیجا اپنا خیال اس بت نے جب سنا منتہیؔ اکیلے ہیں
jaur-e-aflaak bas-ki jhele hain





