SHAWORDS
Mohsin Naqvi

Mohsin Naqvi

Mohsin Naqvi

Mohsin Naqvi

poet
41Shayari
49Ghazal

Popular Shayari

41 total

Ghazalغزل

See all 49
غزل · Ghazal

جذبے کو زبان دے رہا ہوں پتھر کو بھی جان دے رہا ہوں اک یاد کو دفن کر کے دل میں دشمن کو امان دے رہا ہوں منصف کا مزاج جانتا ہوں بے سود بیان دے رہا ہوں چہرے پہ سجا کے خون اپنا قاتل کا نشان دے رہا ہوں فصلوں کو تو بارشوں نے لوٹا مٹی کا لگان دے رہا ہوں بہروپ بدل کے آندھیوں کا تنکوں کو اڑان دے رہا ہوں اس شہر میں شعر کہہ کے محسنؔ صحرا میں اذان دے رہا ہوں

jazbe ko zabaan de rahaa huun

غزل · Ghazal

یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی اس دشت میں اک شہر تھا وہ کیا ہوا آوارگی کل شب مجھے بے شکل کی آواز نے چونکا دیا میں نے کہا تو کون ہے اس نے کہا آوارگی لوگو بھلا اس شہر میں کیسے جئیں گے ہم جہاں ہو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا آوارگی یہ درد کی تنہائیاں یہ دشت کا ویراں سفر ہم لوگ تو اکتا گئے اپنی سنا آوارگی اک اجنبی جھونکے نے جب پوچھا مرے غم کا سبب صحرا کی بھیگی ریت پر میں نے لکھا آوارگی اس سمت وحشی خواہشوں کی زد میں پیمان وفا اس سمت لہروں کی دھمک کچا گھڑا آوارگی کل رات تنہا چاند کو دیکھا تھا میں نے خواب میں محسنؔ مجھے راس آئے گی شاید سدا آوارگی

ye dil ye paagal dil miraa kyuun bujh gayaa aavaargi

غزل · Ghazal

فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گا بدن دریدہ کسی کو لباس کیا دے گا یہ دل کہ قحط انا سے غریب ٹھہرا ہے مری زباں کو زر التماس کیا دے گا جو دے سکا نہ پہاڑوں کو برف کی چادر وہ میری بانجھ زمیں کو کپاس کیا دے گا یہ شہر یوں بھی تو دہشت بھرا نگر ہے یہاں دلوں کا شور ہوا کو ہراس کیا دے گا وہ زخم دے کے مجھے حوصلہ بھی دیتا ہے اب اس سے بڑھ کے طبیعت شناس کیا دے گا جو اپنی ذات سے باہر نہ آ سکا اب تک وہ پتھروں کو متاع حواس کیا دے گا وہ میرے اشک بجھائے گا کس طرح محسنؔ سمندروں کو وہ صحرا کی پیاس کیا دے گا

fazaa kaa habs shagufon ko baas kyaa degaa

غزل · Ghazal

خمار موسم خوشبو حد چمن میں کھلا مری غزل کا خزانہ ترے بدن میں کھلا تم اس کا حسن کبھی اس کی بزم میں دیکھو کہ ماہتاب سدا شب کے پیرہن میں کھلا عجب نشہ تھا مگر اس کی بخشش لب میں کہ یوں تو ہم سے بھی کیا کیا نہ وہ سخن میں کھلا نہ پوچھ پہلی ملاقات میں مزاج اس کا وہ رنگ رنگ میں سمٹا کرن کرن میں کھلا بدن کی چاپ نگہ کی زباں بھی ہوتی ہے یہ بھید ہم پہ مگر اس کی انجمن میں کھلا کہ جیسے ابر ہوا کی گرہ سے کھل جائے سفر کی شام مرا مہرباں تھکن میں کھلا کہوں میں کس سے نشانی تھی کس مسیحا کی وہ ایک زخم کہ محسنؔ مرے کفن میں کھلا

khumaar-e-mausam-e-khushbu had-e-chaman mein khulaa

غزل · Ghazal

یہ کہہ گئے ہیں مسافر لٹے گھروں والے ڈریں ہوا سے پرندے کھلے پروں والے یہ میرے دل کی ہوس دشت بے کراں جیسی وہ تیری آنکھ کے تیور سمندروں والے ہوا کے ہاتھ میں کاسے ہیں زرد پتوں کے کہاں گئے وہ سخی سبز چادروں والے کہاں ملیں گے وہ اگلے دنوں کے شہزادے پہن کے تن پہ لبادے گداگروں والے پہاڑیوں میں گھرے یہ بجھے بجھے رستے کبھی ادھر سے گزرتے تھے لشکروں والے انہی پہ ہو کبھی نازل عذاب آگ اجل وہی نگر کبھی ٹھہریں پیمبروں والے ترے سپرد کروں آئنے مقدر کے ادھر تو آ مرے خوش رنگ پتھروں والے کسی کو دیکھ کے چپ چپ سے کیوں ہوئے محسنؔ کہاں گئے وہ ارادے سخن وروں والے

ye kah gae hain musaafir luTe gharon vaale

غزل · Ghazal

ہوا کا لمس جو اپنے کواڑ کھولتا ہے تو دیر تک مرے گھر کا سکوت بولتا ہے ہم ایسے خاک نشیں کیا لبھا سکیں گے اسے وہ اپنا عکس بھی میزان زر میں تولتا ہے جو ہو سکے تو یہی رات اوڑھ لے تن پر بجھا چراغ اندھیرے میں کیوں ٹٹولتا ہے اسی سے مانگ لو خیرات اپنے خوابوں کی وہ جاگتی ہوئی آنکھوں میں نیند گھولتا ہے سنا ہے زلزلے آتے ہیں عرش پر محسنؔ کہ بے گناہ لہو جب سناں پہ بولتا ہے

havaa kaa lams jo apne kivaaD kholtaa hai

Similar Poets