SHAWORDS
Rais Amrohvi

Rais Amrohvi

Rais Amrohvi

Rais Amrohvi

poet
19Sher
19Shayari
12Ghazal

Sherشعر

See all 19

Popular Sher & Shayari

38 total

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

bataa kyaa kyaa tujhe ai shauq-e-hairaan yaad aataa hai

بتا کیا کیا تجھے اے شوق حیراں یاد آتا ہے وہ جان آرزو وہ راحت جاں یاد آتا ہے پریشاں خاطری حد سے گزرتی ہے تو وحشت کو کسی کا عالم زلف پریشاں یاد آتا ہے گزرتا ہے کبھی جب چودھویں کا چاند بدلی سے مہین آنچل میں ان کا روئے تاباں یاد آتا ہے اندھیری رات میں جگنو چمکتے ہیں تو رہ رہ کر دوپٹے کے ستاروں کا چراغاں یاد آتا ہے افق پر پھیلتی ہیں سرخیاں جب صبح تازہ کی کوئی سینہ پس چاک گریباں یاد آتا ہے کلی کو پھول بنتے دیکھ کر عہد بہاراں میں کوئی چہرہ بہت نوخیز و خنداں یاد آتا ہے غزل جب چھیڑ دیتا ہے کوئی عہد جوانی کی کسی کا جسم موزون و غزل خواں یاد آتا ہے وہ طوفاں کروٹیں لیتا تھا جو اک جسم رعنا میں وہ طوفاں ہم کناری کا وہ طوفاں یاد آتا ہے وہ ارماں جو کسی کے شوخ ہونٹوں پر مچلتا تھا وہ ارماں بوسۂ لب کا وہ ارماں یاد آتا ہے وفور شوق سے خود ہاتھ اپنے چوم لیتا ہوں وفور شوق میں جب ان کا داماں یاد آتا ہے بہت کچھ یاد آتا ہے رئیسؔ ان کی جدائی میں مگر جیسے کوئی خواب‌ پریشاں یاد آتا ہے

غزل · Ghazal

dayaar-e-shaahid-e-bilqis-adaa se aayaa huun

دیار شاہد بلقیس ادا سے آیا ہوں میں اک فقیر ہوں شہر سبا سے آیا ہوں جہان نو کی طلب اور اس خرابے میں سواد اصطخر و نینوا سے آیا ہوں شب سیاہ خزاں کے سموم و صرصر تک نگار خانۂ صبح و صبا سے آیا ہوں ابھی کہاں ہے مجھے نوحہ‌ و نوا کا شعور کہ ایک ناحیۂ بے نوا سے آیا ہوں مرے رموز کا عرفاں کسے نصیب کہ میں سروش روح ازل ہوں سما سے آیا ہوں دمک رہی ہے زمان و مکاں کی پیشانی ستارۂ ابدی ہوں خلا سے آیا ہوں تمہارے غنچہ و گل سے غرض نہیں مجھ کو ادھر اشارۂ باد صبا سے آیا ہوں

غزل · Ghazal

ye faqat shorish-e-havaa to nahin

یہ فقط شورش ہوا تو نہیں کوئی مجھ کو پکارتا تو نہیں بول اے اختر غنودۂ‌ صبح کوئی راتوں کو جاگتا تو نہیں سن کہ یہ مدد و جزر‌ ساحل بحر ماجراؤں کا ماجرا تو نہیں ذہن پر ایک کھردری سی لکیر کنکھجورے کا راستا تو نہیں ریت پر چڑھ رہی ہے ریت کی تہہ بابل و مصر و نینوا تو نہیں نوک ہر خار و خس ہے خوں آلود روح صحرا برہنہ پا تو نہیں اے مری جان مبتلا کے سکوں تو کوئی جان مبتلا تو نہیں تیرے جسم حسیں میں خوابیدہ باغ جنت کا اژدہا تو نہیں

غزل · Ghazal

tiraa khayaal ki khvaabon mein jin se hai khushbu

ترا خیال کہ خوابوں میں جن سے ہے خوشبو وہ خواب جن میں مرا پیکر خیال ہے تو ستا رہی ہیں مجھے بچپنے کی کچھ یادیں وہ گرمیوں کے شب و روز دوپہر کی وہ لو پچاس سال کی یادوں کے نقش اور نقشے وہ کوئی نصف صدی قبل کا زمانہ ہو وہ گرم و خشک مہینے وہ جیٹھ وہ بیساکھ کہ حافظے میں کبھی آہ ہیں کبھی آنسو وہ زائیں زائیں کے کتنے مہیب زناٹے؟ فضا کا ہول ہوا کی وہ وحشتیں ہر سو وہ سائیں سائیں کے کتنے عجیب سناٹے؟ وہ سنسنی وہ پراسرار ایک عالم ہو وہ دوپہر وہ ہبوڑے وہ سینگی بائی کوٹ فضائے شعلہ بجان و ہوائے آتش خو وہ کھڑکیوں میں ہواؤں کی سرکشی تندی وہ بام و در پہ مسلط جہنمی جادو وہ پیچ و تاب بگولوں کا میرے آنگن میں چڑیلیں گھر میں گھس آئی ہیں کھول کر گیسو وہ لو کا زور کہ سارے کواڑ بجتے ہیں کہ جیسے لشکر جنات کا عمل ہر سو وہ شور جیسے بگولوں میں بھوت ہوں رقصاں وہ قاہ قاہ وہ ہا ہا وہ ہونک وہ ہو ہو گزر رہا ہے تصور سے جیٹھ کا موسم اور اس سمے میں مجھے یاد آ رہا ہے تو

غزل · Ghazal

siyaah hai dil-e-giti siyaah-tar ho jaae

سیاہ ہے دل گیتی سیاہ تر ہو جائے خدا کرے کہ ہر اک شام بے سحر ہو جائے کچھ اس روش سے چلے باد برگ ریز خزاں کہ دور تک صف اشجار بے ثمر ہو جائے بجائے رنگ رگ غنچہ سے لہو ٹپکے کھلے جو پھول تو ہر برگ گل شرر ہو جائے زمانہ پی تو رہا ہے شراب دانش کو خدا کرے کہ یہی زہر کارگر ہو جائے کوئی قدم نہ اٹھے سوئے منزل مقصود دعا کرو کہ ہر اک راہ پر خطر ہو جائے یہ لوگ رہ گزر زیست سے بھٹک جائیں اجل قوافل ہستی کی ہم سفر ہو جائے بہ قدر یک دو نفس بھی گراں ہے زحمت زیست حیات نوع بشر اور مختصر ہو جائے

غزل · Ghazal

'rais' ham jo su-e-kucha-e-habib chale

رئیسؔ ہم جو سوئے کوچۂ حبیب چلے ہمارے ساتھ ہزاروں بلا نصیب چلے رفاقتوں کی سعادت لئے رفیق آئے رقابتوں کی نحوست لئے رقیب چلے جو قافلے کہ ہماری طلب میں نکلے تھے کبھی بعید سے گزرے کبھی قریب چلے عقب میں حادثۂ صبح و شام کے عفریت جلو میں گردش ایام کے نقیب چلے جہاں کو جن کے نصیبے پہ رشک آتا تھا نکل کے اپنے گھروں سے وہ بد نصیب چلے یہ چل چلاؤ عجیب و غریب تھا اے دوست غریب لوگ سوئے عالم عجیب چلے

Similar Poets