"maut se pahle jahan men chand sanson ka azaab zindagi jo qarz tera tha ada kar aa.e hain"

Haider Qureshi
Haider Qureshi
Haider Qureshi
Sherشعر
maut se pahle jahan men chand sanson ka azaab
موت سے پہلے جہاں میں چند سانسوں کا عذاب زندگی جو قرض تیرا تھا ادا کر آئے ہیں
chand ban kar chamakne vaale ne
چاند بن کر چمکنے والے نے مجھ کو سورج مثال کر ڈالا
vasl ki shab thi aur ujale kar rakkhe the
وصل کی شب تھی اور اجالے کر رکھے تھے جسم و جاں سب اس کے حوالے کر رکھے تھے
dil ko to bahut pahle se dhaDka sa laga tha
دل کو تو بہت پہلے سے دھڑکا سا لگا تھا پانا ترا شاید تجھے کھونے کے لیے ہے
darakhton par parinde lauT aana chahte hain
درختوں پر پرندے لوٹ آنا چاہتے ہیں خزاں رت کا گزر جانا ضروری ہو گیا ہے
paani men bhi chand sitare ug aate hain
پانی میں بھی چاند ستارے اگ آتے ہیں آنکھ سے دل تک وہ زرخیزی ہو جاتی ہے
Popular Sher & Shayari
12 total"chand ban kar chamakne vaale ne mujh ko suraj-misal kar Daala"
"vasl ki shab thi aur ujale kar rakkhe the jism o jaan sab us ke havale kar rakkhe the"
"dil ko to bahut pahle se dhaDka sa laga tha paana tira shayad tujhe khone ke liye hai"
"darakhton par parinde lauT aana chahte hain khizan-rut ka guzar jaana zaruri ho gaya hai"
"paani men bhi chand sitare ug aate hain aankh se dil tak vo zarkhezi ho jaati hai"
vasl ki shab thi aur ujaale kar rakkhe the
jism o jaan sab us ke havaale kar rakkhe the
maut se pahle jahaan mein chand saanson kaa azaab
zindagi jo qarz teraa thaa adaa kar aae hain
darakhton par parinde lauT aanaa chaahte hain
khizaan-rut kaa guzar jaanaa zaruri ho gayaa hai
paani mein bhi chaand sitaare ug aate hain
aankh se dil tak vo zarkhezi ho jaati hai
chaand ban kar chamakne vaale ne
mujh ko suraj-misaal kar Daalaa
dil ko to bahut pahle se dhaDkaa saa lagaa thaa
paanaa tiraa shaayad tujhe khone ke liye hai
Ghazalغزل
dilon mein dushmanon ke is tarah Dar bol uThte hain
دلوں میں دشمنوں کے اس طرح ڈر بول اٹھتے ہیں گواہی کو چھپاتے ہیں تو منظر بول اٹھتے ہیں مری سچائی میری بے گناہی سب پہ ظاہر ہے کہ اب جنگل کنویں صحرا سمندر بول اٹھتے ہیں وہ پتھر دل سہی لیکن ہمارا بھی یہ دعویٰ ہے ہمارے لب جنہیں چھو لیں وہ پتھر بول اٹھتے ہیں بدل جاتے ہیں اک لمحے میں ہی تاریخ کے دھارے کبھی جو موج میں آ کر قلندر بول اٹھتے ہیں یہ کیا جادو ہے وہ جب بھی مرے ملنے کو آتا ہے خوشی سے گھر کے سب دیوار اور در بول اٹھتے ہیں زبان حق کسی کے جبر سے بھی رک نہیں سکتی کہ نیزے کی انی پر بھی ٹنگے سر بول اٹھتے ہیں لبوں کی قید سے کیا فرق آیا دل کی باتوں میں کہ سارے لفظ آنکھوں سے ابھر کر بول اٹھتے ہیں عجب اہل ستم اہل وفا میں ٹھن گئی حیدرؔ ستم کرتے ہیں وہ اور یہ مکرر بول اٹھتے ہیں
fasl-e-gham ki jab nau-khezi ho jaati hai
فصل غم کی جب نوخیزی ہو جاتی ہے درد کی موجوں میں بھی تیزی ہو جاتی ہے پانی میں بھی چاند ستارے اگ آتے ہیں آنکھ سے دل تک وہ زرخیزی ہو جاتی ہے اندر کے جنگل سے آ جاتی ہیں یادیں اور فضا میں صندل بیزی ہو جاتی ہے خوشیاں غم میں بالکل گھل مل سی جاتی ہیں اور نشاط میں غم انگیزی ہو جاتی ہے شیریں سے لہجے میں بھر جاتی ہے تلخی حیلہ جوئی جب پرویزی ہو جاتی ہے بے حد پاور جس کو بھی مل جائے اس کی طرز یزیدی یا چنگیزی ہو جاتی ہے غزلوں میں ویسے تو سچ کہتا ہوں لیکن کچھ نہ کچھ تو رنگ آمیزی ہو جاتی ہے حسن تمہارا تو ہے سچ اور خیر سراپا ہم سے ہی بس شر انگیزی ہو جاتی ہے ظاہر کا پردہ ہٹنے والی منزل پر سالک سے بھی بد پرہیزی ہو جاتی ہے رومیؔ کو حیدرؔ جب بھی پڑھنے لگتا ہوں باطن کی دنیا تبریزی ہو جاتی ہے
'ajib karb-o-balaa ki hai raat aankhon mein
عجیب کرب و بلا کی ہے رات آنکھوں میں سسکتی پیاس لبوں پر فرات آنکھوں میں تمہیں تو گردش دوراں نے روند ڈالا ہے رہی نہ کوئی بھی پہلی سی بات آنکھوں میں قطار وار ستاروں کی جگمگاہٹ سے سجا کے لائے ہیں غم کی برات آنکھوں میں پھر اس کو دامن دل میں کہاں کہاں رکھیں سمیٹ سکتے ہیں جو کائنات آنکھوں میں بکھر گئے ہیں ملن کے تمام دن حیدرؔ ٹھہر گئی ہے جدائی کی رات آنکھوں میں
tumhaare ishq mein kis kis tarah kharaab hue
تمہارے عشق میں کس کس طرح خراب ہوئے رہا نہ عالم ہجراں نہ وصل یاب ہوئے بس اتنی بات تھی دو دن کبھی نہ مل پائیں کہیں پہ تپتے ہوئے تھل کہیں چناب ہوئے عجب سزا ہے کہ میرے دعاؤں والے حروف نہ مسترد ہوئے اب تک نہ مستجاب ہوئے ذہانتیں تھیں تری یا اناڑی پن اپنا سوال وصل سے پہلے ہی لا جواب ہوئے حقیقت اتنی ہے اس کے مرے تعلق کی کسی کے دکھ تھے مرے نام انتساب ہوئے جسے سمجھتے تھے صحرا وہ اک سمندر تھا کھلا وہ شخص تو ہم کیسے آب آب ہوئے نہ آیا ڈھنگ ہمیں کوئی عشق کا حیدرؔ نہ دل کے زخموں کے ہم سے کبھی حساب ہوئے
ik khvaab ki jo aankh bhigone ke liye hai
اک خواب کہ جو آنکھ بھگونے کے لیے ہے اک یاد کہ سینے میں چبھونے کے لیے ہے اک زخم کہ سب زخم بھلا ڈالے ہیں جس نے اک غم کہ جو تا عمر بھلانے کے لیے ہے اک روح کہ سونا ہے مگر میل بھری بھی اک آگ اسی میل کو دھونے کے لیے ہے آنکھوں میں ابھی دھول سی لمحوں کی جمی ہے دل میں کوئی سیلاب سا رونے کے لیے ہے دل کو تو بہت پہلے سے دھڑکا سا لگا تھا پانا ترا شاید تجھے کھونے کے لیے ہے کشتی کا یہ ہچکولا یہ ملاح کا چکر کشتی کو نہیں مجھ کو ڈبونے کے لیے ہے تقدیر سے لڑ سکتا ہے کوئی کہاں حیدرؔ وہ حادثہ ہونا ہے جو ہونے کے لیے ہے
vasl ki shab thi aur ujaale kar rakkhe the
وصل کی شب تھی اور اجالے کر رکھے تھے جسم و جاں سب اس کے حوالے کر رکھے تھے جیسے یہ پہلا اور آخری میل ہوا ہو حال تو دونوں نے بے حالے کر رکھے تھے کھوج رہے تھے روح کو جسموں کے رستے سے طور طریقے پاگلوں والے کر رکھے تھے ہم سے نادانوں نے عشق کی برکت ہی سے کیسے کیسے کام نرالے کر رکھے تھے وہ بھی تھا کچھ ہلکے ہلکے سے میک اپ میں بال اپنے ہم نے بھی کالے کر رکھے تھے اپنے آپ ہی آیا تھا پھر مرہم بن کر جس نے ہمارے دل میں چھالے کر رکھے تھے حیدرؔ اپنی تاثیریں لے آئے آخر ہجر میں ہم نے جتنے نالے کر رکھے تھے





