SHAWORDS
Riyaz Khairabadi

Riyaz Khairabadi

ریاضؔ خیرآبادی

रियाज़ ख़ैराबादी

poet
112Shayari
100Ghazal
2.1KViews

Popular Shayari

112 total

Ghazalغزل

See all 100
غزل · Ghazal

اس عشق جنوں خیز میں کیا کیا نہیں ہوتا دیوانہ ہے جو قیس سے لیلیٰ نہیں ہوتا کچھ حشر لحد پر ابھی برپا نہیں ہوتا آئے ہو تو ٹھہرو کوئی زندہ نہیں ہوتا کیوں کر یہ کہوں حسن کا نشہ نہیں ہوتا ہوتا تو بہت ہے مگر اتنا نہیں ہوتا کچھ کہئے تو شرما کے جھکا لیتے ہیں گردن بھولے سے بھی اب وعدۂ فردا نہیں ہوتا ملتے ہیں وہ دل سرخ ہوئی جاتی ہے چٹکی نازک ہیں بہت خون تمنا نہیں ہوتا دیتی ہے مزا مے کا ہمیں تلخئ‌ توبہ جب ہاتھ میں پیمانۂ صہبا نہیں ہوتا وہ حشر کے دن کشتے کو ٹھکرا چکے سو بار کچھ جان سی پڑ جاتی ہے زندہ نہیں ہوتا بولی یہ تمنا جو رکے وہ در دل پر گھر آپ کا ہے آپ سے پردا نہیں ہوتا تیروں کو جگہ دیتے ہیں جو سینے میں اپنے ان لوگوں کے اے جان کلیجہ نہیں ہوتا صحرا سے قدم گھر کی طرف خاک اٹھاؤں کانٹے سے جدا پاؤں کا چھالا نہیں ہوتا بیٹھے نظر آتے ہیں وہی تیری گلی میں جن کا کہیں دنیا میں ٹھکانا نہیں ہوتا فرقت میں ہے کیوں نزع کی تکلیف گوارا مر جائیں ریاضؔ آپ سے اتنا نہیں ہوتا

is ishq-e-junun-khez mein kyaa kyaa nahin hotaa

2 views

غزل · Ghazal

آپ کے پہلو میں دشمن سو چکا جائیے ہونا تھا جو کچھ ہو چکا ہنستی ہے تقدیر ہنس لے ان کے ساتھ دل مجھے میں اپنے دل کو رو چکا ہاتھ رکھا میں نے سوتے میں کہاں بولے وہ جھنجھلا کے اب میں سو چکا حشر میں آنا تھا پہلے سے ہمیں ہم کب آئے جب تماشا ہو چکا خار اس دل نے مجھے کیا کیا دیے میرے حق میں یہ بھی کانٹے ہو چکا اب جو گھٹتا ہے گھٹے طوفان اشک اپنی قسمت کا لکھا میں دھو چکا بک گیا عمامہ ہو کر رہن مے بوجھ اترا سر سے جھگڑا تو چکا توبہ کی عصیاں سے اب پوچھے گا کون جمع کی تھی جتنی دولت کھو چکا آفتاب حشر کب چمکا ریاضؔ داغ مے دامن سے جب میں دھو چکا

aap ke pahlu mein dushman so chukaa

2 views

غزل · Ghazal

رہ گیا پر وہ ترے چاک گریبانوں کا حشر میں کوئی بھی پرساں نہیں دیوانوں کا راہ چلتے ہوئی ہے دولت دیدار نصیب اس میں احسان نہیں آپ کے دربانوں کا یاد آتی ہیں جنوں خیز ہوائیں ان کی اب نہ وہ ہم ہیں نہ عالم وہ بیابانوں کا ارے دیوانے ذرا چل کے انہیں دیکھ تو لے مے کدوں میں ہے مزا شیخ پری خانوں کا بت خدا ہوں کہ نہ ہوں ہے مگر اتنی توقیر بت کدہ آج بھی کعبہ ہے مسلمانوں کا چشم ساقی کی طرح ہے اثر انداز اے شیخ بعد توبہ کے چھلکنا بھرے پیمانوں کا چٹکیاں آپ نہ لیں مہندی لگے ہاتھوں سے کام دیں گے نہ یہ ناخن کبھی پیکانوں کا قحط جائے بھی مگر یہ نہیں جانے کے ریاضؔ کہ مرے گھر ہے اجارہ مرے مہمانوں کا

rah gayaa par vo tire chaak garebaanon kaa

2 views

غزل · Ghazal

حنا یہ کہتی ہے لو بے زبان پا کے مجھے جب آئے آپ گئے چوریاں لگا کے مجھے نہ دیکھتے تھے کبھی جو نظر اٹھا کے مجھے وہ دیکھتے ہیں دم حشر مسکرا کے مجھے حنا یہ کہتی ہے ان سے سنا سنا کے مجھے نہیں شہیدوں میں ملنا لہو لگا کے مجھے نگہ سے بڑھ کے ہیں گستاخ دست شوق مرے نہ کوسیے گا ذرا ہاتھ اٹھا اٹھا کے مجھے مرا رقیب مجھی سا رکھا دیا مجھ کو نکالی چھیڑ کی شکل آئنہ دکھا کے مجھے دہائیاں ہیں شب وصل اپنی شوخی سے کہ لوٹے لیتے ہیں جوبن حسین پا کے مجھے ذرا سے درد نے ڈھائی ہیں آفتیں کیا کیا پٹک دیا ہے زمیں پر اٹھا اٹھا کے مجھے کہا جو ان سے چراغ لحد جلاتے جاؤ ہوا سے تیز گئے وہ ہوا بتا کے مجھے کنار غیر میں راتیں تڑپ تڑپ کے کٹیں رہے نہ چین سے وہ قبر میں سلا کے مجھے صبا نہ داغ لگا تو یہ اپنے دامن کو کہے گی شمع لحد کیا ملا بجھا کے مجھے میں اپنے خون کا بیڑا اٹھاؤں خود کیونکر وہ پان دیتے ہیں شوخی سے مسکرا کے مجھے عروس‌‌ گور کے پہلو میں چین پاؤں گا وہی سلائے گی آغوش میں دبا کے مجھے کہا تھا کس نے کہ لاکھوں کے دل کرو پامال جو کہہ رہے ہو کہ لالے پڑے حنا کے مجھے نکال دوں گا شب وصل بل نزاکت کے ڈرا لیا ہے بہت تیوریاں چڑھا کے مجھے منا لیا ترے روٹھے ہوئے کو ظالم نے ہنسا دیا ترے ناوک نے گدگدا کے مجھے یہ ہاتھ باندھ کے کہتا ہے دل کے زخم کا چور حضور یاد ہیں سب ہتکھنڈے حنا کے مجھے وہ آ کے شرم سے کہتے ہیں میری تربت پر نہ دیکھے سبزۂ خوابیدہ سر اٹھا کے مجھے یہ کیا مذاق فرشتوں کو آج سوجھا ہے ہجوم حشر میں لے آئے ہیں بلا کے مجھے مٹے ہوؤں کے مٹانے کو یہ بھی آندھی ہیں رہیں گے نقش قدم خاک میں ملا کے مجھے کہوں گا حشر کے چھوٹے سے دن میں کیا کیا بات بہت ہی حوصلے ہیں عرض مدعا کے مجھے قیامت اور قیامت میں آئی قہر ہوا بتوں نے چھیڑ دیا سامنے خدا کے مجھے ادا شناسوں کو مرتے بھی بن نہیں پڑتی پیام آتے ہیں کب سے مری قضا کے مجھے ستانے والو قیامت بھی آئی جاتی ہے جفا کے لطف تمہیں آئیں گے وفا کے مجھے تمام عمر کے شکوے مٹائے جاتے ہیں وہ دیکھتے ہیں دم نزع مسکرا کے مجھے کہاں وہ نور کی صورت وہ نور کی آواز ریاضؔ کون سنائے غزل یہ گا کے مجھے

hinaa ye kahti hai lo be-zabaan paa ke mujhe

1 views

غزل · Ghazal

پایا جو تجھے تو کھو گئے ہم بیدار ہوئے تو سو گئے ہم دل میں لئے غیر کو گئے ہم ایک آئے عدم سے دو گئے ہم محشر میں لگی بجھانے آئے شیخ سیدھے تسنیم کو گئے ہم سمجھے نہ وہ زخم و داغ دل ہے لے کر نئے پھول دو گئے ہم بھر کر دم نزع اک دم سرد جنت کی ہوا میں سو گئے ہم اب دشت نور و عشق جو ہو اس راہ میں کانٹے بو گئے ہم کوثر کا تھا ذکر حوض مے پر ہم کہہ کے گرے کہ لو گئے ہم اللہ بچائے دخت رز سے یہ آئی کہ مست ہو گئے ہم اب کشمکش حساب کیسی کچھ حشر میں آ کے کھو گئے ہم سو کعبہ دین تھے جلوہ افروز خم خانہ میں آج جو گئے ہم میخانے میں جب کبھی ہم آئے داڑھی رو کر بھگو گئے ہم اس حج میں وہ بت بھی ساتھ ہوگا یہ سچ ہے ریاضؔ تو گئے ہم

paayaa jo tujhe to kho gae ham

1 views

غزل · Ghazal

ریاضؔ اک چلبلا سا دل ہو ہم ہوں حسینوں کی بھری محفل ہو ہم ہوں کہا لیلیٰ سے کس نے دل ہو تو ہو کبھی تو ہو ترا محمل ہو ہم ہوں مزا دے جائے ہم کو خواب غفلت مزا آ آئے تم غافل ہو ہم ہوں ذرا ہم بھی سنیں تم نے کہا کیا عدو سے جب سر محفل ہو ہم ہوں لئے حلقے میں ہوں سب اہل محشر کمر میں ہاتھ ہو قاتل ہو ہم ہوں بنے تل آنکھ کا گھٹ کر شب وصل ہماری آنکھ میں یہ تل ہو ہم ہوں تری الٹی چھری دل میں اتر جائے عدو جب اس طرح بسمل ہو ہم ہوں یہ تھک کر بیٹھنا ہو وجہ آرام مزا ہے سختیٔ منزل ہو ہم ہوں نہ خلوت چاہئے ہم کو نہ معشوق ریاضؔ اک آرزوئے دل ہو ہم ہوں

'riyaaz' ik chulbulaa saa dil ho ham hon

1 views

Similar Poets