SHAWORDS
Abdul Hamid Adam

Abdul Hamid Adam

Abdul Hamid Adam

Abdul Hamid Adam

poet
111Shayari
81Ghazal

Popular Shayari

111 total

Ghazalغزل

See all 81
غزل · Ghazal

دعائیں دے کے جو دشنام لیتے رہتے ہیں وہ جام دیتے ہیں اور جام لیتے رہتے ہیں خفا نہ ہو کہ ہمارا قصور کوئی نہیں بلا ارادہ ترا نام لیتے رہتے ہیں ہجوم غم میں ترا نام بھول بھی جائے تو پھر بھی جیسے ترا نام لیتے رہتے ہیں یہ نام ایسا ہے بالکل ہی گر نہ لیں اس کو تو پھر بھی ہم سحر و شام لیتے رہتے ہیں تری نگاہ کا کیا قرض ہم اتاریں گے تری نظر سے بڑے کام لیتے رہتے ہیں میں وہ مسافر روشن خیال ہوں یارو جو راستے میں بھی آرام لیتے رہتے ہیں غم حیات کی تعلیم و تربیت کے لیے تری نگاہ کے احکام لیتے رہتے ہیں پڑی ہے یوں ہمیں بد نامیوں کی چاٹ عدمؔ کہ مسکرا کے ہر الزام لیتے رہتے ہیں

duaaein de ke jo dushnaam lete rahte hain

41 views

غزل · Ghazal

فقیر کس درجہ شادماں تھے حضور کو کچھ تو یاد ہوگا حضور کس درجہ مہرباں تھے حضور کو کچھ تو یاد ہوگا وہ مے کدہ تھا صنم کدہ تھا کہ باب جنت کھلے ہوئے تھے تمام شب آپ ہم کہاں تھے حضور کو کچھ تو یاد ہوگا وہاں بہاروں کے زمزمے تھے وہاں نگاروں کے جمگٹھے تھے وہاں ستاروں کے کارواں تھے حضور کو کچھ تو یاد ہوگا پہن کے پھولوں کے تاج سر پر حسین و شاداب مسندوں پر سبو بکف کون حکمراں تھے حضور کو کچھ تو یاد ہوگا مراحل راحت و اماں تھے مسائل ماہ و کہکشاں تھے مشاغل حرف و داستاں تھے حضور کو کچھ تو یاد ہوگا اگرچہ شوق و طلب تھے بے ساختہ ہم آغوشیوں پہ مائل کئی تکلف بھی درمیاں تھے حضور کو کچھ تو یاد ہوگا لطیف شامیں طبیعتوں کے ضمیر سے خوب آشنا تھیں حسیں سویرے مزاج داں تھے حضور کو کچھ تو یاد ہوگا نظر کی حد تک محیط تھا سلسلہ مہکتے ہوئے گلوں کا گلوں میں پریوں کے گھر نہاں تھے حضور کو کچھ تو یاد ہوگا عجیب سانچے کی کشتیاں بہہ رہی تھیں لہروں کے زیر و بم پر عجیب صورت کے بادباں تھے حضور کو کچھ تو یاد ہوگا الوہیت آپ اس حسیں اتفاق پر مسکرا رہی تھی صنم خداؤں کے میہماں تھے حضور کو کچھ تو یاد ہوگا جو واقعے تھے وہ گونجتے زمزموں کے مانند موجزن تھے جو خواب تھے سرو بوستاں تھے حضور کو کچھ تو یاد ہوگا کہیں کہیں سلسبیل و کوثر کی جوت موجود تھی زمیں پر کہیں کہیں عرش و آسماں تھے حضور کو کچھ تو یاد ہوگا شب محبت حضور کی کاکلوں کے کھلنے کے سلسلے میں عدمؔ کے اصرار کیا جواں تھے حضور کو کچھ تو یاد ہوگا

faqir kis darja shaadmaan the huzur ko kuchh to yaad hogaa

41 views

غزل · Ghazal

دل ڈوب نہ جائیں پیاسوں کے تکلیف ذرا فرما دینا اے دوست کسی مے خانے سے کچھ زیست کا پانی لا دینا طوفان حوادث سے پیارے کیوں اتنا پریشاں ہوتا ہے آثار اگر اچھے نہ ہوئے اک ساغر مے چھلکا دینا ظلمات کے جھرمٹ ویسے تو بجلی کی چمک سے ڈرتے ہیں پر بات اگر کچھ بڑھ جائے تاروں سے سبو ٹکرا دینا ہم حشر میں آتے تو ان کی تشہیر کا باعث ہو جاتے تشہیر سے بچنے والوں کو یہ بات ذرا سمجھا دینا میں پیرہن ہستی میں بہت عریاں سا دکھائی دیتا ہوں اے موت مری عریانی کو ملبوس عدمؔ پہنا دینا

dil Duub na jaaein pyaason ke taklif zaraa farmaa denaa

41 views

غزل · Ghazal

مجھ سے چناں چنیں نہ کرو میں نشے میں ہوں میں جو کہوں نہیں نہ کرو میں نشے میں ہوں انساں نشے میں ہو تو وہ چھپتا نہیں کبھی ہر چند تم یقیں نہ کرو میں نشے میں ہوں یہ وقت ہے فراخ دلی کے سلوک کا تنگ اپنی آستیں نہ کرو میں نشے میں ہوں بے اختیار چوم نہ لوں میں کہیں انہیں آنکھوں کو خشمگیں نہ کرو میں نشے میں ہوں ہر چند میرے حق میں ہے یہ رحمت خدا آنچل مرے قریں نہ کرو میں نشے میں ہوں نشے میں سرخ رنگ تہی از خطر نہیں؟ ہونٹوں کو احمریں نہ کرو میں نشے میں ہوں دیکھو میں کہہ رہا ہوں تمہیں پے بہ پے عدمؔ مجھ کو بہت حزیں نہ کرو میں نشے میں ہوں

mujh se chunaan-chunin na karo main nashe main huun

41 views

غزل · Ghazal

یہ کیسی سرگوشیٔ ازل ساز دل کے پردے ہلا رہی ہے مری سماعت کھنک رہی ہے کہ تیری آواز آ رہی ہے حوادث روزگار میری خوشی سے کیا انتقام لیں گے کہ زندگی وہ حسین ضد ہے کہ بے سبب مسکرا رہی ہے ترا تبسم فروغ ہستی تری نظر اعتبار مستی بہار اقرار کر رہی ہے شراب ایمان لا رہی ہے فسانہ خواں دیکھنا شب زندگی کا انجام تو نہیں ہے کہ شمع کے ساتھ رفتہ رفتہ مجھے بھی کچھ نیند آ رہی ہے اگر کوئی خاص چیز ہوتی تو خیر دامن بھگو بھی لیتے شراب سے تو بہت پرانے مذاق کی باس آ رہی ہے خرد کے ٹوٹے ہوئے ستارے عدمؔ کہاں تک چراغ بنتے جنوں کی روشن روش ہے آخر دلوں کو رستے دکھا رہی ہے

ye kaisi sargoshi-e-azal saaz-e-dil ke parde hilaa rahi hai

41 views

غزل · Ghazal

ہر پری وش کو خدا تسلیم کر لیتا ہوں میں کتنا سودائی ہوں کیا تسلیم کر لیتا ہوں میں مے چھٹی پر گاہے گاہے اب بھی بہر احترام دعوت آب و ہوا تسلیم کر لیتا ہوں میں بے وفا میں نے محبت سے کہا تھا آپ کو لیجیے اب با وفا تسلیم کر لیتا ہوں میں جو اندھیرا تیری زلفوں کی طرح شاداب ہو اس اندھیرے کو ضیا تسلیم کر لیتا ہوں میں جرم تو کوئی نہیں سرزد ہوا مجھ سے حضور باوجود اس کے سزا تسلیم کر لیتا ہوں میں جب بغیر اس کے نہ ہوتی ہو خلاصی اے عدمؔ رہزنوں کو رہنما تسلیم کر لیتا ہوں میں

har pari-vash ko khudaa taslim kar letaa huun main

41 views

Similar Poets