SHAWORDS
Ahmad Shahryar

Ahmad Shahryar

Ahmad Shahryar

Ahmad Shahryar

poet
15Shayari
14Ghazal

Popular Shayari

15 total

Ghazalغزل

See all 14
غزل · Ghazal

اشک بھیجیں موج ابھاریں ابر جاری کیجئے مہرباں سیل بلا کی آبیاری کیجئے اے چراغ طاق جاناں اے ہوائے کوئے دوست اپنی کیفیت ذرا ہم پر بھی طاری کیجئے شام ہجراں میں ستاروں کو نہ ٹھہرائیں شریک آئینہ خانے میں آ کر خود شماری کیجئے اشک باری سینہ چاکی دل خراشی ہو چکی لیجے صاحب عشق کا فرمان جاری کیجئے ہونٹ کہتے ہیں بہا دیجے لہو اشعار میں زلف کہتی ہے میاں ترکیب بھاری کیجئے دیکھیے ماہ و ستارہ گھومئے ارض و سما چلئے باہر باد خود سر کی سواری کیجئے عشق کا اگلا پڑاؤ میں ہوں میں دنیا پرست المدد اے قیس اے فرہاد یاری کیجئے یوں تو ملنے سے رہی یہ سلطنت سو شہریار پاؤں پڑ کر روئیے منت گزاری کیجئے

ashk bhejein mauj ubhaarein abr jaari kijiye

40 views

غزل · Ghazal

نئے زمانوں کی چاپ تو سر پہ آ کھڑی تھی مری سماعت گزشتہ ادوار میں پڑی تھی ادھر دئیے کا بدن ہوا سے تھا پارہ پارہ ادھر اندھیرے کی آنکھ میں اک کرن گڑی تھی فلک پہ تھا آتشیں درختوں کا ایک جنگل اور ان درختوں کے بیچ تاریک جھونپڑی تھی سمائی کس طرح میری آنکھوں کی پتلیوں میں وہ ایک حیرت جو آئینے سے بہت بڑی تھی جسے پرویا تھا اپنے ہاتھوں سے تیرے غم نے صدائے گریہ میں ہچکیوں کی عجب لڑی تھی ہماری پلکوں پہ رقص کرتے ہوئے شرارے اور آسماں میں کہیں ستاروں کی پھلجڑی تھی طلوع صبح ہزار خورشید کی دعا پر بجھے چراغوں کی راکھ دامن پہ آ پڑی تھی سبھی غمیں تھے مرے پیالے میں زہر پا کر میں مطمئن تھا کہ میری تکمیل کی گھڑی تھی سوال رخ گلستاں میں آیا تو پھول ٹھہرا لبوں کی حسرت سخن میں پہنچی تو پنکھڑی تھی یہ لوگ تو ان دنوں بھی ناخوش تھے شہریاراؔ کہ جن دنوں میرے پاس جادو کی اک چھڑی تھی

nae zamaanon ki chaap to sar pe aa khaDi thi

40 views

غزل · Ghazal

آئینہ بن کے اپنا تماشا دکھائیں ہم یوں سامنے رہیں کہ نظر بھی نہ آئیں ہم ممکن ہے دور جشن چراغاں ہو جب یہاں وہ تیرگی بڑھے کہ صحیفے جلائیں ہم درپیش ہے گزشتہ رتوں کا سفر ہمیں حیرت نہ کر کہ لوٹ کے واپس نہ آئیں ہم توفیق سیر باغ اگر ہو تو اب کی شام دل کی جگہ شجر پہ پرندے بنائیں ہم خاموش ہو رہو کہ سر شہر آرزو افتاد وہ پڑی ہے کہ اب کیا بتائیں ہم

aaina ban ke apnaa tamaashaa dikhaaein ham

40 views

غزل · Ghazal

یادوں کی تجسیم پہ محنت ہوتی ہے بیکاری بھرپور مشقت ہوتی ہے ایسا خالی اور اتنا گنجان آباد آئینے کو دیکھ کے حیرت ہوتی ہے دیواروں کا اپنا صحرا ہوتا ہے اور کمروں کی اپنی وحشت ہوتی ہے اس کو یاد کرو شدت سے یاد کرو اس سے تنہائی میں برکت ہوتی ہے بچپن جوبن اور بڑھاپا اور پھر موت سب چلتے رہنے کی عادت ہوتی ہے جینا تو بس لفظ ہے اک بے معنی لفظ موت سے پہلے موت کی فرصت ہوتی ہے ایسی آزادی اب اور کہاں ہوگی عشق میں سب کرنے کی اجازت ہوتی ہے آنسو موتی جگنو تارہ سورج چاند ہر قطرے کی اپنی قسمت ہوتی ہے

yaadon ki tajsim pe mehnat hoti hai

40 views

غزل · Ghazal

وہ مر گیا صدائے نوحہ گر میں کتنی دیر ہے کہ سانحہ تو ہو چکا خبر میں کتنی دیر ہے ہمارے شہر کی روایتوں میں ایک یہ بھی تھا دعا سے قبل پوچھنا اثر میں کتنی دیر ہے مقابلہ ہے رقص کا بگولا کب کا آ چکا مگر پتا نہیں ابھی بھنور میں کتنی دیر ہے خدائے مہر آسماں اجال دے کہ یوں نہ ہو دئیے کو پوچھنا پڑے سحر میں کتنی دیر ہے ہزار کوفہ و حلب گزر رہے ہیں روز و شب میں جس طرف چلا ہوں اس نگر میں کتنی دیر ہے خرد کی تیز دھوپ میں جنوں کا سائباں کھلا میں بیج بو چکا سو اب شجر میں کتنی دیر ہے ابھی ہمیں گزارنی ہے ایک عمر مختصر مگر ہماری عمر مختصر میں کتنی دیر ہے

vo mar gayaa sadaa-e-nauha-gar mein kitni der hai

40 views

غزل · Ghazal

راز درون آستیں کشمکش بیاں میں تھا آگ ابھی نفس میں تھی شعلہ ابھی زباں میں تھا وہ جو کہیں تھا وہ بھی میں اور جو نہیں تھا وہ بھی میں آپ ہی تھا زمین پر آپ ہی آسماں میں تھا لمس صدائے ساز نے زخم نہال کر دیے یہ تو وہی ہنر ہے جو دست طبیب جاں میں تھا خواب زیاں ہیں عمر کا خواب ہیں حاصل حیات اس کا بھی تھا یقیں مجھے وہ بھی مرے گماں میں تھا خنجر و دشنہ و سناں یہ تو بہانے ہیں میاں آپ نہ شرمسار ہوں زخم سرشت جاں میں تھا حد گماں سے ایک شخص دور کہیں چلا گیا میں بھی وہیں چلا گیا میں بھی گزشتگاں میں تھا

raaz-e-darun-e-aastin kashmakash-e-bayaan mein thaa

40 views

Similar Poets