SHAWORDS
Ashhad Bilal Ibn

Ashhad Bilal Ibn

Ashhad Bilal Ibn

Ashhad Bilal Ibn

poet
9Shayari
9Ghazal

Popular Shayari

9 total

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

گھٹا جب رقص کرتی ہے تو ان کی یاد آتی ہے کبھی جب مینہ برستی ہے تو ان کی یاد آتی ہے کوئی نازک بدن ملتا ہے جب از راه بیگانہ طبیعت بھیگ جاتی ہے تو ان کی یاد آتی ہے ہوا جب لے کے آتی ہے گلابی اجنبی خوشبو کلی سی دل میں کھلتی ہے تو ان کی یاد آتی ہے سویرا لے کے آتا ہے مرے خوابوں کی تعبیریں مگر جب شام ہوتی ہے تو ان کی یاد آتی ہے

ghaTaa jab raqs karti hai to un ki yaad aati hai

غزل · Ghazal

وہ میرا ہے تو کبھی بھی نہ آزماؤں اسے مرا نہیں ہے تو پھر کس لئے ستاؤں اسے وہ ماہتاب سے بڑھ کر کے ہو گیا سورج جو خود بھی آئے تو کیسے گلے لگاؤں اسے میں چاہتا ہوں مرا پیار اس سے ایسا ہو وہ روٹھتا رہے میں بارہا مناؤں اسے تمام دن کی مشقت بھری تکان کے بعد تمام رات محبت سے پھر جگاؤں اسے مرا حبیب مرے عشق میں کھلونا ہو وہ ٹوٹ جائے تو پھر جوڑ کر بناؤں اسے ہوا کرے مرا اس سے مقابلہ یوں بھی اسی سے جیت کے اس کو ہی ہار جاؤں اسے وہ جانتا ہے مرے ہر سوال کا مطلب اگر جواب بھی دے دے تو مان جاؤں اسے یہی دعا ہے مری رب دو جہاں سے بلالؔ کسی سے عہد کروں گر تو پھر نبھاؤں اسے

vo meraa hai to kabhi bhi na aazmaaun use

غزل · Ghazal

زخم فرقت کو تری یاد نے بھرنے نہ دیا غم تنہائی مگر رخ پہ ابھرنے نہ دیا آج بھی نقش ہیں دل پر تری آہٹ کے نشاں ہم نے اس راہ سے اوروں کو گزرنے نہ دیا تو نے جس روز سے چھوڑا اسے خالی رکھا میں نے خوشیوں کو بھی اس دل میں ٹھہرنے نہ دیا ربط جو تجھ سے بنایا سو بنائے رکھا تو ہی کیا تیرا تصور بھی بکھرنے نہ دیا ضبط اتنا کہ چراغوں سے ہوئے محو کلام یاد اتنی کہ تجھے دل سے اترنے نہ دیا آئنے توڑ دئے جو بھی نظر سے گزرے کسی مہ رو کو ترے بعد سنورنے نہ دیا

zakhm-e-furqat ko tiri yaad ne bharne na diyaa

غزل · Ghazal

دل مانتا نہیں ہے منانے کے بعد بھی کرتا ہے ان کو یاد بھلانے کے بعد بھی پیماں کی نذر ہو گئے چین و سکوں، قرار لیکن نبھا نہیں ہے نبھانے کے بعد بھی اک لفظ یاد تھا مجھے ترک وفا مگر بھولا ہوا ہوں ٹھوکریں کھانے کے بعد بھی تسکین دل نصیب نہیں ہے تو کیا ہوا ہونا یہی ہے پیار جتانے کے بعد بھی بجھتی نہیں ہے تشنگی دیدار یار کی نظروں سے ان کے لاکھ پلانے کے بعد بھی اب بھی ہے ہم کو اہل چمن بس انہیں سے پیار اس دل کو بار بار دکھانے کے بعد بھی

dil maantaa nahin hai manaane ke baad bhi

غزل · Ghazal

حیلہ ہے حوالہ ہے یہ عشق نرالا ہے شکوہ بھی شکایت بھی سب پیار کی مالا ہے سوچو تو فقط سورج سمجھو تو اجالا ہے ہے یاد وہی ازبر جو بھولنے والا ہے بچھڑے ہوئے ساتھی ہیں اور پاؤں میں چھالا ہے حالات بھی پس مرده ہونٹوں پہ بھی تالا ہے آئینہ تن تنہا سچ بولنے والا ہے یاروں کی محبت نے اشہدؔ کو سنبھالا ہے

hiila hai havaala hai

غزل · Ghazal

سوچتے ہیں کہ بلبلہ ہو جائیں چند لمحے جئیں فنا ہو جائیں دوستی اپنی دیر پا کر لیں آؤ کچھ دن کو ہم جدا ہو جائیں ساتھ تو ہے تو منزلیں اپنی ورنہ بھٹکیں تو لاپتہ ہو جائیں ہم کہ الفت میں جان تک دے دیں اور بچھڑیں تو سانحہ ہو جائیں رفتہ رفتہ تجھے تراشیں ہم دھیرے دھیرے تری قبا ہو جائیں یاد رکھنا بھی اک عبادت ہے کیوں نہ ہم ان کا حافظہ ہو جائیں

sochte hain ki bulbula ho jaaein

Similar Poets